دنیا کے حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیاجائے توآج کی دنیا میں کسی بھی ملک کے لئے عسکری لحاظ سے طاقت حاصل کرنے اوربغیرایٹم بم کے عزت سے زندگی گزارناممکن نہیں رہاہے لہٰذا اس غنڈہ گردی کوختم ہونا چاہیے کہ صرف چند ممالک توایٹمی ہتھیاررکھ سکتے ہیں باقی نہیں رکھ سکتے۔ اگرایٹمی ہتھیار ایران کے لئے غلط ہیں توپھرایٹمی ہتھیارامریکہ،روس، چین، برطانیہ، فرانس اوردیگرممالک کے پاس بھی ایٹمی ہتھیارنہیں ہونے چاہئیں، پھرتمام ممالک کے ایٹمی ہتھیاروں کو بھی سمندر میں پھینک دیا جائے اور انہیں ضائع کردیا جائے۔
امریکہ کے پاس ایٹم بم، جدید جنگی جہاز اور دنیا کے سب سے خطرناک اورمہلک ہتھیارہیں، اسرائیل کے پاس ایٹم بم اور خطرناک سے خطرناک میزائل اورہتھیار ہیں۔ جبکہ ایران عسکری لحاظ سے ایک کمزور ملک ہے،اس کی فضائیہ ختم ہوچکی، ایران کے پاس کچھ نہیں، اس پر گزشتہ چالیس سال سے پابندیاں ہیں لیکن ایران نے علامہ اقبال کے اس شعر کہ ”مومن ہے توبے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی“ کے مصداق کنکریوں یاجوکچھ بھی ان کے پاس تھا،اس کے ذریعے ایران نے امریکہ اوراسرائیل دونوں کا مقابلہ کیا اور آج تک کررہاہے، ایران کے حق دفاع کوتسلیم کیا جانا چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 401 ویں فکری نشست سے خطاب
10 مئی 2026ء