Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پیپلزپارٹی سندھ میں قتل و غارت گری کی کوشش کررہی ہے، مجھے ہرطرف آگ اورخون نظرآرہا ہے


پیپلزپارٹی سندھ میں قتل و غارت گری کی کوشش کررہی ہے، مجھے ہرطرف آگ اورخون نظرآرہا ہے
 Posted on: 9/3/2026 1

 فوجی اسٹیبلشمنٹ اورصدرآصف زرداری کے درمیان خاموش جنگ شروع ہوچکی ہے
 پیپلزپارٹی سندھ میں قتل و غارت گری کی کوشش کررہی ہے، مجھے ہرطرف آگ اورخون نظرآرہا ہے 
سندھ کے امن پسند اورباشعورعوام پیپلزپارٹی کی ان گھناؤنی کوششوں کا حصہ نہ بنیں 
نئے صوبوں کی بات وفاقی وزیرداخلہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی لیکن سارا نزلہ مہاجروں پر گررہا ہے
 فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خدارا مہاجروں کا بھی سوچیں۔ فکری نشست سے خطاب 
……………………………………………………………………

پاکستان ایک خطرناک ترین دور کی طرف تیزی سے گامزن ہے اورملک کے عوام کوابھی خطرے کا بالکل بھی اندازہ نہیں ہے۔ ملک میں ہرجگہ نئے صوبوں کے قیام کی بحث چل رہی ہے کہ نئے صوبے بنیں گے یا نہیں بنیں گے، اس بحث کو ہرگز ہلکا نہ لیا جائے۔ 
ماضی میں ن لیگ، پیپلزپارٹی اورمولانا فضل الرحمان نے مشترکہ سودے بازی کرکے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم منظور کیں اوراب ملک میں 28 ویں آئینی ترمیم کی بات ہورہی ہے جس میں یہ بھی شامل ہے کہ پاکستان میں نئے صوبے بنائے جائیں، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کا نظام تباہ ہوچکا ہے، لیکن صدرآصف زرداری پاکستان میں نہیں ہیں، ان حالات میں صدرکو ایوان صدر چھوڑنے کاخیال بھی نہیں آنا چاہیے، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق صدرزرداری اپنے بیٹے بلاول زرداری کی شادی کے سلسلے میں آسٹریا گئے تھے اور اس وقت لندن میں ہیں۔میڈیا پر آنے والی خبروں کے مطابق لندن میں صدر آصف زرداری کی وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے ایک گھنٹے طویل ملاقات ہوئی جس میں ون ٹوون بات چیت ہوئی اور محسن نقوی نے صدرزرداری کو اہم پیغام پہنچایا۔ خبرکے مطابق اس ملاقات میں صدرزرداری نے نئے صوبوں کی بحث میں اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا پیغام دیتے ہوئے کہاکہ قومی اتفاق رائے کے بغیر کسی بھی مسئلے کا پائیدارحل نہیں نکلے گا۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ملک میں نہیں رہتے بلکہ وہ وزیراعظم اوورسیز بن گئے ہیں اورمختلف ممالک کے دورے کرتے رہتے ہیں۔ 
آخر 28 ویں ترمیم اور نئے صوبوں سے متعلق بات چیت لندن میں کیوں ہورہی ہے؟ صدر مملکت اوروفاقی وزیرداخلہ کی پاکستان میں صبح شام ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں تو پھر صدرمملکت کو پاکستان واپس آنے میں کیاتکلیف ہے؟ملک میں 28 ویں ترمیم آنے والی ہے،صوبے بننے یا نہ بننے کی بحث چل رہی ہے، ایسے وقت میں صدرزرداری کو دوتین ہفتے کیلئے ملک چھوڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ گزشتہ دنوں جب ہائیکورٹس کے ججوں کی تقرری کے معاملے پر صدرزرداری اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جنگ چل رہی تھی تو صدر زرداری اپنی علالت کابہانہ کرکے ایوان صدرسے بلاول ہاؤس کراچی منتقل ہوگئے تھے لیکن جب اسٹیبلشمنٹ نے انہیں کچھ کہا تو انہیں ججوں کی تقرری کی سمری پر دستخط کرنے پڑے۔ 
پاکستان کے سیاستداں قوم سے جھوٹ بولتے رہے ہیں، انہیں عدالتیں سزا دیں اور وہ جیل میں قید ہونے کے باوجود پاکستان کے بااثرحلقوں سے اپنے معاملات طے کرکے علاج کے بہانے بیرون ملک چلے جاتے ہیں، میاں نوازشریف کی مثال سامنے ہے۔ اسی طرح موجودہ صدرمملکت آصف علی زرداری جب جیل میں قید تھے تو پورا ملک جانتا ہے کہ وہ جیل کے بجائے ایک نجی اسپتال میں رہتے تھے اور رات 8 بجے کے بعداسپتال سے کہیں اورمنتقل ہوجاتے تھے اوروقت گزارکرصبح اسپتال آجاتے تھے، انہوں نے اپنی پوری اسیری اسی طرح اسپتال میں کاٹی ہے۔ 
پاکستان کی دوفیصد حکمراں اشرافیہ جب بیمار ہوتی ہے تو ان کا علاج ملک میں نہیں ہوتا بلکہ وہ علاج کیلئے امریکہ، برطانیہ، جرمنی یا فرانس میں جاتے ہیں، اگر صدرزرداری بیمارنہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لندن میں کسی اور وجہ سے قیام پذیر ہیں۔ پیپلزپارٹی والے اب کہیں گے کہ پارٹی کے چیئرمین اورکوچیئرمین ملک میں نہیں ہیں لہٰذا ہم 28 ویں ترمیم میں حصہ نہیں لے سکتے۔ غورطلب بات یہ ہے کہ پورے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بات کی گئی ہے لیکن سندھ اسمبلی میں نئے صوبے کے خلاف قرارداد پیش کی جارہی ہے یعنی اب فوجی اسٹیبلشمنٹ اورصدرآصف علی زرداری کے درمیان خاموش جنگ شروع ہوچکی ہے، سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ارکان اشتعال انگیز تقاریر کررہے ہیں،ا گر صدرآصف زرداری نے یہ اعلان کیا کہ وہ پاکستان واپس نہیں جائیں گے توپھروہ بیرون ملک سے”پاکستان نہ کھپے“ کی تحریک چلائیں گے اور صورتحال مزید گھمبیرہوسکتی ہے۔ 
دوسری جانب 28 ویں ترمیم کافیصلہ پوری اسٹیبلشمنٹ نے کرلیا ہے مگرصرف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ٹارگٹ کیاجارہا ہے جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ تمام کورکمانڈرز، آپریشنل کمانڈرز کی رائے کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر فیلڈ مارشل ازخودکوئی فیصلہ کرلیں، یہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کامتفقہ فیصلہ ہے، اسٹیبلشمنٹ کے پاس آصف زرداری اوران کی ٹیم کے ایک ایک فرد کی کرپشن کی فائلیں موجود ہیں، اگرپھربھی آصف زرداری کہتے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے فیصلے کونہیں مانیں گے تو بھی
 آئینی ترمیم پھر بھی پاس ہوسکتی ہے، اس کیلئے اسٹیبلشمنٹ کے پاس راستہ ہے کہ وہ ملک میں مارشل لا لگا کر عبوری حکومت بناسکتی ہے، جوچاہے ترامیم پاس کرالے اور پھر سپریم کورٹ سے ان ترامیم کو جائز بھی قراردلواسکتی ہے، یہ اسٹیبلشمنٹ کے بائیں ہاتھ کاکام ہے۔ صدرزرداری یاتووطن واپس جاکر اسٹیبلشمنٹ کی بات ماننے پررضامند ہوں گے اوراگرنہیں ہوں گے ”پاکستان نہ کھپے“  اور آزادسندھو دیش کیلئے جنگی صورتحال پیدا ہوگی، پھر ایک طرف فوج ہوگی اوردوسری طرف سندھی ہوں گے اس کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ مجھے ہرطرف آگ اورخون نظرآرہا ہے۔ سوچنا ہوگا کہ کیا نئے صوبوں کا قیام ملک کی مضبوطی کی علامت ہو گا یا یہ معاملہ مؤخرکردینا چاہیے۔ 
میں آج ہنگامی بنیاد پر ایک ایک پاکستانی کو خبردارکرنے آیا ہوں، میری بیان کردہ باتوں کو تمام سننے والے اپنے دوست احباب، رشتے داروں تک پہنچائیں۔ ہم دعا ہی کرسکتے ہیں کہ اللہ کرے کہ ملک میں خانہ جنگی نہ ہو، کشمیرمیں امن ہو، بلوچستان کے مسئلے پر فوجی اہلکاروں اوربلوچوں کا بہت قتل ہوچکا ہے لہٰذا بلوچستان کو بلوچ عوام کے حوالے کردیا جائے ورنہ ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال ہوئی اورہرجگہ خون ہی خون بہے گا تو نہ امریکہ بچانے آئے گا اورنہ ہی برطانیہ۔
اس ممکنہ خونی صورتحال کوناکام بنانے کیلئے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اپیل کرتا ہوں کہ نئے صوبوں کے قیام کی بات وفاقی وزیرداخلہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی ہے لیکن سارا نزلہ مہاجروں پر گررہا ہے، پیپلزپارٹی کے جاگیرداروں اوروڈیروں کی جانب سے اشتعال انگیز باتیں کی جارہی ہیں اورمہاجروں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، مہاجرقوم بہت مشکل حالات کا شکار ہے، کیا آپ مہاجروں کو پاکستانی نہیں سمجھتے؟ خدارا مہاجروں کا بھی سوچیں۔
میں سندھ کے دانشوروں، باشعور پروگریسو لوگوں اورتمام سندھی بھائیوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی سوچیں کہ پیپلزپارٹی صوبہ سندھ کوکس طرف لیکرجانا چاہتی ہے اوراس کے رہنما اوروڈیرے جس طرح کی اشتعال انگیز تقاریرکررہے ہیں اورجس طرح کے نفرت انگیز الفاظ استعمال کررہے ہیں، اس کے ذریعے وہ سندھ میں قتل و غارت گری کی کوشش کررہی ہے ، لہٰذا سندھ کے امن پسنداورباشعورعوام پیپلزپارٹی کی ان گھناؤنی کوششوں کاحصہ نہ بنیں۔  

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 462  ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب
2، ستمبر2026ء



9/3/2026 9:04:03 AM