وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کاحوالہ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے خلاف جودھمکی آمیزبیان دیاہے کہ اگرکسی نے لانگ مارچ کرنے اوراسلام آباد آنے کی کوشش کی تونتائج کی ذمہ داری آنے والوں پر ہوگی، یہ بیان افسوسناک ہے۔ میراسوال یہ ہے کہ جب سپریم کورٹ نے یہ واضح حکم دیاتھاکہ عمران خان کو شفااسپتال منتقل کیاجائے،توحکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیوں نہیں کیا؟
لانگ مارچ ایک سیاسی عمل ہے، لیکن کیا اب کورٹ فیصلہ کرے گی کہ کوئی سیاسی جماعت لانگ مارچ کرے گی یانہیں؟ سپریم کورٹ کے حکم پر دوسری عدالت کامعاملے میں مداخلت کاعمل عجیب ہے، عدالتوں کا وقارچور چور اورٹکڑے ٹکڑے ہوگیاہے، عدالتوں کا سارانظام الٹ پلٹ ہوکررہ گیاہے۔
میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں،ارکان اسمبلی اورکارکنوں سے کہتا ہوں کہ آپ کوعمران خان کی عمر اورجیل میں قیدتنہائی میں جو ان کی حالت ہے اس کوپیش نظررکھناچاہیے اورانہیں ڈرنانہیں چاہیے اورکسی بھی قیمت پر بڑی تعدادمیں نکلناچاہیے اوریہ سمجھ لیناچاہیے کہ ”اگر اس مرتبہ نہیں تو پھر کبھی نہیں“۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 471 ویں فکری نشست سے خطاب
18 ستمبر 2026ء