میں فوج کے خلاف نہیں، غیرمنصفانہ اورظالمانہ سسٹم کے خلاف ہوں۔ الطاف حسین
میں کبھی کسی کے خلاف نہیں تھا، میں غیرمنصفانہ اورظالمانہ سسٹم کے خلاف تھا، میں فوج کے خلاف نہیں، میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں ہر ملک کے دفاع کے لئے فوج کی ضرورت ہوتی ہے پاکستان میں بھی فوج ضروری ہے لیکن وہ اپنے آئینی دائرہ کارسے باہررہ کرکام کررہی ہے، تمام اداروں پر سویلین کے بجائے فوج کے افسران متعین ہیں۔ ملک کا پورانظام فوج کے حکام کے ماتحت ہے۔ پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹریٹوکریسی (Stratocracy)ہے یعنی ملک، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور عناصر کے ذریعے چلایا جارہاہے۔ برطانیہ میں شہریوں کواپنے آرمی چیف کانام تک معلوم نہیں ہوتا لیکن ہمارے ہاں آرمی چیف سے لیکرتمام اہم عہدوں پر فائزفوجی حکام کے نام اورتفصیلات بچے بچے کومعلوم ہوتی ہیں۔ فوج کے جرنیل سیاسی معاملات میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔ میں فوج کے خلاف نہیں، فوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف ہوں،میں کرپٹ سیاستدانوں، فیوڈلزاورکرپٹ جرنیلوں کے خلاف ہوں، جب میں نے سیاست میں فوج اور سرکاری ایجنسیوں کی مداخلت کے خلاف بات کی تومجھے فوج کا مخالف اورملک دشمن قراردیدیا گیا۔ پنجاب، کشمیرپورا ملک میرے مخالف ہوگیا۔ 1992ء میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نوازنے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کا منصوبہ بنایا، قوم کودھوکہ دینے کے لئے 72بڑی مچھلیوں کی ایک فہرست تیار کی، اس فہرست میں الطاف حسین یااس کے بھائیوں بہنوں یااس کے رہنماؤں کے نام نہیں تھے بلکہ آصف زرداری، بینظیر کے کامدار، غلام مصطفےٰ جتوئی مرحوم، پیرپگارا مرحوم اوردیگربڑے بڑے وڈیروں کے نام تھے اورقوم کویہ بتایا گیا کہ سندھ میں بڑے بڑے ڈاکوؤں، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں اور ان کی سرپرستی کرنے والے پتھاریداروں کے خلاف فوجی آپریشن کیاجائے گا۔ جبکہ میں نے واضح الفاظ میں اس خدشے کا اظہارکردیا تھا کہ یہ آپریشن اصل میں ایم کیوایم کے خلاف ہوگا۔ میری بات سچ ثابت ہوئی اورفوج نے 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا۔اس آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا، سینکڑوں کولاپتہ کردیا، بہت سے لاپتہ کارکنان کئی برسوں سے آج تک لاپتہ ہیں۔ سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری شجاعت حسین کابیان ریکارڈپر ہے کہ ایم کیوایم کے کارکنوں کومارکراسلا م آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں میں دفن کردیا گیا تھا۔ آپریشن کے دوران فوج پورے پورے علاقوں کے محاصرے کرکے نوجوانوں اور بزرگوں کو گھروں سے نکال کران کی قمیضیں اتارکر انہیں بھیڑبکریوں کی طرح میدانوں میں جمع کرتی اوراس دوران گھروں میں خواتین کی بے حرمتی کی جاتی، جیسامشرقی پاکستان میں کیا گیا تھا۔
جب ایم کیوایم کے خلاف آپریشن ہورہاتھااورہماری لاشیں گرائی جارہی تھیں تو پنجاب اورخیبرپختونخوا میں لوگ خوشیاں منارہے تھے اورپاک فوج زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے۔ جب 9مئی کے واقعے کے بعد پنجاب میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریاں شروع ہوئیں توپی ٹی آئی والوں نے کہاکہ پی ٹی آئی پر بہت ظلم ہورہا ہے۔ میں کہتاہوں کہ جتنا ظلم ایم کیوایم اورمہاجروں کے ساتھ ہواہے اس کا پانچ فیصد بھی پنجاب میں پی ٹی آئی والوں پر نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی کے کتنے لیڈر، پارٹی ذمہ داران اورکارکنان شہید کئے گئے؟ کتنے لوگ لاپتہ کئے گئے؟
میں پاکستان کے کرپٹ سیاسی نظام کوتبدیل کرناچاہتا تھا اورآج بھی موجودہ کرپٹ سیاسی نظام حکومت کی تبدیلی چاہتاہوں۔ میں پاکستان کوجاگیرداروں اوروڈیروں سے نجات دلانا چاہتا ہوں، میں میں ایساسسٹم چاہتاہوں کہ ہرشہری کویکساں حقوق حاصل ہوں،خواہ ان کامذہب یاعقیدہ کوئی بھی ہو۔
الطاف حسین
لندن میں 73ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب
19 ستمبر 2026ء