Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سپریم کورٹ کاعمران خان کی صحت کے بارے میں پٹیشن کی سماعت کے لئے آئندہ ماہ کی تاریخ مقررکرناایک مذاق ہے۔ الطاف حسین


  سپریم کورٹ کاعمران خان کی صحت کے بارے میں پٹیشن کی سماعت کے لئے آئندہ ماہ کی تاریخ مقررکرناایک مذاق ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 8/24/2026

 سپریم کورٹ کاعمران خان کی صحت کے بارے میں پٹیشن کی سماعت کے لئے آئندہ ماہ کی تاریخ مقررکرناایک مذاق ہے۔ الطاف حسین 
سپریم کورٹ کے ایسے ہی فیصلوں سے پاکستان میں انصاف کا نظام تباہ ہوچکا ہے

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے 18 اگست 2026ء کوحکم دیا تھا کہ عمران خان کودودن کے اندراندرشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، علاج کرایا جائے اورمختلف امراض کے ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔ عمران خان پہلے ہی بیمار ہیں، قید میں ان کی ایک آنکھ خراب ہوچکی ہے۔ حکومت نے سپریم کورٹ کے ان واضح احکامات پر عمل نہیں کیا اورعمران خان کوشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اورمیڈیکل بورڈ بنانے کے بجائے انہیں پمزاسپتال لیجا کرچیک اپ کرایا اورواپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔ اس طرح حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کی حکم عدولی کرکے صاف طورپر توہین عدالت کاارتکاب کیا۔ اس معاملے پرپی ٹی آئی کے رہنماؤں کواسی روز سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی پٹیشن دائر کرنی چاہیے تھی لیکن انہوں نے اگلے روز پٹیشن دائر کی۔ پہلے توسپریم کورٹ کوتوہین عدالت پر خود ہی سوموٹولینا چاہیے تھا لیکن جب پی ٹی آئی کی طرف سے پٹیشن دائر ہوئی توعدالت کوعمران خان کی طبیعت کومدنظر رکھتے ہوئے اس پٹیشن کی فوری سماعت کرنی چاہیے تھی لیکن فوری سماعت کے بجائے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس پریہ فیصلہ دیدیا کہ عمران خان کی صحت کامعاملہ فوری نوعیت کا نہیں اور توہین عدالت کامعاملہ بھی ایسا نہیں کہ اس بارے میں پٹیشن کی فوری سماعت کی جائے لہٰذا چیف جسٹس نے فوری سماعت کے بجائے ستمبر کے مہینے کی تاریخ دی ہے۔ چیف جسٹس کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔اگر چیف جسٹس کے مطابق عمران خان کی صحت کامعاملہ فوری نوعیت کا نہیں ہے اوروہ ٹھیک ٹھاک ہیں تو پھر 18 اگست کوسپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ فیصلہ کیوں دیا تھا کہ عمران خان کودو دن کے اندر اندر علاج کے لئے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے؟ حکومت نے عمران خان کو شفا اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے جاکر عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی تو کیا یہ توہین عدالت نہیں ہے؟ کیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی نظر میں حکومت کی جانب سے توہین عدالت نہیں ہوئی؟ کیاعمران خان کوفوری علاج کی ضرورت نہیں؟ جب تک شفا اسپتال میں عمران خان کا مکمل معائنہ نہیں کرایا جائے گا اس وقت تک کیسے پتہ چلے گا کہ عمران خان کو کیا بیماری ہے؟ عمران خان نے اپنی بہن ڈاکٹرعظمیٰ خان سے ملاقات میں صاف الفاظ میں اپنی صورتحال کے بارے میں بتایا کہ انہیں سخت آئسولیشن میں رکھا جارہا ہے اورذہنی ٹارچرکیا جارہا ہے اوریہ وہ انہیں مصر کے صدرمحمدمرسی کی طرح ماردینا چاہتے ہیں، کیا عمران خان کی یہ ذہنی حالت فوری طورپر علاج کا تقاضہ نہیں کرتی؟ پھر سپریم کورٹ نے اس بارے میں پٹیشن کی سماعت کے لئے آئندہ ماہ کی تاریخ کیوں مقرر کی؟ آخریہ کیا مذاق ہورہا ہے؟ یہ انصاف کی عدالت ہے یا ظالموں کی ڈھال ہے جو ظالموں کوبچاتی ہے اور مظلوموں پر وار کرتی ہے۔ سپریم کورٹ کے ایسے ہی فیصلوں سے پاکستان میں انصاف کا نظام تباہ ہوچکا ہے۔
ایسے حالا ت میں پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کا طرزعمل بھی بہت افسوسناک ہے، عمران خان کی بہنیں ان سے ملاقات کے لئے اڈیالہ جیل جاکراحتجاج کرتی ہیں، لوگوں کوپکارتی ہیں لیکن پی ٹی آئی کے لیڈرز اورارکان اسمبلی ان سے اظہاریکجہتی کے لئے اڈیالہ جیل تک نہیں جاتے۔ آج بھی پی ٹی آئی کے لیڈران قانونی موشگافیوں اورادھر ادھر ملاقاتوں میں مصروف ہیں، انہوں نے تین برسوں سے اسی طرح کے ڈرامے کرکے عمران خان کوآج اس حال میں پہنچا دیا ہے،ان کی ایک آنکھ ضائع کرادی اورآج وہ اپنی بہنوں سے اپنی زندگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کررہے ہیں، لہٰذا میں ایک بارپھرپی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ وہ مصلحت پسند لیڈروں سے کوئی توقع نہ رکھیں اوران کی طرف دیکھنے کے بجائے قیادت اپنے ہاتھوں میں لے لیں، پی ٹی آئی کے کارکنان، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات اور جین زی خود باہر نکلیں اورعمران خان کو بچائیں، اب بہت ہوگیا ہے اورقوم کوکوئی وقت ضائع کئے بغیر فوراً باہرنکلنا چاہیے۔ جہاں تک الطاف حسین کا تعلق ہے تووہ گزشتہ تین سال سے اصولوں کی بنیادپر عمران خان کے لئے آواز اٹھا رہا ہے اورجب تک میرے جسم میں جان ہے میں حق اورسچ کی آوازبلند کرتارہوں گا۔

الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر 455  ویں فکری نشست سے خطاب
25  اگست 2026ء


8/30/2026 10:58:43 AM