Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بلوچ خواتین کے سروں کی قیمت لگانا قابل مذمت ہے۔الطاف حسین


 بلوچ خواتین کے سروں کی قیمت لگانا قابل مذمت ہے۔الطاف حسین
 Posted on: 8/28/2026

بلوچ خواتین کے سروں کی قیمت لگانا قابل مذمت ہے۔الطاف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک طرف بعض اینکرپرسنز، یوٹیوبرزاور سیاسی ودفاعی تجزیہ نگارخواتین کے احترام کی باتیں کرتے ہیں اوردوسری طرف خواتین کا تقدس پامال کرنے، ان کی چادریں کھینچنے اورانہیں تھپڑمارنے کے عمل کو جائز بھی قراردے رہے ہیں اوراس ظلم کے لئے جواز بھی پیش کررہے ہیں۔ عرصہ دراز سے صوبہ بلوچستان میں فوج کشی کاعمل جاری ہے، ظلم کے خلاف آوازاٹھانے والی بلوچ خواتین کواذیتیں پہنچائی جارہی ہیں،انہیں پرامن احتجاج کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے، ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ اور دیگربلوچ خواتین اپنے والد، بھائی، بیٹے کے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگی اور اپنے حقوق کے لئے پرامن احتجا ج کریں تو ان کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر درج کرکے جیل میں قید کردیا جاتا ہے، انسداددہشت گردی کی عدالتوں کے ذریعے انہیں لمبی لمبی سزائیں دیدی جاتی ہیں۔ اگرصوبے میں یہ ظلم روزمرہ کامعمول بن جائے اورخواتین اپنی عزت وآبرو کے تحفظ، ماورائے عدالت قتل یا جبری گمشدگیوں کے خلاف پرامن احتجاج کریں تو کیااس احتجاج کو غلط کہا جائے گا؟ آخر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر بلوچ ماؤں، بہنوں اوربیٹیوں کا کیا قصور ہے؟ ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ اوردیگر بلوچ خواتین اپنے شہید والد، بھائی اوربیٹوں کے جنازے رکھ کر مطالبہ کررہی تھیں، انصاف مانگ رہی تھیں کہ ان کے قاتلوں کو گرفتارکرو مگر انہیں گرفتارکرکے جیل میں قید کردیا گیا۔ یہ ظلم نہیں توکیا ہے؟
 آج بلوچستان کی حکومت نے 9 بلوچ خواتین کے سروں کی قیمت لگانے کا اعلان کیا ہے، ان بلوچ خواتین کے سروں کی دس دس لاکھ روپے قیمت لگائی گئی ہے جس کی میں شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، کیا بلوچ خواتین کے سروں کی قیمت لگانے کے عمل سے نفرتیں پھیلیں گی یا محبتیں پھیلیں گی؟میں مطالبہ کرتا ہوں کہ اس قسم کی ظالمانہ اورسفاکانہ حرکتیں کرکے ایک ایک بلوچ کو بندوق اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے۔ کیا یہ بلوچ خواتین قوم کی ماں بہن اوربیٹی نہیں ہیں؟ ان کے سروں کی قیمت لگانے کے عمل کی ہرپاکستانی کوکھل کر مذمت کرنی چاہیے، ہمیں ناراض لوگوں کو گلے لگانا چاہیے، ان کے گلے شکوے سننا چاہیے، ظالم حکمرانوں نے بلوچ خواتین کے سروں کی قیمت لگاکرظلم کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیاہے۔ ہم حکومت بلوچستان کے اس اقدام کی شدیدمذمت کرتے ہیں، بلوچ ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اورپوری بلوچ قوم سے اظہاریکجہتی کرتے ہیں اوراس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم مظلوم بلوچوں کے لئے آوازاٹھاتے رہیں گے۔ 

کیاعزت صرف فوجی افسرکی بیوی،بہن یابیٹی کی؟
میں سوال کرتا ہوں کہ کیا پاکستان میں عزت،احترام اور تقدس صرف اس کے لئے ہے جو کسی فوجی افسر کی بہن، بیٹی اور بیوی ہو؟کیا  سویلین ماں، بہن، بیٹیوں کی کوئی عزت نہیں ہے؟
بلوچ، پنجابی، پشتون اورمہاجر ماں، بہن، بیٹیوں کے ساتھ جوسلوک روا رکھا گیا اس سے پنجاب کے عوام اچھی طرح واقف ہوں گے، صوبہ خیبرپختونخوا میں شہریوں کی جان ومال سے کھیلنے والے دہشت گردوں کونہیں مارا جاتا لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں ہزاورں معصوم پشتون ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اورمعصوم بچوں کو  شہید کردیا گیا، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے نام پر پشتونوں کوان کا گھربار چھوڑ کر IDPs بنایا گیا اور کیمپوں میں رکھا گیا۔ 1979ء میں امریکہ اورروس کی سردجنگ کے بعد افغانستان میں کئی حکومتیں آئیں مگر KPK میں آج تک امن قائم نہیں ہوسکا۔ 
 ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران مہاجر بستیوں کے محاصرے کرکے گھرگھر تلاشی کے دوران بزرگوں اورنوجوانوں کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کرانہیں کھلے میدانوں میں بٹھایا جاتا تھا اور انکی غیرموجودگی میں مہاجرخواتین سے بدتمیزی اوربدسلوکی کی جاتی تھی، اسی طرح پنجاب میں تحریک انصاف کے مطلوب رہنماؤں اورکارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور گھروں میں موجود خواتین سے بدسلوکی کی گئی۔ میراسوال ہے  کہ کیا پنجابی،پشتون، بلوچ، سندھی، مہاجر ماں بہن بیٹی کی کوئی عزت نہیں؟  کیاعزت صرف فوجی افسروں کی خواتین کی ہے؟
اسلام آباد میں سرحد یونیورسٹی میں ایک فوجی افسر کی بیوی نے طلبا وطالبات اورخواتین پولیس اہلکاروں کے ساتھ کھلی غنڈہ گردی کی مگر انہیں گرفتارنہیں کیا گیا، مذکورہ خاتون کے شوہر جوکہ ایک کرنل ہیں، انہوں نے یونیورسٹی میں طلباء وطالبات پر تشدد کیا اوران پر فائرنگ کی، فوجی افسر کے اس عمل کی مذمت کرنے کے بجائے بعض حلقوں کی جانب سے اس کوجائزقراردینے کے لئے کہا گیا کہ وہ فوجی افسر پشتون ہے اورپشتون غیرت کا معاملہ تھا اسلئے اس فوجی افسرنے جوکیا وہ جائز ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیاغیرت صرف فوجی افسروں کی خواتین کی ہوتی ہے؟ کیا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ، دیگربلوچ خواتین، پی ٹی آئی کی رہنما ڈاکٹریاسمین راشد اور دیگر خواتین کسی کی ماں بہن بیٹی نہیں ہیں؟ کیا ان کا کوئی تقدس اوراحترام نہیں ہے؟ ایک کرنل کی بیوی کویہ حق کس نے دیا کہ وہ دوسروں کی بہن بیٹیوں کوزدوکوب کرے، ان کی بے عزتی کرے؟
اسلام آباد میں پمزاسپتال معصوم نومولود بچوں کی جل کر ہلاکتوں کے سانحے کی تحقیقات کا اب تک کوئی نتیجہ نہیں آیا، اب تک مختلف جوازپیش کئے جارہے ہیں اوراب تک اس سانحے کی وجوہات پتہ نہیں چل سکیں۔اب لوگوں کو اندازہ ہوا ہوگا کہ حکومت سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود عمران خان کوپمزاسپتال کیوں لائی تھی کہ جہاں مناسب سہولتیں تک نہیں تھیں۔ ظلم کے خاتمے اورنظام کی تبدیلی کے لئے ملک کے نوجوانوں، جین زی کوآگے آنا ہوگا کیونکہ نوجوان ہی کس بھی انقلاب کا ہراول دستہ ہوتے ہیں۔ 

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 457 ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب
27، اگست2026ء



8/30/2026 10:45:42 AM