پاکستان میں جھوٹ، مکروفریب، منافقت، چوری چکاری، بے ایمانی،دھوکہ بازی اورغنڈہ گردی کا راج ہے
پیپلزپارٹی کے وڈیرے اوران کی اولادیں کراچی میں معصوم نوجوانوں کو قتل کرنے باوجود سزا سے محفوظ ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کوآزاد اورخودمختار ملک کا درجہ حاصل ہے اوراس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے لیکن کیا یہ ملک اسلامی نظرآتا ہے؟ درحقیقت ملک میں سرکارکی اونچی سے نچلی سطح تک جھوٹ، مکروفریب، منافقت، چوری چکاری، بے ایمانی،دھوکہ بازی اورغنڈہ گردی کا راج ہے توپھر یہ کیسا پاک، صاف اورشفاف پاکستان ہے؟
اگرپاکستان میں عدالتیں آزاد ہوتیں تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نام خط نہ لکھتے کہ ہم انصاف پر مبنی فیصلہ نہیں کرسکتے اورہم پردباؤ ڈالا جاتا ہے کہ ہمیں فلاں فلاں مقدمے میں یہ فیصلہ لکھنا ہے اور فلاں فلاں مقدمے میں یہ فیصلہ نہیں دیناہے،پاکستان میں عدالتی نظام کی صورتحال یہ ہےلیکن ہم ”پاک سرزمین شادباد“ کاترانہ گاتے ہیں اور ”پاکستان زندہ باد“کا نعرہ لگاتے ہیں۔
ملک میں مروجہ آئین کے مطابق قانون ساز اسمبلیوں کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو شفاف اورایماندارانہ طریقے سے الیکشن کرانے چاہئیں لیکن کیا پاکستان میں صاف و شفاف الیکشن ہوتے ہیں؟ہمارے ہاں انتخابات میں کامیاب ہونے والوں کی جیت کو شکست میں بدل دیاجاتا ہے اورجو الیکشن میں ہارے اس کو فتح یاب قراردیدیا جاتا ہے۔میراسوال ہے کہ کیاپاکستان میں جمہوری نظام ہے؟ کیا پاکستان میں صدراوروزیراعظم بااختیار ہیں؟
پاکستان میں شہریوں کو جان ومال کا تحفظ نہیں ہے، گھروں سے نکلنے والے بزرگوں، خواتین اورنوجوانوں کو موٹرسائیکل سوار ڈاکو لوٹ کران سے موبائل فون، پرس اورنقدی چھین کرفرارہوجاتے ہیں۔
نوجوان طبقہ بے روزگاری سے تنگ آکر روزگار کی تلاش میں کشتیوں میں بیٹھ کر پاکستان سے دوسرے ممالک کا خطرناک سفرکرتے ہیں، بیشترکشتیاں ڈوب جاتی ہیں اور لوگ مرجاتے ہیں۔وہ ایسااسلئے کرنے پر مجبورہیں کیونکہ لوگوں کو زندہ رہنے کیلئے خوراک کی ضرورت ہوتی اورخوراک کے حصول کیلئے ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے، لوگ پاگل نہیں ہیں کہ بھوک، افلاس اوربے روزگاری کے باعث اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کربیرون ملک جانے کیلئے کشتیوں میں سفر کریں۔
ان تلخ حقائق کے باوجود پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے والوں سےایک اہم سوال کرتاہوں کہ اگرامریکہ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس اورجرمنی وغیرہ یہ اعلان کریں کہ جوپاکستان کے شہری اپنے خاندان سمیت ان کے ممالک میں آنا چاہتے ہیں ہم انہیں آنے سے پہلے ہی اپنے اپنے ممالک کی شہریت دے دیں گے تو پاکستان کے کتنے فیصدلوگ اس پیشکش کوٹھکراکر پاکستان میں رہنا پسند کریں گے؟ ایماندارانہ تجزیہ یہ ہے کہ ان ممالک کی اس پیشکش کے بعد کوئی بھی پاکستانی نوجوان پاکستان میں رہنا پسند نہیں کرے گا۔
پاکستان کے ہرشہرمیں لوگ اپنے حق اورانصاف سے محروم ہیں، ان کی سننے والا کوئی نہیں۔ انہی حالات کے باعث آج ہرفرد اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ یہ چوروں، رشوت خوروں، عیاروں، مکاروں، ڈاکوؤں،اسمگلروں، جاگیرداروں، وڈیروں اورسرداروں کا ملک ہے، یہاں قانون غریب عوام کیلئے تو ہے لیکن امیروں کیلئے قانون کبھی حرکت میں نہیں آتا بلکہ انہیں تحفظ فراہم کرتاہے۔ میرا تعلق صوبہ سندھ سے ہے لہٰذا میں صوبہ سندھ کی بات کروں گا، پیپلزپارٹی کے جاگیرداروں، وڈیروں اوران کی اولادوں نے کراچی میں کتنے ہی معصوم نوجوانوں کوقتل کیاہے پھربھی وہ سزا سے محفوظ رہے اور تمام ترثبوت وشواہد کے باوجود آزادی کے ساتھ رہا کردیے گئے، ان حقائق سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، میں نے اسی گلے سڑے اورفرسودہ نظام کو مردہ باد کہاتھا لیکن میرے بات کے غلط معنی لے لئے گئے۔ وقت کاتقاضہ ہے کہ ملک کے نظام کوبہترکیاجائے، عوام کوان کے حقوق دیے جائیں، انہیں انصاف فراہم کیاجائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 445ویں فکری نشست سے خطاب
11، اگست2026