Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سندھ کودیہی اورشہری کی بنیادپر تقسیم الطاف حسین نے کیا یا ذوالفقارعلی بھٹو نے؟


 سندھ کودیہی اورشہری کی بنیادپر تقسیم الطاف حسین نے کیا یا ذوالفقارعلی بھٹو نے؟
 Posted on: 7/25/2026

 سندھ کودیہی اورشہری کی بنیادپر تقسیم الطاف حسین نے کیا یا ذوالفقارعلی بھٹو نے؟

جمہوریت اوروفاق کی نام نہاد علمبردار پیپلزپارٹی کی اصل سوچ اورسیاست آمرانہ، سندھ میں تعصب اورتقسیم کی سیاست ہے، پیپلزپارٹی کی یہ سیاسی سوچ اورپالیسی آج کی نہیں بلکہ اس کے بانی ذوالفقارعلی بھٹوکے زمانے سے ہے،متعصبانہ سوچ وفکر رکھنے والے جومتعصب عناصر آج سوشل میڈیا پر اپنے تبصروں اورتجزیوں میں ایم کیوایم کے خلاف زہراگل رہے ہیں،اس پرشرانگیز الزامات لگارہے ہیں وہ یہ بتائیں کہ اگرپیپلزپارٹی واقعی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے تواس کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے 1970ء کے الیکشن کے نتائج کیوں تسلیم نہیں کئے تھے؟ اس نے عوامی لیگ کی بھاری اکثریت سے کامیابی کوتسلیم کرنے کے بجائے ”اِدھرہم ادھرتم“ کانعرہ کیوں لگایا تھا؟ کیابھٹو کایہ نعرہ اس کی جمہوری سوچ ہے یاآمرانہ سوچ ہے جس نے ملک توڑنا گوارا کرلیا لیکن عوامی لیگ کواقتداردینا قبول نہیں کیا؟ 
اگربھٹو جمہوریت کاعلمبردار تھا تو اس نے 1971ء میں پاکستان کے دولخت ہونے کے بعدجنرل یحییٰ خان کی جانب سے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹربننا کیوں قبول کیا؟ بھٹونے”سوشلزم ہماری معیشت“ اور”روٹی کپڑا اور مکان“ کا نعرہ لگایا تھا، اس نے اقتدارمیں آتے ہی نیشنلائزیشن کے نام پر ملک کے عوام سے ان کی معیشت کیوں چھین لی تھی؟ عوام کوروٹی، کپڑااورمکان کاجھانسہ دینے والے بھٹونے عوام روٹی، کپڑا اورمکان کیوں چھینا؟
پیپلزپارٹی کے پے رول پر سوشل میڈیا پرمنفی پروپیگنڈہ کرنے والے بعض متعصب پوڈ کاسٹرز الطا ف حسین پر تقسیم کا بہتان لگاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں نفرت، تعصب اوردیہی ااورشہری کی تقسیم کی بنیاد پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹونے ڈالی۔ بھٹونے اقتدارمیں آنے کے بعد اپنی متعصبانہ پالیسیوں اوراقدامات کے ذریعے سندھ میں تقسیم، نفرت اور تعصب کی جوبنیاد ڈالی وہ آج تک قائم ہے جس سے نہ پیپلزپارٹی انکارکرسکتی ہے اور نہ ہی کوئی سچامؤرخ اور نہ ہی کوئی غیرمتعصب صحافی اوروی لاگرانکارکرسکتا ہے۔ 
ذوالفقارعلی بھٹو نے 1972ء میں سندھ اسمبلی میں ایک لسانی بل پیش کیاجس کے تحت سندھی زبان کوسندھ کی سرکاری زبان قراردیکر سندھی زبان کولازمی قراردے دیا گیا۔ یہ قومی زبان اردوکے خلاف ایک جبری اورمتعصبانہ اقدام تھاجس سے سندھ میں آباد اردو بولنے والوں میں شدید بے چینی پھیلی، اردوبولنے والے بیوروکریٹس، طلبہ اورسرکاری ملازمین کونشانہ بنایا جانے لگا۔ اردوبولنے والوں نے بھٹوحکومت کے اس متعصبانہ اقدام کے خلاف پرامن احتجاج شروع کیا تو ذوالفقارعلی بھٹو کے کزن او ر اس وقت کے صوبہ سندھ کے وزیراعلیٰ ممتازعلی بھٹو جنہیں ذوالفقارعلی بھٹو اپنا ”ٹیلنٹڈ کزن“ کہتے تھے، انہوں نے کراچی، حیدرآباد اورسندھ کے دیگرشہروں میں اردوبولنے والوں کو حکومتی طاقت سے کچلا، بڑی تعداد میں اردوبولنے والوں کوپولیس کے ذریعے گولیاں ماری گئیں، صرف یہی نہیں بلکہ بھٹوحکومت نے حکومت کی سرپرستی میں اندرون سندھ میں لاڑکانہ، خیرپور، شکارپوراوردیگردیہی علاقوں میں مہاجروں کی املاک پر حملے شروع کرادیے، مہاجروں کوقتل کیا گیا، مہاجروں کے گھروں،دکانوں اوراملاک کو لوٹا گیا، فصلوں اور املاک کوآگ لگائی گئی،اس وقت اندرون سندھ کے کئی شہروں میں مہاجروں بہت بڑی تعداد آباد تھی، لاڑکانہ کامیئرتک اردو بولنے والاہوتا تھا لیکن بھٹوحکومت کی سرپرستی میں کرائی گئی اس قتل وغارتگری کی وجہ سے مہاجروں کواندرون سندھ کے شہروں سے ہجرت کرکے کراچی اورحیدرآباد میں نقل مکانی کرنی پڑی۔اس طرح مہاجروں نے دوسری مرتبہ ہجرت کی۔یہ سب کچھ ایم کیوایم اور الطاف حسین نے کیا یا بھٹواوراس کی پیپلزپارٹی نے، اس وقت نہ توایم کیوایم تھی اورنہ ہی الطاف حسین سیاست میں تھا۔ 
1973ء میں ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت نے سندھ کودیہی اورشہری کی بنیادپر تقسیم کرتے ہوئے صرف صوبہ سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کیااورجوازیہ پیش کیا گیا کہ دیہی علاقوں کے عوام شہری سندھ سے پیچھے ہیں لہٰذاسرکاری ملازمتوں اورمیڈیکل،انجینئرنگ اوراعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں میں دیہی سندھ سے تعلق رکھنے والوں کے لئے 60 فیصد اورشہری علاقوں کے لئے 40 فیصد کوٹہ مقررکیا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اگراس تقسیم کامقصد دیہی علاقوں کو شہری علاقوں کے برابرلانا ہوتا تودیہی علاقے صوبہ پنجاب، سرحداوربلوچستان میں بھی تھے لیکن یہ کوٹہ سسٹم صرف سندھ میں نافذ کیا گیا۔ اس طرح صوبہ سندھ کودیہی اورشہری کی بنیاد پر تقسیم کردیا گیا۔ میں سوال کرتا ہوں کہ سندھ کودیہی اورشہری کی بنیادپر تقسیم الطاف حسین نے کیا یا ذوالفقارعلی بھٹو نے کیا؟ کیا اس وقت الطاف حسین سیاست میں تھا؟ کیا اس وقت ایم کیوایم کاوجود تھا؟ یہ کوٹہ سسٹم محض دس سال کے لئے تھالیکن یہ آج بھی نافذ ہے۔ 
ذوالفقارعلی بھٹو کی اقتدار کی ہوس اورآمرانہ سیاسی سوچ کی وجہ سے جب 1971ء میں پاکستان دولخت ہوگیا تو وہ مہاجریا اردواسپیکنگ جوسابقہ مشرقی پاکستان میں آباد تھے جنہوں نے 1971ء کی جنگ کے دوران پاکستان کی فوج کا ساتھ دیا، جنہوں نے پاکستان کوبچانے کے لئے اپنی جانوں اوراملاک کی قربانیاں دیں، لیکن پاکستان کی وہ ایک لاکھ فوج جو بھارتی فوج کے آگے ہتھیارڈال کردوسال تک بھارتی فوج کی قید میں رہنے کے بعد پاکستان واپس آگئی لیکن اردواسپیکنگ مہاجرجوسابقہ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ریڈکراس کے کیمپوں میں دھکیل دیے گئے جب ان کوپاکستان لانے کا مطالبہ کیا گیا توپیپلزپارٹی اوراس کے نام نہادقوم پرستوں نے ان اردواسپکنگ مہاجروں کی وطن واپسی کی مخالفت کیوں کی؟ کیایہ مہاجروں سے نفرت اورتعصب نہیں تھا؟ پیپلزپارٹی اورنام نہاد قوم پرستوں نے ان مہاجروں کی پاکستان واپسی کی مخالفت کی،”بہاری نہ کھپن“ کے نعرے لگائے اورسادہ لوح سندھی عوام میں نفرت پیداکی۔ فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے ان مہاجروں کو، جنہیں عرف عام میں ”بہاری“ کہاجاتا ہے، انہیں ”بھکاری“ کہا، یہ محب وطن پاکستانی  55سال گزرجانے کے بعدآج بھی بنگلہ دیش کے ریڈکراس کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ ان تاریخی حقائق کی روشنی میں،میں سوال کرتا ہوں کہ کیا مہاجروں نے کسی سے نفرت اور تعصب کا عمل کیا یا مہاجروں کے ساتھ نفرت اورتعصب برتا گیا؟ اورآج بھی برتا جارہاہے؟مگربعض عناصر پیپلزپارٹی سے پیسے لیکرسوشل میڈیاپر اپنی پوسٹ کاڈز میں ایم کیوایم، الطاف حسین اورمہاجروں پر بہتان تراشی اورمن گھڑت الزامات لگا کرنفرت پھیلانے کاعمل کررہے ہیں۔ ایم کیوایم اورمہاجروں کوتنگ نظرقراردے رہے ہیں جبکہ الطاف حسین اورا س کی ایم کیوایم نے صرف مہاجروں کے لئے جدوجہد نہیں کی بلکہ سندھیوں، پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں، سرائیکیوں، کشمیریوں،ہزارے وال اورتمام زبانیں بولنے والوں کے حقوق کے لئے آوازاٹھائی، سب کواپنی پارٹی میں نمائندگی دی،سب کوایوانوں میں پہنچایا۔ الطاف حسین نے اپنے گھرعزیزآباد سے سندھی بولنے والے عزیزاللہ بروہی، نثارپنہور اوربلوچ نبیل گبول کومنتخب کرکے قومی اسمبلی میں بھیجا، کیا پیپلزپارٹی نے آج تک کسی مہاجر کولاڑکانہ، رتوڈیرو یاخیرپور سے کامیاب کرایا؟ ایم کیوایم تمام زبانیں بولنے والوں کی جماعت ہے، وہ کسی سے نفرت نہیں کرتی، یہی وجہ ہے کہ میرا ایک سندھی ساتھی نثارپہنورمیری ایم کیوایم کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کرنے کی پاداش میں آج پانچویں مرتبہ لاپتہ ہے، آج اس کاجوان بیٹامحسن پہنور بھی اپنے باپ کے ساتھ لاپتہ ہے، فیصل مجیب کے ساتھ ساتھ کراچی اورحیدرآباد کے دیگر کئی کارکنان لاپتہ ہیں، میرے پختون ساتھی انور خان ترین کودومرتبہ گرفتارکرکے لاپتہ کیا گیا، میرے پنجابی،بلوچ، سرائیکی، کشمیری ساتھیوں کوریاستی جبرکانشانہ بنایا گیا مگرمتعصب پوڈکاسٹرزالطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم پر تعصب اورتنگ نظری کا شرمناک بہتان لگارہے ہیں، ایسابہتان لگانے والوں کوشرم آنی چاہیے۔ 
ایسے حالات میں سندھیوں اورمہاجروں کوبہت ہوشیاری اورسمجھداری سے کام لیناہوگااورنفرت پھیلانے والے متعصب عناصر کی سازشوں کواپنے اتحاد سے ناکام بنانا ہوگا، اس کے لئے سندھی دانشوروں کوبھی آگے آناہوگا، سندھی اورمہاجردونوں سندھ دھرتی کے مستقل باشندے ہیں، انہیں اس دھرتی پر ملکررہنا ہوگا۔ 
میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈمارشل عاصم منیرصاحب سے بھی کہتاہوں کہ ایم کیوایم ایک غریب اورلوئرمڈل کلاس کی جماعت ہے،جوسب کے لئے حقوق چاہتی ہے، آپ اورفوج کے تمام کورکمانڈروں کوبھی اس حقیقت کوسمجھنا ہوگا الطاف حسین نے ملک میں اسٹیٹس کوکے خلاف بات کی تھی، ملک میں منصفانہ نظام کے لئے آوازبلند کی تھی تولاہورہائیکورٹ کے ذریعے ستمبر2015ء میں میری تحریرتقریر پرپابندی عائد کردی گئی، یہ پابندی آج تک کیوں ہے؟ آج پھر الطاف حسین، اس کی ایم کیوایم اورمہاجروں کے خلاف زہرافشانی کرکے سندھ میں نفرتیں پیدا کرکے ایک بار پھرفساد برپاکرنے کی کوشش کی جارہی ہے، خداکے لئے سندھ میں نفرت اورفساد کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرنے والوں سے بچایا جائے۔ 


الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر 433  ویں فکری نشست سے خطاب
21  جولائی 2026ء



7/25/2026 4:35:39 PM