Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ فیوڈوکریسی کاراج ہے


پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ فیوڈوکریسی کاراج ہے
 Posted on: 8/25/2025

پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ فیوڈوکریسی کاراج ہے

پاکستان کوقائم ہوئے 78برس گزرچکے ہیں لیکن آج بھی ہر شہری کے ذہن میں ایک ہی سوال ہے کہ کیا پاکستان ایک آزاد ملک ہے؟ہم اپنی پالیسیاں بنانے میں آزاد اورخودمختار ہیں؟ انڈیااور پاکستان ایک ساتھ ہی آزاد ہوئے تھے لیکن اگرہم دونوں ملکوں کاموازنہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انڈیاحقیقی معنوں میں ایک آزاداورخودمختارملک کی حیثیت سے وجودرکھتاہے جوکسی بھی بیرونی طاقت سے ڈکٹیشن نہیں لیتا۔اگرحالیہ دنوں کی ہی مثال لی جائے تو امریکہ کی جانب سے انڈیا پر روس سے تیل نہ خریدنے کے تمام تردباؤ اور دھمکیوں کے باوجود انڈیااپنی پالیسی میں تبدیلی کرنے اور امریکہ سے کسی قسم کی ڈکٹیشن لینے کے لئے تیارنہیں ہے ۔ دوسری جانب اس بات سے کوئی انکارنہیں کرسکتا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی بنانے میں آزاد نہیں ہے ، ہماری خارجہ پالیسی بیرونی قوتوں کی مرضی ومنشاکے مطابق بنائی جاتی ہے اوراس میں بیرونی قوتوں کے مفادات کا خیال رکھاجاتاہے۔ اس صورتحال کا سبب پاکستان میں رائج فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور2 فیصد مراعات یافتہ اشرافیہ کاتسلط ہے۔
 انڈیا نے آزادی کے فوری بعد جاگیردارانہ نظام کاخاتمہ کردیا تھا لیکن پاکستان میں آج 78برس کے باوجود یہ جاگیردارانہ نظام رائج ہے،پاکستان پر جاگیرداروں،وڈیروں اورسرداروں کے چند خاندانوں کی اجارہ داری ہے جن کا ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ ہے۔ پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ فیوڈوکریسی کاراج ہے۔جنرل ایوب خان کے مارشل لاء دورمیں مراعات یافتہ طبقہ کے 22 خاندانوں کی اجارہ داری تھی ، آج یہ 22 ہزار خاندان بن چکے ہیں۔ یہ2فیصد رولنگ ایلیٹ اسمبلیوں میں آکر ملک کے 98 فیصدغریب ومتوسط طبقہ کے عوام کے مفادات کے بجائے اپنے مفادات کیلئے قانون سازی کرتی ہے ۔ اس اقتدارمافیا میں جاگیردار، وڈیرے ، سردار اورسرمایہ داروں کے ساتھ ساتھ کرپٹ جرنیل اورکرپٹ ججز بھی شامل ہیں۔ یہ مافیا باہمی مفادات کے لئے کام کرتی ہے۔ اسمبلیاں اس مافیا کے مفاد کے قانون بناتی ہیں اورکرپٹ ججزان قوانین کاتحفظ کرتے ہیں اوراسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے تحفظ کے لئے رات 12بجے بھی عدالت لگالیتے ہیں۔ ملک کی مذہبی جماعتیں اورملّا بھی اس مافیا کاحصہ ہیں جواپنے فتووں کے ذریعے اس اقتدارمافیا کوسپورٹ کرتے ہیں۔ یہ مافیابرسوں سے ملک کولوٹ رہی ہے۔ اسی اقتدار مافیاکی لوٹ مار کی وجہ سے پاکستان معاشی طورپرتباہ ہوا۔ ملک کے تمام ادارے تباہی سے دوچار ہیں، پاکستان معیشت کی زبوں حالی کے ساتھ ساتھ ہر میدان میں زوال اورانحطاط کاشکار ہے۔ پورے ملک میں امن وامان کی صورتحال خراب ہے اورغریب ومتوسط طبقہ کے عوام اس صورتحال میں اپنے حقوق سے محروم اور بے یارومددگارہیں۔ 
 ملک کے ان حالات میں عوام کابھی قصور ہے کہ وہ جمہوریت کے نام پر بڑے بڑے جاگیرداروں، وڈیروں اورموروثی سیاست کرنے والے خاندانوں کے پیچھے چلتے ہیں۔ پاکستان میں ذوالفقارعلی بھٹو نے سوشلزم ہماری معیشت اورروٹی ،کپڑا،مکان کانعرہ لگاکرعوام کوبیوقوف بنایا، پیپلزپارٹی کے بانیان میں ڈاکٹرمبشرحسن، ملک معراج خالد، جے اے رحیم اورمعراج محمدخان جیسے سوشلسٹ دانشور شامل تھے لیکن بھٹونے اقتدارمیں آنے کے بعد ان تمام دانشوروں کوPPP سے نکال باہر کردیا، عوام نے بھی جمہوریت اورسوشلزم کے نام پر بھٹوکاساتھ دیالیکن وہ یہ بھول گئے کہ سوشلزم کی بات کرنے والا خود ایک بہت بڑا وڈیرہ او رجاگیردارتھا۔ نوازشریف کی شکل میں فوج کوایک صنعتکارملاجواقتدارمیں آنے کے بعد ایک بڑا جاگیردار بن گیااوراس نے اپنے خاندان کوبھی جاگیردارانہ سوسائٹی میں شامل کردیا۔ ملک کے چاروں صوبوں سے وڈیرے جاگیردار ہی اقتدارکے ایوانوں میں پہنچے۔لہٰذا اس فیوڈل کلچر کوکوئی بھی ختم نہیں کرسکا،آج بھی ملک کا کنٹرول ان جاگیرداروں کے پاس ہے اورملک کی دولت چند خاندانوں کے ہاتھ میں ہے۔ 
پاکستان میں واحد الطاف حسین ہے جس نے غریب ومتوسط طبقہ پر مشتمل اپنی جماعت بناکر اس دوفیصد اشرافیہ کے نظام کے خلاف آوازاٹھائی اورغریب ومتوسط طبقہ کے نوجوانوں کواسمبلیوں میں بھیج کر فرسودہ جاگیردارانہ نظام اوراسٹیٹس کو کوچیلنج کیااورملک میں 2فیصد اشرافیہ کے تسلط کاخاتمہ کرکے ملک پر 98فیصد غریب ومتوسط طبقہ کی حکمرانی قائم کرنے کے لئے جدوجہد کی۔اسی لئے فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کوختم کرنے کے لئے اس کے خلاف باربارآپریشن کئے اورالطاف حسین کوملک سے باہر رہنے پر مجبور کیا لیکن تمام ترریاستی جبروستم کے باوجود الطاف حسین کاپیغامِ حق ایک دن کے لئے بھی نہیں رکااور آج بھی پورے ملک میں الطاف حسین کے چاہنے والے موجود ہیں ۔
تحریک انصاف وجود میں آئی توبدقسمتی سے اس میں وہی جاگیردار، وڈیرے اورسردار آگئے جنہوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اس فرسودہ جاگیردارانہ نظام اوراسٹیٹس کوکوجاری رکھا۔ لیکن آج اس فوجی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کوجیل میں ڈالاہواہے۔ آج پی ٹی آئی کے کارکنوں کوبھی سوچناہوگاکہ کیاوہ چاہیں گے کہ یہ اسٹیٹس کواسی طرح قائم رہے ۔ 
 میں پاکستان کے محروم ومظلوم عوام سے کہوں گاکہ اگر وہ پاکستان کوبیرونی طاقتوں اور اس 2فیصد اشرافیہ کی حکمرانی سے نجات دلاناچاہتے ہیں اوراپنے حقوق حاصل کرناچاہتے ہیں توانہیں میدان عمل میں آناہوگا۔ یادرکھئے کہ کوئی محروم ومظلوم عوام کوطشتری میں رکھ کرحقوق نہیں دیتابلکہ اس کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے اورقربانی دینی پڑتی ہے ۔میں عوام سے کہوں گاکہ وہ ہرگزمایوس نہ ہوں اوراپنی جدوجہد جاری رکھیں۔
میں کارکنوں سے کہوں گاکہ وہ الطاف حسین کے پیغام کوپھیلاتے رہیں، الطاف حسین کاپیغام سچائی کاپیغام ہے… ملک کی حقیقی آزادی کاپیغام ہے… اور2  فیصد اقتدارمافیا سے نجات کاپیغام ہے۔ الطاف حسین کے اس فکروفلسفے کوآگے بڑھائیں اوراس کے ہاتھ مضبو ط کریں۔

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست 306سے خطاب 
24  اگست 2025ئ



8/31/2025 3:26:47 AM