میں پاکستان کے موجودہ کرپٹ سیاسی نظام کی تبدیلی چاہتاہوں۔الطاف حسین
پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹریٹوکریسی (Stratocracy) ہے
ملک، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور عناصر کے ذریعے چلایا جارہاہے، میں اس نظام کی تبدیلی چاہتاہوں
بانی وقائد کالندن میں ایم کیوایم برطانیہ کے زیراہتمام 73ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب
لندن……21 ستمبر2026ء
ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ میں کبھی کسی کے خلاف نہیں تھا، میں کرپٹ اور غیرمنصفانہ اورظالمانہ سسٹم کے خلاف تھا،میں پاکستان کے کرپٹ سیاسی نظام کوتبدیل کرناچاہتاتھا اورآج بھی موجودہ کرپٹ سیاسی نظام حکومت کی تبدیلی چاہتاہوں۔پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹریٹوکریسی (Stratocracy) ہے یعنی ملک، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور عناصر کے ذریعے چلایا جارہاہے۔
انہوں نے یہ بات لندن میں ایم کیوایم برطانیہ کے زیراہتمام اپنی 73ویں سالگرہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس پرجوش اوربھرپوراجتماع میں لندن سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے مختلف تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کمیونٹی کے افرادنے شرکت کی۔ اجتماع میں برطانیہ کے ساتھ ساتھ امریکہ، فرانس، بیلجیئم اورمڈل ایسٹ سے آئے ہوئے پارٹی کے ذمہ داروں نے بھی شرکت کی۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرے گھرپر حملہ کرنے والے سمجھ رہے تھے کہ وہ حملہ کرکے مجھے ڈرادیں گے، مجھے خوفزدہ کردیں گے لیکن دیکھ لیں کہ آج اس اجتماع میں موجودہوں، میں اللہ کے سواکسی سے نہیں ڈرتا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں فوج کے خلاف نہیں، میں اس بات پر یقین رکھتاہوں ہر ملک کے دفاع کے لئے فوج کی ضرورت ہوتی ہے پاکستان میں بھی فوج ضروری ہے لیکن وہ اپنے آئینی دائرہ کار سے باہررہ کرکام کررہی ہے، تمام اداروں پر سویلین کے بجائے فوج کے افسران متعین ہیں۔ملک کا پورا نظام فوج کے حکام کے ماتحت ہے۔ پاکستان میں ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹریٹوکریسی (Stratocracy) ہے یعنی ملک، ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور عناصر کے ذریعے چلایا جارہاہے۔برطانیہ میں شہریوں کواپنے آرمی چیف کانام تک معلوم نہیں ہوتالیکن پاکستان میں آرمی چیف سے لیکرتمام اہم عہدوں پر فائزفوجی حکام کے نام اور تفصیلات بچے بچے کومعلوم ہوتی ہیں۔ فوج کے جرنیل سیاسی معاملات میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔ میں فوج کے خلاف نہیں،فوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف ہوں،میں کرپٹ سیاستدانوں، فیوڈلز اور کرپٹ جرنیلوں کے خلاف ہوں، میں فوج کے سپاہیوں کے خلاف نہیں بلکہ میری مخالفت فوج کے ان چند جرنیلوں کی پالیسیوں سے ہے جن کے فیصلوں کے نتیجے میں ملک اور قوم کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب انہوں نے سیاست میں فوج اور سرکاری ایجنسیوں کی مداخلت کے خلاف بات کی توانہیں فوج کامخالف اورملک دشمن قراردیدیاگیا۔ پنجاب، کشمیرپورا ملک میرے مخالف ہوگیا۔ 1992ء میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نوازنے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کا منصوبہ بنایا، قوم کودھوکہ دینے کے لئے 72بڑی مچھلیوں کی ایک فہرست تیار کی، اس فہرست میں الطاف حسین یااس کے بھائیوں بہنوں یااس کے رہنماؤں کے نام نہیں تھے بلکہ آصف زرداری، بینظیر کے کامدار، غلام مصطفےٰ جتوئی مرحوم، پیرپگارا مرحوم اوردیگربڑے بڑے وڈیروں کے نام تھے اورقوم کویہ بتایاگیاکہ سندھ میں بڑے بڑے ڈاکوؤں، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں اور ان کی سرپرستی کرنے والے پتھاریداروں کے خلاف فوجی آپریشن کیاجائے گا۔ جبکہ میں نے واضح الفاظ میں اس خدشے کا اظہارکردیاتھاکہ یہ آپریشن اصل میں ایم کیوایم کے خلاف ہوگا۔ میری بات سچ ثابت ہوئی اورفوج نے 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا جس کے دوران ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کردیاگیا، سینکڑوں کولاپتہ کردیا، بہت سے آج تک لاپتہ ہیں۔ سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری شجاعت حسین کابیان ریکارڈپر ہے کہ ایم کیوایم کے کارکنوں کومارکراسلا م آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں میں دفن کردیاگیاتھا۔ آپریشن کے دوران فوج پورے پورے علاقوں کے محاصرے کرکے نوجوانوں اور بزرگوں کو گھروں سے نکال کران کی قمیضیں اتارکر انہیں بھیڑبکریوں کی طرح میدانوں میں جمع کرتی اوراس دوران گھروں میں خواتین کی بے حرمتی کی جاتی، جیسامشرقی پاکستان میں کیاگیاتھا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب ایم کیوایم کے خلاف آپریشن ہورہاتھااورہماری لاشیں گرائی جارہی تھیں تو پنجاب اورخیبرپختونخوا میں لوگ خوشیاں منارہے تھے اورپاک فوج زندہ باد کے نعرے لگارہے تھے۔جب 9مئی کے واقعے کے بعد پنجاب میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریاں شروع ہوئیں توپی ٹی آئی والوں نے کہاکہ پی ٹی آئی پر بہت ظلم ہورہاہے۔ میں کہتاہوں کہ جتناظلم ایم کیوایم اورمہاجروں کے ساتھ
ہواہے اس کاپانچ فیصد بھی پنجاب میں پی ٹی آئی والوں پر نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی کے کتنے لیڈر، پارٹی ذمہ داران اورکارکنان شہیدکئے گئے؟ کتنے لوگ لاپتہ کئے گئے؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں پاکستان کے کرپٹ سیاسی نظام کوتبدیل کرناچاہتاتھا اورآج بھی موجودہ کرپٹ سیاسی نظام حکومت کی تبدیلی چاہتاہوں۔میں پاکستان کوجاگیرداروں اوروڈیروں سے نجات دلاناچاہتاہوں،میں میں ایساسسٹم چاہتاہوں کہ ہرشہری کویکساں حقوق حاصل ہوں،خواہ ان کامذہب یاعقیدہ کوئی بھی ہو۔ میری مخالفت کسی فرد، صوبے یا جماعت سے نہیں، بلکہ اس نظام سے ہے جس میں طاقت قانون سے بالاتر ہو جائے۔ وہ سندھ کے وڈیرانہ نظام، پنجاب اور دیگر صوبوں کے جاگیردارانہ ڈھانچوں، بدعنوانی اور ایسے سیاسی انتظام کے مخالف ہیں جس میں جمہوری ادارے عسکری اختیار کے تابع ہوں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہمیں فوج کے خلاف نہیں بلکہ میری مخالفت فوج کے ان چند جرنیلوں کی پالیسیوں سے ہے جن کے فیصلوں کے نتیجے میں ملک اور قوم کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ماضی میں مذہب اور اسلام کے نام کو مخصوص مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا،اس غلط پالیسی کے نتیجے میں ملک میں مذہبی انتہاپسندی اور طالبانائزیشن پھیلی جس کے اثرات پورے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام نے برداشت کیے۔ میں اس وقت بھی کہتا تھا کہ آپ جوطالبان بنارہے ہیں یہ ایک دن مونسٹربن جائیں گے اورآپ کوہی کھائیں گے،لیکن میری باتوں کوفوج کے خلاف لیاگیا،آج ان پالیسیوں کے نتائج ملک کے سامنے ہیں،ملک میں خودکش حملے ہورہے ہیں اورمعصوم شہری جاں بحق ہورہے ہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کیاگیااورانہیں گرفتارکیاگیا تومیں نے اس عمل کی مذمت کی اوران کے حق میں بیانات دیے تو ایم کیو ایم کے بعض کارکنوں نے مجھ سے سوال کیا کہ جس شخص نے ماضی میں آپ کی شدید مخالفت کی، آپ آج اس کے حق میں کیوں بول رہے ہیں؟ تومیں نے اپنے ساتھیوں کو یہی تلقین کی کہ یہ مت دیکھو کہ کس نے تمہارے ساتھ برا کیا تھا، یہ دیکھو کہ تم کسی کے لیے کیا اچھا کر سکتے ہو۔جب نوازشریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نوازلندن میں علیل ہوئیں تومیں نے ان کی عیادت کے لئے ساتھیوں کوبھیجا، جب نوازشریف اوران کی صاحبزادی مریم نوازکو گرفتار کیا گیا تومیں نے اس کی مذمت کی۔جب بھی جس کے ساتھ زیادتی ہوئی، میں نے اس کے لئے آوازبلند کی۔ میں ہمیشہ مظلوم کے حق میں اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرتارہاہوں خواہ اس کا تعلق کسی بھی جماعت، صوبے یا مکتبہء فکر سے ہو۔
میں نے نظام کے خلاف آوازبلند کی تومجھ پر پاکستان میں مجھ پر قاتلانہ حملے کئے گئے،مجھ پر گرینیڈسے حملہ کیاگیا۔جس کے بعد میں ساتھیوں کی درخواست پر عارضی طورپرلندن آگیا،میں پاکستان واپس جانا چاہتا تھا مگر مجھ پر پاکستان واپس جانے کے راستے بند کردیے گئے۔ میں نے یہاں رہ کربھی اپنی جدوجہد جاری رکھی، میں اب بھی پاکستان میں بہترنظام کے لئے جدوجہد کررہاہوں۔