Home
 
Altaf Hussain
 
English News
 
Urdu News
Sindhi News
Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
Events
Blogs
Fikri Nishist
Study Circle
Songs
Videos Gallery
Manifesto 2013
Philosophy
Poetry
Online Units
Media Corner
RAIDS/ARRESTS
About MQM
Social Media
Pakistan Maps
Education
Links
Poll
Web TV
Feedback
KKF
Contact Us
تقسیم ہند اور تاریخ برصغیر کے ناقابل تردید پہلو :
Posted on: 7/19/2026
تقسیم ہند اور تاریخ برصغیر کے ناقابل تردید پہلو : ( اس فکری نشست کو ضرور پڑھئیے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستان کی تاریخ کئی ہزار سال پرانی ہے جبکہ پاکستان کی تاریخ محض 79 برس کی ہے اسلئے پاکستان اور ہندوستان کی تاریخ کا موازنہ نہیں کیاجاسکتا۔ ہندوستان کی تقسیم سلطنت برطانیہ کے طےشدہ منصوبےاور سازش کی تحت کی گئی اوراس تقسیم کیلئے ہندوستان میں مذہب کو ہتھیار بناکرفسادات اور خون خرابہ کرایا گیا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعدبرطانوی سلطنت کیلئے ہندوستان پر اپنا قبضہ جاری رکھنا ناممکن ہوگیا تھا،انگریزوں نے جاتے جاتے ایسے اقدامات کیے کہ ہندوستان تقسیم درتقسیم ہوگیا۔ہندوستان کوتقسیم کرنے کیلئے دوقومی نظریئےدیا گیا،اس نظریئے کوجواز بناکرآج بھی ببانگ دہل کہا جاتا ہے کہ ہندو اورمسلمان الگ الگ قومیں ہیں، ان کی تہذیب، ثقافت، تمدن، کھانے، رہن سہن اورسب سے بڑھ کرمذہب الگ الگ ہیں۔ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور ہندو عددی اعتبارسےاکثریت میں ہیں لہٰذا انگریزوں کے جانے کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوؤں کا غلام بن کررہنا پڑےگا، اس سوچ کو پھیلانے کیلئے انگریزوں نے مذہب کا استعمال کیا تاکہ ہندوستان سے برطانیہ کے جانے کے بعد بھی پورے ساؤتھ ایشیاریجن کو کنٹرول کیاجاسکے۔ کیادوقومی نظریہ حقیقت تھا؟ ہندوستان کی تقسیم کیلئے انگریزوں نے دو قومی نظریہ دیا، دوقومی نظریہ ایک فراڈ تھا، ہندوستان میں ہندو اور مسلمان کا مسئلہ اس لئے اٹھایا گیا کہ اگر انگریز ہندوستان سے چلے گئے تو مسلمان، ہندو اکثریت کے غلام بن جائیں گے اگر ایسا کوئی سلسلہ ہوتا کہ ہندو اورمسلمان الگ الگ ہیں تو انگریزوں نے یہ مسئلہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کیوں اٹھایا؟ مسلمان 700 برسوں سے ہندوؤں اورہندوستان کے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مل کررہ رہے تھے لیکن دوقومی نظریہ کے نام پر کہاگیا کہ ہندوستان میں مسلمان، ہندوؤں کے ساتھ نہیں رہ سکتے اور مسلمانوں کا علیحدہ وطن ہونا چاہیے، اگر یہ مطالبہ صحیح ہوتا تو ہندوستان کی تقسیم اس طرح کی جانی چاہیے تھی برصغیر کے 10 کروڑ مسلمان اس زمین پر آباد ہوتے جہاں پاکستان بنایا گیا اور ایک بھی مسلمان ہندوستان میں نہیں رہتا اور دوقومی نظریئے کی بنیادپر حاصل ہونے والا ملک ہندوستان کے 10کروڑ مسلمانوں کا وطن ہوتا۔ ہندوستان میں بزرگان دین: اس حوالے سے اگر ہم غورکریں اوربزرگان دین کودیکھیں، یہ تاریخی حقائق ہیں کہ حضرت امیرخسروؒ1253ء میں پیدا ہوئے جبکہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء 1238ء میں پیدا ہوئے،حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ 1142ء میں پیداہوئے جبکہ حضرت علی بن عثمان الہجویری المعروف داتا گنج بخش1009ء میں پیدا ہوئے۔ہندوستان میں ان بزرگان دین میں کوئی 1000ء میں پیدا ہوئےاور کوئی 1200ء میں پیدا ہوئے،یہ تمام بزرگان دین مسلمان تھے، انسانیت کی تبلیغ کیا کرتے تھے اورلوگوں کو دین اسلام کی دعوت دیاکرتے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہندوؤں کی اکثریت نے ان بزرگان دین کو اللہ تعالیٰ، رسول اللہ ؐ اور دین اسلام کی تبلیغ کی اجازت کیسے دے دی تھی؟ اگر مسلمان اور ہندو ایک ساتھ نہیں رہ سکتے تھے تو پھر آج تک دہلی اور اجمیر شریف میں ان بزرگان دین کےمزارات کیوں ہوتے؟ ان اولیائےکرام نےکبھی ہندو، سکھ، عیسائی یاکسی دوسرے مذاہب کے لوگوں کو مذہبی تفریق کی بنیادپر اپنی محفل سے نہیں نکالا تھا، کبھی مذہب کی بنیاد پر کسی سے نفرت یاتعصب کا درس نہیں دیاتھا۔ ہندوستان پر سب سے پہلے جس مسلمان علاؤالدین خلجی نے1296ء میں باہرسے آکر ہندوستان کو فتح کیااور حکومت
کی اوروہ 1316ء تک سلطنت دہلی پر قابض رہا۔ مسلمانوں نے ہندو راجہ، مہاراجہ اور بادشاہوں کو شکست دیکر ہندوستان پر اپنی حکومتیں ضرور قائم کرلیں مگر کیا انہوں نے غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کومسمار کیا تھا؟ یہ ایک تلخ بات ہے لیکن حقیقت ہے کہ دوقومی نظریئے کی بنیادپر صرف ہندوستان کی زمین کوہی تقسیم نہیں کیا گیا بلکہ مسلمانوں کی بھی تقسیم کی گئی، ہندوستان کے مسلمانوں کو پہلے دو اور پھر تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا، پورے ہندوستان میں بنگال سےدہلی، دہلی سے بہار، بہار سے حیدرآباد دکن، حیدرآباد دکن سے جوناگڑھ، جوناگڑھ سے راجپوتانہ اور راجپوتانہ سے گجرات تک سب جگہ مسلمان اور ہندو صدیوں سے مل جل کررہتے چلے آرہے تھے پھر اچانک 80 سال پہلےہندوستان کو تقسیم کیوں کردیاگیا؟ اگر دوقومی نظریہ سچا ہوتا آج ہندوستان میں ایک بھی مسلمان نہیں رہتا بلکہ ہندوستان کےتمام مسلمان دوقومی نظریئے کے تحت بننے والے ملک میں ہوتے مگرکیا دوقومی نظریئے کے مطابق ایسا ہوا؟
انگریزوں نے ہندوستان تقسیم کرکے پاکستان بنایا اورپاکستان ایسے خطے میں بنایا گیا جہاں کے لوگ انگریزوں کے سب سے زیادہ وفادار تھخواہ وہ غریب ومتوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہوں یا جاگیردار وڈیرے ہوں، انہی علاقوں کے لوگوں نےانگریزکی فوج میں بھرتی ہوکر پوری دنیا میں انگریزوں کے مفادات کے لئے جنگوں میں حصہ لیااورانگریزوں کے ساتھ مل کرخانہ کعبےپر گولیاں چلائیں۔ انگریزوں نے اپنے وفادار جاگیرداروں، زمینداروں اوروڈیروں کو پاکستان بناکردیا جوانگریزوں کی تابعداری، اطاعت اور فرمانبرداری میں آگے آگے تھے۔ جب 14، اگست1947ء کو پاکستان قائم ہوگیا تو اس وقت جنرل فرینک میسروی اور جنرل ڈگلس گریسی پاکستانی فوج کے سربراہ تھے لیکن محض 9 سال بعد ہی 1958ء میں انگریزوں نے پاکستان اپنے وفادار فوجی جرنیلوں کے حوالے کردیا۔ قائداعظم کے ساتھ دھوکہ: قائداعظم انگریزوں کی باتوں میں آگئے اور وہ سمجھےکہ جو انہیں بتایا جارہا ہے وہ درست ہےوہ تحریک پاکستان کے دوران جلسے جلوسوں میں عوام کا جوش وخروش دیکھتے تھے، یہ تمام جلسے جلوس اورمسلم لیگ کے کنونشن بنگال، یوپی، سی پی اوربہار میں ہواکرتے تھے جبکہ جن علاقوں میں پاکستان قائم ہوا وہاں پاکستان کی کوئی تحریک کبھی چلی ہی نہیں۔ یہ بات بہت سخت لگے گی کہ جب تحریک پاکستان چل رہی تھی تو موجودہ پاکستان کے کتنے مسلمانوں نے تحریک پاکستان میں جانی ومالی قربانیاں دیں؟ صوبہ بلوچستان تو پاکستان کا حصہ ہی نہیں تھا لیکن صوبہ پنجاب، صوبہ سندھ اور صوبہ سرحد کے کتنے لوگوں نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا؟ ان علاقوں کے لوگوں نے نہ تو تحریک پاکستان میں حصہ لیا تھا اور نہ ہی مسلم لیگ او رقائداعظم کو سپورٹ کیاتھا۔ متحدہ ہندوستان کے تحت جب پہلا الیکشن ہوا تو موجودہ پاکستان کے علاقوں میں یونینسٹ پارٹی کامیاب ہوئی تھی لیکن 1940ء کے الیکشن میں اس خطے کےجاگیرداروں، وڈیروں اور زمینداروں کو معلوم ہوگیا تھا کہ ان کے علاقوں میں پاکستان بنے گا توتب انہوں نے مسلم لیگ کو سپورٹ تو کیا تھا مگر حکومت یونینسٹ پارٹی کی قائم ہوئی۔ ہندوستان کے مسلم اقلیتی علاقے جہاں آزادی کی تحریک چلی،گھربارلٹے، بستیاں جلیں، ماؤں، بہنوں کی عصمتیں تارتار ہوئیں، معصوم بچوں کو نیزوں پر اچھالا گیا جب ان علاقوں کےلوگوں کے سروں پر سائبان نہ رہا تو انہوں نے پاکستان کو اپنی محنت اورقربانیوں کاثمر سمجھا اور پاکستان ہجرت کی۔ہجرت کے دوران بھی مہاجرین کے قافلوں پرحملے کیے گئے اور مہاجروں کا قتل عام کیا گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی پوری پرورش اور تربیت مغرب میں ہوئی تھی، وہ مغرب کے جمہوری نظام میں زندگی گزارچکے تھے اوران کا خیال تھا کہ پاکستان میں جمہوریت ہوگی۔ جب انہوں نے پاکستان کے گورنر جنرل کاعہدہ سنبھالا تو انہیں انگریزوں کی اس سازش کا علم ہی نہیں تھا کہ انکے حلف اٹھانے کے بعد انہیں استعمال کرکے ٹشوپیپرکی طرح پھینک دیاجائےگا۔افسوس کہ بعد میں قائداعظم، لیاقت علی خان اورفاطمہ جناح کوقتل کردیا گیا،قائداعظم سے کہا گیا کہ آپ ہندوستان کےمسلمان بیورکریٹس اوراعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں سے اپیل کریں کہ وہ پاکستان آکرملک کا سسٹم سنبھالیں کیونکہ اس وقت پاکستان کوچلانے والا کوئی نہیں تھا۔ ہندوستان سے آنے والے مہاجروں نے پاکستان کا ابتدائی انفرااسٹرکچر بنایا، مشکل حالات میں انتظام حکومت سنبھالا اور ملک کی تعمیروترقی کے لئے رات دن ایک کیا لیکن جاگیرداروں، وڈیروں، خانوں اورسرداروں نے دیکھا کہ یہ اسکول، کالجزاوریونیورسٹیز تعمیر کررہے ہیں، تعلیمی نظام لارہے ہیں اور ہاریوں، مزدوروں، کسانوں اورعام لوگوں کویہ تعلیم اورشعور دے رہے ہیں کہ تم بھی انسان ہو، تمہیں بھی آزادی کے ساتھ زندہ رہنے کاحق ہے، جاگیرداروں، وڈیروں، خانوں اور سرداروں کوخدشہ ہوا کہ اگر ہمارے ہاریوں، مزدوروں اور کسانوں نے یہ تعلیم حاصل کرنا شروع کی تو یہ ہمارے غلام نہیں رہیں گے، لہٰذا انہوں نے اس کے خلاف سازشیں شروع کردیں، انگریزوں کوبھی ہندوستان کے تعلیم یافتہ سویلین کوحکمرانی دینی ہی نہیں تھی لہٰذا قائداعظم اوران کے قریبی ساتھیوں کوراستے سے ہٹانے کے بعد 1958ء میں جنرل ایوب خان نےمارشل لا نافذ کردیا اور ملک کا انفرا اسٹرکچر کھڑا کرنےوالےمہاجربیورکریٹس کونکال دیا اور سارا سسٹم پنجاب اورسندھ کے جاگیرداروں کودیدیا۔پنجاب میں وہاں کے جاگیرداروں اورپختونخوا کووہاں کے خانوں کےحوالے کردیا گیا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرجنہوں نے قیام پاکستان کے لئے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کتنی ہی ماؤں، بہنوں کی عصمتیں تارتارہوئیں، وہ اپنا سب کچھ چھوڑکر پاکستان آئے تھے لیکن افسوس کہ 80سال گزرجانے کے باوجود مقامی لوگوں نے مہاجروں کودل سے قبول نہیں کیا گیا
مشرقی پنجاب سے موجود پنجاب میں ہجرت کرکے آنے والوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوا کیونکہ ان کی اور پنجاب میں رہنے والوں کی زبان، ثقافت اورطرز معاشرت ایک ہی تھی جبکہ ہندوستان سے ہجرت کرکے سندھ میں آباد ہونے والے اردواسپیکنگ کی زبان، ثقافت الگ تھی لہٰذا ان کاآنا یہاں کے سندھیوں کو پسند نہیں تھا، ابتدا میں کوئی فساد نہیں ہوالیکن اس کے بعد مہاجروں کے ساتھ ناانصافیوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ پاکستان میں قائداعظم کےانتقال کے بعد انگریزوں نےفوجی جرنیلوں کے ذریعے سسٹم تبدیل کردیا،ملک کانظام حکومت انگریزی زبان میں کردیا گیا،ملک میں دہرا تعلیمی نظام نافذ کردیاگیا، طبقاتی بنیادوں پرایک طر ف برطانوی اورامریکی طرز کے انگریزی اسکول کالج بنائے گئے جہاں جاگیرداروں، وڈیروں کے بچے ہی تعلیم حاصل کرسکیں جبکہ غریب کے بچوں کے لئے پیلے اسکول بنائے گئے۔اس طرح ملک میں جان بوجھ کردو طبقات پیدا کردیے گئے، ایک وہ جو اعلیٰ طبقہ کی کلاس جوانتظام حکومت میں آئے اور دوسراوہ نچلاطلبہ جوان کا غلام بنے اور جن پر حکمرانی کی جائے۔اسی ظالمانہ نظام کا نتیجہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 80برس میں پنجاب، سندھ،بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے صرف اشرافیہ اور ان کی اولادیں ہی اسمبلیوں میں پہنچتی رہیں جبکہ غریب کسان، مزدور اورلوئر مڈل کلاس افراد قومی وصوبائی اسمبلیوں اورسینیٹ میں پہنچنے کے بجائے محکوم رہے۔ایسے میں ان کے سامنے ایک جماعت متحدہ قومی موومنٹ آئی اورالطاف حسین نے نظریہ دیاکہ پاکستان انگریزوں کی فرمانبردار رولنگ ایلیٹ کا نہیں بلکہ عوام کاہے، پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام ختم ہونا چاہیے، انگریزوں کے فرمانبردار دوفیصد جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کاتسلط ختم ہونا چاہیے،انکےقبضےمیں جوہزاروں ایکڑ زمینیں ہیں وہ غریب ہاریوں، کسانوں، مزارعوں میں تقسیم ہوناچاہیے، ملک میں دہرانظام تعلیم ختم ہونا چاہیے، نظام تعلیم ایسا ہونا چاہیے کہ غریب اور لوئرمڈل کلاس کے بچے بھی ترقی کے میدان میں آگے بڑھ سکیں، وہ بھی سی ایس ایس کے امتحانات پاس کرکے اپنی اہلیت، قابلیت اورمیرٹ کی بنیاد پر انتظام حکومت چلانےکےلئے بیوروکریسی میں آسکیں، مسائل کے حل کےلئے نظام ان کے ہاتھ میں ہونا چاہیے جنہوں نے خود مسائل کا سامنا کیا ہو، الطاف حسین نے صرف یہ نظریہ ہی نہیں دیا بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کراچی،حیدرآباد اور سندھ کے تمام شہری علاقوں سے غریبوں، لوئرمڈل کلاس اورمڈل کلا س سے تعلق رکھنےوالے پڑھے لکھے نوجوانوں کوعوامی ووٹوں سے منتخب کرواکربلدیات، صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اورسینیٹ کے ایوانوں میں بھیجا جہاں اس سے پہلے اس کاتصور نہیں کیا جاسکتاتھا۔ ایم کیوایم کے اسی عوامی انقلاب کی وجہ سے ملک کی اقتدارمافیا ایم کیوایم کوختم کرنے کے درپے ہوگئی، اس کے خلاف اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پروپیگنڈے کرائے گئے، اس کے خلاف بار بار ریاستی آپریشن کئے گئے، آج بھی ایم کیوایم کاراستہ روکنے کے لئے اس کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں اورہربرائی اورخرابی کاذمہ داراس کو قرار دیاجارہاہے،اسے ملک دشمن قراردیا جارہا ہے۔ یہ پروپیگنڈے کرنے والے عناصر ہی دراصل ملک اورعوام کے دشمن ہیں جو نہیں چاہتے کہ پورے ملک میں غریب اور متوسط طبقہ کاانقلاب برپا ہو اور غریب عوام اشرافیہ کی غلام بنے رہیں۔ عوام کو ایسے عناصر کے پروپیگنڈوں میں نہ آئیں اورمتحد ہوکرجدوجہدجاری رکھیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 431 ویں فکری نشست سے خطاب 17جولائی 2026ء
youtube.com
Conspiracy to stoke the fires of hatred between Muhajirs and Sindhis...
صوبہ سندھ میں مہاجروں اور سندھیوں کے درمیان نفرتوں کی آگ بھڑکانے کی...
<
7/21/2026 2:07:21 AM
بعض پوڈ کاسٹرز پیپلزپارٹی کی ایما پر سندھ میں سندھی مہاجر نفرت کی آگ
...
18 Jul 2026
کمراں خدارا بیرونی قوتوں کے مفادات کی جنگ کاحصہ بننے اوران کے مفادات ک
...
14 Jul 2026
جنگ آزادی کامقصد: ہندوستان کی آزادی یا قیام پاکستان؟ تاریخی حقائق کیا
...
13 Jul 2026
جنگ آزادی کامقصد: ہندوستان کی آزادی یا قیام پاکستان؟ تاریخی حقائق کیا
...
13 Jul 2026
دوقومی نظریئے کو پاکستان کی اساس کہاجاتا ہے جبکہ ہندوستان پر700 سال تک
...
13 Jul 2026
1857 ء کی جنگ آزادی کامقصد: ہندوستان کی آزادی یا قیام پاکستان؟ (1)
...
12 Jul 2026
پاکستان میں سول سپرمیسی جتنی پست آج ہے اتنی پاکستان کی تاریخ میں کبھی
...
10 Jul 2026
حیدرآباد میں چھوٹی گٹی اوردیگرعلاقوں میں دکانیں سیل کرنے کااقدام تاجر
...
09 Jul 2026
ٹورنٹو، کینیڈا میں اے پی ایم ایس او کا 48واں یومِ تاسیس انتہائی جوش و
...
07 Jul 2026
ایم کیوایم کے کارکنوں محمدناصراورتسلیم شیخ کو عدالت کے حکم پر رہاہوتے
...
07 Jul 2026
Muttahida Quami Movement (MQM) Copyright © 2014 (ver 3.0)
Home
Videos Gallery
Links
KKF
Feedback
Altaf Hussain
Photo Gallery
Study Circle
Online Units
Media Corner
News Archive
Manifesto 2013
Fikri Nishist
Songs
Social Media
Urdu News
Philosophy
Poetry
Education
Web TV
Events
RAIDS/ARRESTS
Poll
Pakistan Maps
Contact us