پاکستان میں سول سپرمیسی جتنی پست آج ہے اتنی پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں تھی،ملک میں جمہوریت ناپید ہے، سول حکومت صرف نام کی ہے، حکومت غیرسیاسی لوگ کررہے ہیں، ملک کی حکومت ہی نہیں بلکہ تمام قومی سویلین ادارے عسکری عناصر چلارہے ہیں،عدالتوں کاجس قدر برا حال ہے اتنا بدتر کبھی نہیں تھا، عوام کو انصاف ملنے کے تمام دروازے بند کئے جارہے ہیں، ملک کی معیشت تباہ حال ہے اور بحیثیت ملک و قوم، ہماراسفر پیچھے کی طرف جارہاہے، یہ صورتحال نہایت افسوسناک اورمایوس کن ہے لیکن حقائق پر مبنی ہے۔اسی مایوس کن صورتحال کی وجہ سے جس شہری کوموقع مل رہاہے وہ ملک چھوڑ کربیرون ملک جارہاہے۔ میں سمجھتاہوں کہ ایسے حالات سے مایوس ہوکرملک چھوڑکرجانا مسئلے کاحل نہیں ہے، مسئلے کا حل یہ ہے کہ ہم ملک میں رہ کرجدوجہد کریں تاکہ ملک سے ظلم اورناانصافی کے راج کاخاتمہ ہوسکے، ملک کاموجودہ نظام اورحالات بہتر ہوسکیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں بلکہ بہت مشکل کام ہے، پوری دنیا میں عوام نے ایسے ہی حالات سے تنگ آکر تبدیلی کے لئے میدان عمل میں آکرجدوجہد کی، قربانیاں دیں اوراپنے ہاں موجود اسٹیٹس کو کوختم کیااورنظام کوتبدیل کیا۔
میں اس بات پر خوش ہوں کہ پاکستان کے عوام خصوصاً نوجوانوں میں شعورتیزی سے پھیل رہا ہے اور میرا پیغام اب ملک بھر میں گھرگھرپہنچ رہا ہے اورجولوگ کل تک ملک کے مسائل کے اسباب کونہیں سمجھتے تھے اب وہ بھی سمجھنے پر مجبور ہیں کہ ملک میں موجود مسائل کی اصل وجہ کیا ہے اورکو ن لوگ قصور وار ہیں۔آج سب یہی سوچ رہے ہیں کہ اس بچے کچھے ملک کو کیسے بچایا جائے۔
پاکستان میں بدقسمتی سے ایک طرح کی آمریت نافذ ہے، اپوزیشن کوانتقام کا نشانہ بناکربے اثرکیا جارہا ہے۔ سابق وزیراعظم اورتحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کوتین سال سے قید کیا ہوا ہے، عدالت کے احکامات کے باوجود عمران خان کے وکلاء اوررہنماؤں کی ان سے ملاقات نہیں کرائی جارہی ہے، جیل میں ان کے ساتھ جوسلوک کیا جارہا ہے اس کی وجہ سے ان کی ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہے، بعض لوگوں میں عمران خان کی زندگی کے حوالے سے بھی خدشات پائے جاتے ہیں کہ کہیں جیل میں ان کی زندگی کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک فوج کے جرنیل انہیں معاف نہیں کردیتے اورجرنیل اس وقت تک عمران خان کومعاف نہیں کریں گے جب تک امریکہ اس کے لئے راضی نہیں ہوگا۔
اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اورعمران خان کے تمام چاہنے والوں کوچاہیے کہ وہ عمران خان کی رہائی کیلئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کولاکھوں کی تعداد میں خطوط لکھیں، پرامن احتجاج کریں، اگران کی لیڈرشپ مصلحت یاکسی بھی وجہ سے اس کافیصلہ کرنے سے گریز کرتی ہے تو پی ٹی آئی کے کارکنوں کو شہر شہر اپنے گروپ بناکرخود پرامن احتجاج کرنا چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 428 ویں فکری نشست سے خطاب
10جولائی 2026ء