1857 ء کی جنگ آزادی کامقصد: ہندوستان کی آزادی یا قیام پاکستان؟ (1)
تاریخی حقائق کیا ہیں؟……
(الطاف حسین)
ایک جائزہ:
14، اگست1947ء کو پاکستان دنیا کے نقشے پر اُبھرا، قیام پاکستا ن سے آج کے دن تک پاکستان کی معاشی واقتصادی صورتحال، حکومتوں، عدالت، صحافت، سیاست اورپارلیمنٹ کا کردار اورفوجی جرنیلوں کی سیاسی، انتظامی، عدالتی اورصحافتی معاملات میں مداخلت کاجائزہ لیاجائے توانتہائی افسوسناک حقائق سامنے آتے ہیں۔
قیام پاکستان کے بعد ملک کے دوصوبے مشرقی پاکستان اورمغربی پاکستان تھے۔
پاکستان کی صحافت ہمیشہ سے فوجی جرنیلوں اورحکومتوں کے زیراثر رہی ہے،1971ء میں بعض صحافیوں،کالم نگاروں اورسیاسی تجزیہ نگاروں کی جانب سے قوم کو گمراہ کیا گیا کہ مشرقی پاکستان میں ہماری فوجیں ہرمحاذ پر دشمن کو شکست دے رہی ہیں اور16، دسمبر1971ء تک قوم سے جھوٹ بولاجاتا رہا جبکہ حقائق یہ تھے کہ پاکستان کی فوج سرینڈر کرچکی تھی اورایک لاکھ سے زائد فوجیوں نے بھارتی فوج کے آگے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔
پاکستان میں عدالتیں بھی آزاد نہیں ہیں بلکہ فوجی جرنیلوں کے کنٹرول میں رہی ہیں، عدالتوں نے ہمیشہ فوجی مارشل لاز کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قراردیا ہے۔ ججوں کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلے دینے سے قاصر ہیں اور فوجی جرنیلوں کی جانب سے من پسند فیصلے دینے کیلئے ان پر دباؤ ڈالاجاتاہے اس کی تازہ ترین مثال فروری 2024ء کے عام انتخابات ہیں جس میں سپریم کورٹ نے پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف سے انتخابی نشان چھینا۔
پاکستان کی صورتحال میں سیاستدانوں کا بھی یہی کردار رہا ہے، اگر سیاستداں انگریزوں کے مقاصد دیکھ لیتے، انگریزوں کی سازشوں اورچالوں کوسمجھ لیتے تو ملک وقوم کوآج یہ دن نہیں دیکھنا پڑتے۔
جب تک ہم ان حقائق کو تسلیم نہیں کریں گے کہ ملک کے سیاستدانوں نے اپنے مفادات کیلئے فوج کے کاندھوں کا سہارا لیا ہے تب تک ہم مسئلہ کے حل کی جانب نہیں بڑھیں گے۔
ہندوستان پر قبضہ اورجنگ آزادی:
نوجوان نسل اور Gen Z کو ان تاریخی حقائق سے آگاہ کرنا ضروری ہے کہ جب انگریزوں نے ہندوستان پرقبضہ کیا تو اس وقت پورے ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت تھی اورانگریزوں نے ہندوستان کی حکمرانی ہندوؤں سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے چھینی تھی اور مسلمانوں نے 700 سال ہندوستان پر حکومت کی تھی۔1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد پورے ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا اور برطانوی سلطنت نے ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفر کے بیٹوں کے سرقلم کرکے طشتری میں رکھ کر بہادرشاہ ظفر کو بھجوائے اورپھرانہیں حراست میں لے کرکالے پانی کی سزا دے کربرماکے شہر رنگون بھیج دیا۔برما آج میانمار کہلاتا ہے۔ رنگون میں آج بھی بہادر شاہ ظفر کی قبرموجود ہے۔ بہادرشاہ ظفرآخری وقت تک انگریزوں کا مقابلہ کرتے رہے۔یہ نہایت افسوسناک حقیقت ہے کہ متحدہ ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ کی قبرپرآج تک پاکستان کے کسی حکمراں نے نہ حاضری دی، نہ ان کی قبرپر پھول چڑھائے اورنہ انہیں سلام عقیدت پیش کیا، بہادرشاہ ظفر کی قبر پراگرکسی نے حاظری دی تووہ ہندوستان کے وزیراعظم نے دی اورانہیں جاکرخراج عقیدت پیش کیا،یہ ایک وطن پرستی کی بات ہے۔
سچے مؤرخ کو غیرمتعصب اورغیرجانبدار ہونا چاہیے۔ اگرتاریخ داں متعصب اورجانبدار ہوجائے تو وہ کبھی صحیح فیصلہ نہیں کرسکتا۔
ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے کے خلاف 1857 ء میں جو جنگ آزادی لڑی گئی تھی اس میں ہندوستان کے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے حریت پسندوں نے حصہ لیاتھا۔وہ جنگ آزادی پاکستان کی آزادی کیلئے نہیں بلکہ ہندوستان کی آزادی کیلئے لڑی گئی تھی۔جب ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا تو ہندوستان کے حریت پسندوں سبھاش چندربوس، بھگت سنگھ، چندرشیکھرآزاداوردیگرحریت پسند وغیرہ شامل ہیں،ان میں ایک اورحریت پسند شاعر عظیم آبادی بسمل کی نظم ”سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے، بہت مقبول تھی۔
برطانوی سلطنت سے ہندوستان کی آزادی کیلئے جدوجہدکرنے والے حریت پسند وں کے خلاف انگریزوں نے شدید کریک ڈاؤن کیا،انہیں درختوں پر لٹکالٹکاکر پھانسیاں دی گئیں۔ اگر دوسری جنگ عظیم نہ ہوتی تو ہندوستان پرانگریزوں کاقبضہ برقراررہتا، ہندوستان میں گھمسان کی جنگ ہوجاتی ہے اور حریت پسند ہندوستان کو آزاد کرالیتے اوربالآخر برطانیہ ہندوستان سے واپس چلا جاتا لیکن دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کو شکست ہوئی لیکن اس جنگ عظیم کی وجہ سے برطانیہ معاشی طورپربہت طورپرکمزورہوگیاتھا لہٰذا اس نے ہندوستان کوآزادی دینے کافیصلہ کرلیالیکن برطانیہ نے خطے میں اپنااثربرقراررکھنے کے لئے جاتے جاتے پاکستان بناکر اسے اپنے وفاداروں کے حوالے کردیا تاکہ ان کے ذریعے وہ خطے کوکنٹرول کرسکے۔
آل انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کاقیام:
اس سے قبل مہاتما گاندھی صاحب نے 2، دسمبر1885ء کو آل انڈین نیشنل کانگریس بنائی اور ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے لئے عدم تشدد کا نعرہ لگایااورپرامن جدوجہد شروع کی تو ان کی اس فکر سے متاثر ہوکر برصغیرکے بہت سے رہنماؤں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی، قائداعظم محمد علی جناح نے بھی دسمبر 1906ء میں آل انڈین نیشنل کانگریس جوائن کی۔ اسی دوران انگریزوں کی اطاعت وفرمانبرداری کرنے والے مسلم نوابین جوکہ ملکہ برطانیہ سے وفاداری کاحلف اٹھاچکے تھے انہوں نے 30،دسمبر1906ء کو ہی ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیادرکھی۔ اہم سوال یہ ہے کہ جب قائداعظم ہندوستان کی آزادی کے لئے آل انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوتے ہیں توپھرقیام پاکستان کامطالبہ کہاں سے آجاتا ہے؟
قرارداد پاکستان یا قرارداد لاہور؟
1940ء میں لاہورکے منٹوپارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے کنونشن میں قرارداد لاہور منظور کی گئی تھی لیکن تاریخ کو مسخ کرکے نئی نسل کوگمراہ کرنے کیلئے قرارداد لاہور کو قرارداد پاکستان کہاجاتا ہے۔ حالانکہ 23مارچ 1940 ء کومنظورہونے والی قراردادلاہور میں قیام پاکستان کاکوئی مطالبہ نہیں کیاگیا،حتیٰ کہ اس قراردادلاہورمیں کہیں بھی پاکستان کا لفظ نہیں شامل نہیں ہے، یہ تاریخی قراردادلاہور آج بھی مینارپاکستان پر کنداں ہے۔اسی طرح تاریخی حقائق کو مسخ کرکے نئی نسل کویہ بتایاجاتا ہے کہ شاعرمشرق ڈاکٹرعلامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا اورخطبہ الہ آباد میں قیام پاکستان کاتصورپیش کیاتھا جبکہ تاریخی طورپریہ بات قطعی غلط ہے، علامہ اقبال نے اپنی زندگی میں ہی اس بات کی سختی سے تردیدکردی تھی۔علامہ اقبال کے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال بھی ایک انٹرویو میں واضح کرچکے ہیں کہ میرے والد نے پاکستان کاکوئی خواب نہیں دیکھا تھا، میرے والد نے پاکستان کی کوئی تجویزپیش نہیں کی تھی،خطبہ الہ آباد میں علیحدگی کاکوئی تصورنہیں ہے بلکہ خطبہ الہ آباد میں انڈین یونین کے اندر مکمل خودمختاری کی بات کی گئی تھی۔
میں تاریخ دانوں اورمؤرخین سے کہتا ہوں کہ اگرالطاف حسین نے تاریخ بیان کرتے ہوئے غلط بیانی کی ہے تو میری اصلاح کیجئے، اگروہ دلائل سے مجھے غلط ثابت کردیں گے تو میں سرعام معافی مانگ لوں گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 428ویں فکری نشست سے خطاب
10، جولائی 2026ء