محنت کشوں کے عالمی دن پر پیغام
آج محنت کشوں کاعالمی دن ہے۔یہ یکم مئی 1886ء کے اس تاریخی دن سے منسوب ہے جب محنت کشوں نے اپنے اوقات کار اوربنیادی حقوق کے لئے تاریخی جدوجہد کا آغاز کیا،جب محنت کشوں نے ”کام کے لیے آٹھ گھنٹے……تفریح کے لیے آٹھ گھنٹے…… اور آرام کے لیے آٹھ گھنٹے“کی آوازبلند کی اوراپنے حقوق کے حصول کے لئے 4مئی 1886ء کوامریکہ کے شہرشکاگومیں اپنی جانیں دیکرمزدوروں کے لئے آٹھ گھنٹے کام اوردیگربنیادی حقوق حاصل کئے،آج دنیابھر میں آٹھ گھنٹے کام کاقانون انہی محنت کشوں کی قربانیوں کاثمرہے جس کے لئے دنیابھرکے محنت کش ان کے احسان مند ہیں۔
بدقسمتی سے پاکستان میں آج بھی سرکاری ونجی اداروں اورفیکٹریوں میں ملازمین اور مزدوروں کووہ حقوق حاصل نہیں ہیں جس کے وہ مستحق ہیں، آج بھی مزدوروں کا حق ماراجارہاہے، پاکستان میں آج بھی جبری مشقت اورچائلڈ لیبر جیساظالمانہ سلسلہ جاری ہے۔
آج لیبرڈے پر تمام محنت کشوں کے لئے میرایہی پیغام ہے کہ وہ حق تلفیوں اورظلم وجبر پر مشتمل قوانین اوراپناحق مارنے کے سلسلے پر خاموش نہ بیٹھیں بلکہ اپنے حق کے لئے عملی جدوجہد کریں۔ میں ارباب اختیارسے کہتاہوں کہ پاکستان میں محنت کشوں کوان کے تمام جائز حقوق دیئے جائیں اورانہیں کسی بھی انداز سے غلام سمجھنے کاسلسلہ بندکیاجائے۔
الطاف حسین
یکم مئی 2026ء