کراچی کے شہری اپنی جان،مال واسباب کے تحفظ کے لئے لائسنس بنوائیں، قانونی اسلحہ رکھیں اور اپنی گلیوں میں حفاظتی گیٹ لگوائیں۔ الطا ف حسین
کراچی میں دکانوں، بازاروں،فلیٹوں اورگھروں میں ڈکیتیوں، اغوابرائے تاوان، رہزنی،لوٹ مار اور جرائم کی تیزی سے بڑھتی ہوئی وارداتیں انتہائی تشویشناک ہیں۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں سڑکوں اور پلوں پر باقاعدہ ناکے لگا کے شہریوں کولوٹا جارہا ہے،شہرمیں اب صرف دکانوں کو ہی نہیں بلکہ پوری پوری مارکیٹوں کو لوٹا جارہا ہے، دوروز قبل فیڈرل بی ایریاکے علاقے سمن آباد میں مسلح جرائم پیشہ افرادنے گوشت مارکیٹ کولوٹا، شہرکے تجارتی مرکزصدرمیں جیولری شاپ سے کروڑوں روپے کے سونے اور چاندی کے زیورات لوٹ لئے گئے، کراچی کے ہر علاقے میں ہرشاہراہ پر شہریوں کولوٹا جارہا ہے، انہیں اغواکرکے تاوان وصول کیا جارہا ہے،شہری کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ میراسوال ہے کہ کراچی میں پولیس، رینجرز اور مختلف قسم کی سیکوریٹی فورسز آخرکیا کررہی ہیں؟ اگروہ شہریوں کوجان ومال کا تحفظ فراہم نہیں کرسکتیں تو پھر شہرمیں ان کی موجودگی کا کیا فائدہ ہے؟ سندھ میں گزشتہ18سال سے بدستور پیپلزپارٹی کی حکومت برسراقتدار ہے،مگر وہ شہریوں کو جان ومال کاتحفظ فراہم کرنے پر تیارنہیں ہے، اس نے کراچی اورپورے سندھ کو ڈاکوؤں، اغوابرائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں اورجرائم پیشہ افراد کے رحم وکرپرچھوڑ دیاہے۔
میں نے کراچی کے شہریوں سے ماضی میں بھی کہاہے اورآج پھر کہتا ہوں کہ جب حکومت آپ کوجان ومال کا تحفظ فراہم کرنے کوتیارنہیں ہے توپھر آپ اپنی جان،مال واسباب، گھرباراورکاروبار کے تحفظ کے لئے لائسنس بنوائیں اور اسلحہ رکھیں، یہ آپ کا آئینی، قانونی حق ہے۔ اگر شہریوں کے پاس قانونی اسلحہ ہو تا تونہ سمن آبادمیں مارکیٹ کولوٹاجاتا، نہ صدرمیں اورنہ ہی شہرکے کسی اور علاقے میں کوئی بھی ڈاکوآپ کولوٹ نہیں سکتا۔ مجھے کراچی کے متاثرہ شہریوں سے مکمل ہمدردی ہے،میں ان سے پھرکہتا ہوں کہ اپنے تحفظ کے لئے قانونی اسلحہ رکھیں اوراپنے گھروں کومحفوظ بنانے کے لئے اپنی اپنی گلیوں میں حفاظتی گیٹ لگوائیں، اگرآپ یہ حفاظتی اقدامات نہیں کریں گے تواسی طرح لٹتے رہیں گے۔
الطاف حسین