کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم کے بے گناہ کارکنان کی بلاجوازگرفتاریاں، جبری گمشدگیاں قابل مذمت ہیں۔رابطہ کمیٹی
کراچی سے ملیر، لیاری، رنچھوڑ لائن اور محمودآباد سے 6کارکنوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کیا گیا
حیدرآباد میں جھوٹی ایف آئی آر کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کے لئے جانے والے MQMکے8کارکنان کو سادہ لباس اہلکاروں نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا
پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ اپنی آمریت قائم رکھنے کیلئے مخالف سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں کررہی ہے
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیراور اعلی عدلیہ ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں کی گرفتاریوں اورجبری گمشدگیوں کا فوری نوٹس لے،تمام لاپتہ کارکنان کی جلد بازیابی کویقینی بنایاجائے۔رابطہ کمیٹی ایم کیوایم
لندن۔۔۔ 27 مارچ 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم کے بے گناہ کارکنان کی بلاجوازگرفتاریوں، جبری گمشدگیوں،کارکنوں کے گھروں پرغیرقانونی چھاپوں اور جعلی مقدمات کے اندراج کی شدید مذمت کی ہے۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ ایم کیوایم کے وفاپرست کارکنان کاقصوریہ ہے کہ انہوں نے رمضان المبارک کے مہینے میں اپنے اپنے علاقوں میں شہیدوں،اسیروں اوردیگرمستحقین میں امدادی سامان اورزکوٰۃ فطرے کے عطیات تقسیم کئے تھے، انہیں افطارکرایاتھا۔ اس پاداش میں کراچی کے علاقے ملیر، لیاری، رنچھوڑ لائن اور محمودآباد سے 6کارکنوں کوعیدالفطر کے موقع پر گرفتار کیا گیا جن میں ملیرسے ارشدوحید، لیاری سے نورمحمد، شاہدارمان، نفیس الغنی، رنچھوڑلائن کے شیخ نواب الدین اور محمودآباد سے مرتضیٰ احمدخان شامل ہیں۔یہ کارکنان تاحال لاپتہ ہیں، ان کی بازیابی کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں۔
اسی طرح حیدرآبادمیں بھی عیدکے موقع پرایم کیوایم کے کئی کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارکر اہل خانہ کوہراساں کیاگیا اوران کے خلاف جھوٹامقدمہ قائم کردیاگیا۔ آج مورخہ 27مارچ 2026 کو جب وفاپرست کار کنان اس جھوٹی ایف آئی آر کے خلاف وکلاء کے ذریعے عدالت سے رجوع کرنے کے لئے حیدرآباد سینٹرل جیل میں قائم عدالت پہنچے تووہاں سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے ایم کیو ایم کے 8کارکنان کو حراست میں لے کر لاپتہ کردیا۔ ان کارکنان میں امتیاز علی، سعید گدی، یامین قاضی، عارف زئی، ادریس تیلی، فراز درانی، آصف راجپوت اور رشید گدی شامل ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ایم کیوایم کے ان کارکنوں کی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کارکنوں نے قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی، کہیں کوئی قانون نہیں توڑاپھر انہیں کس جرم میں گرفتارکرکے لاپتہ کیاگیاہے؟رابطہ کمیٹی نے کہا کہ قانون اورجمہوریت کا راگ الاپنے والی پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ نے صوبے میں آمریت کاراج قائم کررکھاہے اوروہ اپنی آمرانہ حکومت کوبرقراررکھنے کیلئے مخالف سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں کررہی ہے،انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہی ہے،حتیٰ کہ انہیں قانونی کارروائی کیلئے عدالتوں تک رسائی سے بھی روکاجارہاہے۔ عدالت کے باہر سے کارکنوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کیاجانا ایک نہایت سنگین معاملہ ہے۔رابطہ کمیٹی نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیراور اعلی عدلیہ سے اپیل کی کہ کراچی اورحیدرآبادمیں ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں کی گرفتاریوں اورجبری گمشدگیوں کا فوری نوٹس لیا جائے،تمام لاپتہ کارکنان کی جلد بازیابی کویقینی بنایا جائے اور اگرکسی کے خلاف کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے اوربے گناہ سیاسی کارکنوں کی بلاجواز وغیرقانونی پکڑ دھکڑ بند کی جائے۔ رابطہ کمیٹی نے انسانی حقوق کی تنظیموں، وکلا برادری، سول سوسائٹی اور میڈیا سے بھی اپیل کی کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کریں اور لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
٭٭٭٭٭