ایم کیوایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کالندن میں ایم کیوایم کے 42 ویں یومِ تاسیس سے
خطاب
……………………………………………………………………
پاکستان کے عوام کے سامنے الطاف حسین اور ایم کیوایم کاامیج خراب کرکے پیش کیاگیا، اسے ہمیشہ دہشت گرد، بھتہ خور اورملک دشمن کے طورپرپیش کیاگیا،اس کے خلاف زہریلاپروپیگنڈہ کیاگیا جو سراسر جھوٹ اورفریب پر مبنی تھا۔ایم کیوایم کے خلاف یہ زہریلاپروپیگنڈہ اسلئے کیاگیاکیونکہ ایم کیوایم نے پاکستان میں رائج فرسودہ نظام کوچیلنج کیاتھا۔1992ء میں فوج نے سندھ میں اغوابرائے تاوان کی وارداتیں کرنے والوں کی سرپرستی کرنے والے جاگیرداروں،وڈیروں اورپتھاریداروں کے خلاف آپریشن کااعلان کیااوراس کے لئے 72بڑی مچھلیوں کی فہرست پیش کی جس میں نہ الطاف حسین کانام تھااورنہ ایم کیوایم کی مرکزی کمیٹی کے کسی رکن کانام تھالیکن 72بڑی مچھلیوں کے خلاف فوجی آپریشن کی آڑ میں ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا اوراس کوجائز قراردینے کے لئے پی ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے ایم کیوایم کے خلاف طرح طرح کی من گھڑت کہانیاں پیش کی گئیں۔ پنجاب کے عوام نے ان پر یقین کیاکیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ فوج جو کہہ رہی ہے وہ سو فیصد سچ اوردرست ہے، فوجی آپریشن کے دوران ہم پرریاستی مظالم ڈھائے گئے، پنجاب کے عوام اس کی حمایت کرتے رہے لیکن جب 8مئی 2023ء کو پیراملٹری رینجرز نے تحریک انصاف کے سربراہ اورسابق وزیراعظم عمران خان کو کمرہ عدالت کے دروازے اورکھڑکیاں توڑکر گرفتارکیااورانہیں گریبان سے پکڑکر گھسیٹتے ہوئے لیکرگئے توملک خصوصاًپنجاب کے عوام کی آنکھیں کھلیں، کیا یہ عمل عدالت کے تقدس کو مجروع کرنے کا عمل نہ تھا؟ آج تک ان گرفتار کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی؟
جب عمران خان کی اس گرفتاری کے خلاف 9مئی 2023ء کوپنجاب کے عوام احتجاج کے لئے باہر نکلے تو اس احتجاج کو دہشت گردی قراردینے کے لئے ایک سازش کے تحت اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے، جی ایچ کیواور لاہور میں کور کمانڈر کے گھر پر حملہ کیاگیا، شہدا ء کی یادگاروں کو توڑ ا گیا،فوجی مراکزپر حملے کئے گئے اورفوج اوراس کی ایجنسی آئی ایس آئی نے ان سارے واقعات کے الزامات عمران خان، ان کی جماعت پی ٹی آئی کے لیڈروں اور کارکنوں پر لگا دئیے گئے۔عمران خان بار بار مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں کہ ان واقعات کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش کی جائیں اوراس میں ملوث افراد کو سزا دیں، لیکن آج تک یہ فوٹیج نہیں دکھائی گئیں۔
پنجاب کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے تو پیراملٹری فورسزاوراس کی ایجنسیوں نے پنجاب میں گھروں پرچھاپے مارکر،گھروں کے دروازے توڑ کر جو مظالم کئے، جس طرح پنجابی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے دوپٹے کھینچے، جس طرح پنجابی بزرگوں کی بے حرمتی کی، تشدد کیا توان مظالم کودیکھ کر پنجاب کے لوگوں خصوصاًنئی نسل کو معلوم ہوا کہ فوج اور آئی ایس آئی ایسے مظالم بھی کرتے ہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد پی ٹی آئی کی ایک بزرگ خاتون ہیں جوکینسر سروائیور ہیں، ان کو بھی قید رکھا ہوا ہے، دیگر بزرگوں کو بھی قید رکھا ہوا ہے، عمران خان اور ان کی بیگم بشری بی بی پر بھی الزامات لگا ئے جاتے ہیں۔
تحریک انصاف کے خلاف آپریشن ہواتوپنجاب کے عوام خصوصاً جین زی کو یہ معلوم ہوگیا کہ فوج کس طرح زیادتی کرتی ہے،اہل پنجاب میں بھی یہ شعورآگیاہے کہ ہم نے فوج کی باتوں پریقین کرکے پاکستان کی تمام جماعتوں کو غدار اور ملک دشمن کہہ ڈالا اور آج پاکستان کی تمام قومیتیں پنجابیوں کو مجرم قرار دیتی ہیں کہ سارا قصور پنجابیوں کا ہے جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ پاکستان کی دوسری قومیتوں کے مسائل اوران کے مؤقف کو کبھی ٹیلی وژن پر آنے ہی نہیں دیا گیابلکہ فوج اورآئی ایس آئی اپنا بیانیہ دیتی رہی۔ خداکا شکر ہے کہ پنجاب کے لوگوں نے پہچان لیا ہے خرابی کی اصل جڑ کون ہے۔وہ کون ہے جو بیرونی طاقتوں کی ایماء پر ملک میں حکومتوں کوچلنے نہیں دیتا،ملک میں منشیات اورکلاشنکوف کلچر کون لایا، ملک میں اسمگلنگ کون کرتاہے۔فوج کے کرپٹ ریٹائرڈجرنیل ٹی وی پر بیٹھ کراپنی فتح اور کامیابیوں کی کہانیاں پیش کرتے ہیں لیکن حقیقت میں انہوں نے کوئی جنگ نہیں جیتی۔
ملک میں احتساب کے نام پر انتقام لیاجاتاہے اوراس کے لئے عدالتوں کواستعمال کیاجاتاہے، عدالتیں بھی ڈکٹیٹشن لیتی ہیں جس کی تازہ مثال ہے کہ نواز شریف اور اس کے خاندان کے خلاف سپریم کورٹ کے تمام فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیاگیا اور آصف زرداری اوراس کے خاندان اورکرپٹ ٹولے کے تمام مقدمات ختم کرکے اس کو آزادی دی گئی اوردوبارہ اقتدارکی کرسیوں پر براجمان کردیاگیا لیکن عمران خان اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں کورہاکرناتودور کی بات ہے، انہیں ضمانتیں تک نہیں دی جارہی ہیں،عمران خان کوقید کررکھا ہے کیونکہ اس نے پاکستان کوبیرونی طاقتوں کی غلامی سے آزاد کرانے کی بات کی۔ عمران خان بھی وہی چاہتا ہے جو الطاف حسین چاہتا ہے کہ ہم کسی بیرونی طاقت کی ڈکٹیشن نہ لیں بلکہ ایک آزاد اور خود مختار پالیسی بنائیں،اپنے ملک کواپنی مرضی سے اوراپنے ملک کے مفاد میں چلائیں۔
الطاف حسین کی حقیقت پسندی (Realism) اورعملیت پسندی(Practicalism) کی فلاسفی یہی ہے کہ آپ حقیقت کوسمجھیں،اس پرغورکریں اوراسے تسلیم کریں اورجب آپ حقیقت کوتسلیم کرلیں تواس کے مطابق عمل کریں، اس کے لئے عملی جدوجہدکریں۔
الطاف حسین
لندن میں ایم کیوایم کے 42ویں یومِ تاسیس کے اجتماع سے خطاب