Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

زورزبردستی سے دی گئی دیت شرعاًناجائز اورحرام ہے تمام مفتیوں کوالطاف حسین کا مناظرے کا چیلنج


 زورزبردستی سے دی گئی دیت شرعاًناجائز اورحرام ہے  تمام مفتیوں کوالطاف حسین کا مناظرے کا چیلنج
 Posted on: 8/31/2026

زورزبردستی سے دی گئی دیت شرعاًناجائز اورحرام ہے 
تمام مفتیوں کوالطاف حسین کا مناظرے کا چیلنج

پاکستان کواسلامی جمہوریہ پاکستان کہا جاتا ہے اوراسلام اورشریعت کے نام پر پاکستان میں بڑے بڑے جاگیردار، وڈیرے، جرنیل، اورطاقتوراشرافیہ کے لوگ قاتلوں کوبچانے کے لئے مقتولین کے مظلوم خاندانوں پر دباؤ ڈالتے ہیں،خاندان کے مزیدافراد کوجان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہیں اوردباؤ ڈال کرانہیں پیسے لینے پر مجبور کرتے ہیں، مقتولین کے خاندان والوں پر جبر،دباؤاوردھونس دھمکی کے ذریعے دیت کے نام پر پیسے دیکر ان کے منہ بندکرتے ہیں جو شریعت کی رو سے ناجائزاورحرام ہے،یہ قاتلوں کوبچانے اوران کی پشت پناہی کرنے کے زمرے میں آتاہے۔
چند سال قبل کراچی کے علاقے ملیر میں ایک سندھی نوجوان ناظم جوکھیونے خلیجی ملک کے کسی شیخ کوغیرقانونی شکارکرنے سے منع کیا اور اس واقعے کی وڈیوبناکر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اپلوڈ کردی، اس کی پاداش میں ناظم جوکھیو اوران کے بھائی کو پیپلزپارٹی کے وڈیرے رکن قومی اسمبلی جام عبدالکریم اوررکن سندھ اسمبلی جام اویس نے اپنے ڈیرے پر بات چیت کیلئے بلایا اوراپنی نجی جیل میں انسانیت سوز تشددکانشانہ بناکر سفاکی سے قتل کردیا، مقتول کی بیوہ انصاف کیلئے دہائیاں دیتی رہی اورقاتلوں کی گرفتاری کیلئے جدوجہد کرتی رہی، سندھی وڈیروں نے قاتلوں کومعاف کرنے کے لئے مقتول کی بیوہ پردباؤ ڈالا اور دھمکی دی کہ تمہارے پورے خاندان کو قتل کردیاجائے گا ان دھمکیوں کے باعث اس مجبوروبے بس خاتون نے صلح نامے پر دستخط کردیئے کہ میں جام عبدالکریم اورجام اویس کو معاف کرتی ہوں اور انہیں کچھ رقم بطور دیت دیدی گئی۔ عدالت میں جج نے کہاکہ دیت دیدی گئی ہے اورمقتول کی بیوہ نے مجرمان کو معاف کردیا ہے لہٰذا اسلامی تقاضے پورے ہوگئے۔ آج یہ دونوں سندھی وڈیرے آزاد پھررہے ہیں۔
اسی طرح چند سال قبل ایک امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس نے لاہور میں دو نوجوانوں کوفائرنگ کرکے قتل کردیا تھا، ریمنڈ ڈیوس گرفتارہوا،جس کے بعد مقتولین کے ورثاء پربہت دباؤ ڈالا گیا کہ وہ دیت لے کر ریمنڈڈیوس کومعاف کردیں، انہیں بہت دھمکیاں دی گئیں، بالآخرمقتولین کے ورثاء نے جبرکے باعث جج کے سامنے دیت لیکر ریمنڈ ڈیوس کو معاف کردیا، اس سارے عمل میں آئی ایس آئی کے چیف اور فوج کی ہائی کمان ملوث تھی۔ پیپلزپارٹی کے جاگیرداروں اوروڈیروں اوران کی اولادوں نے کئی نوجوانوں کو سفاکی سے قتل کردیامگرمقتولین کے لواحقین کو ڈرادھمکا کر دیت لینے پر مجبورکرکے معاملہ رفع دفع کیاجاتارہا ہے۔کراچی کے میں ایک نوجوان شاہ زیب کوایک بااثروڈیرے کے بیٹے شاہ رخ جتوئی نے اپنے دوستوں کے ساتھ ملکر فائرنگ کرکے قتل کردیا، قاتل گرفتارہوئے، عدالت نے سزاسنائی لیکن پیپلزپارٹی کی حکومت او روڈیروں کی دھمکیوں پر شاہ زیب کے والدین کوبھی ڈرادھمکا کر دیت لیکرقاتلوں کومعاف کرنے پر مجبورکردیاگیااوراس طرح شاہ زیب کے قاتل رہا ہوگئے۔ یہ ہے پیپلزپارٹی کے سندھ میں روزمرہ کے غیرآئینی، غیرقانونی اورغیرشرعی کارنامے۔ لیکن ان بااثر افراد تک پہنچنے کے لئے فوج کے بھی پرجلتے ہیں۔
 اسی طرح کے سینکڑوں واقعات ہیں جہاں جبری طورپر دھونس،دھمکی اورجبرکے ہتھکنڈے استعمال کرکے لواحقین کو ڈرادھمکاکرجبری دیت لینے پر مجبور کیا گیا ہے۔ 
میں پاکستان کے مفتی اعظم مولانا تقی عثمانی صاحب اور پاکستان کے دیگر جید علمائے کرام کوچیلنج کرتا ہوں کہ وہ مجھ سے کسی بھی جگہ ٹیلی ویژن پر مناظرہ کرلیں میں ثابت کردوں گا کہ جس طریقے سے پاکستان میں جبراً دیت لی جارہی ہے وہ قطعی حرام اور قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

قصاص اوردیت کیاہوتی ہے؟ 
قصاص:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورہ البقرۃ میں ارشاد فرمایاہے، 
اے ایمان والو! ”تم پر مقتولین کے بارے میں قصاص یعنی برابری کابدلہ فرض کیا گیا ہے“۔
اسی طرح قرآن مجید کی سورہ المائدہ میں ارشادباری تعالیٰ ہے، 
”اورہم نے ان کے لئے فرض کیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک،کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت“۔
یعنی زخموں کے بارے میں برابرکے زخم کا حکم ہے۔ 
قصاص اوردیت کے بارے میں نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفےٰ  ﷺ کاواضح ارشاد ہے،
”اگرکسی کو ناحق قتل کیاجائے تواس کے ورثاء کواختیار ہے کہ وہ قصاص لیں یادیت لیں“۔
دیت یعنی خون بہا۔
 یعنی اگرکسی کوغلطی یابھول چوک سے قتل کردیاجائے، جسے قتلِ خطا کہتے ہیں،تواگر مقتول کے خاندان والے راضی ہوجائیں توقصاص کے بدلے مقتول کے خاندان کو دیت دی جاتی ہے،
قرآن مجید کی سور ۃ النساء میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ، 
”کسی مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے مومن کوقتل کرے، اگرکو ئی شخص غلطی سے کسی مومن کوقتل کردے توقتل کرنے والے کوچاہیے کہ وہ ایک غلام کوآزاد کردے یا مقتول کے گھروالوں کوخوں بہادے“۔
قرآن کریم میں فرمان الہٰی ہے کہ ”جس کواس کے بھائی کی طرف سے معافی مل جائے تودیت دی جائے، یہ تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے“۔
دیت کے بارے میں قرآن مجید اورحضوراکرم  ﷺ کی احادیث مبارکہ میں واضح طورپر حکم دیا گیا ہے کہ مقتول کے لواحقین کو جبر، زورزبردستی، ظلم یا دھمکی سے دیت کے لئے راضی کرناحرام ہے۔ 
اس سلسلے میں مستند حدیث ہے کہ دھمکی اورزبردستی سے لیا گیا دیت کا فیصلہ حرام اورشرعاً باطل ہے۔ یعنی اگرکسی شخص کو قتل کی دھمکی دیکریا شدید نقصان پہنچانے کی دھمکی دے کر،اسے دیت لینے پر مجبور کرنے کاعمل کیا جائے توشریعت کی نظر میں یہ عمل باطل کہلائے گا۔ 
سنن ابو داؤد میں حدیث رسول ﷺ ہے کہ مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ مسلمان کوڈرائے یاخوفزدہ کرے۔
قرآن مجید کی سورۃ البقرہ میں ہے”اورتم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق طریقوں سے نہ کھاؤ“۔ 
اسی طرح قرآن مجید کی سورۃ ہود میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے، 
”اورظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تمہیں جہنم کی آگ میں ڈالاجائے گا“۔ 
نبی کریم  ﷺ کا ارشاد ہے کہ دیت کے معاملے میں دھونس، دھمکی، ڈرانا، دھمکی دینا ناجائز ہے۔ 
یعنی اگرلواحقین کوماردینے اور غنڈے بلاکردھمکی دی جائے کہ ہم تمہارے بچوں کوماردیں گے، یاتمہارا گھرچھین لیں گے، اسی صورت میں دھمکی دیکر معافی یادیت لینے پر مجبورکرنا اورمعافی نامے پر دستخط کروانا شرعی طورپر ناجائز اورحرام ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں 99فیصد دیت زورزبردستی اوردباؤ کے ذریعے دی جاتی ہے، 
مثال کے طورپراسلام آباد کے پمزاسپتال میں جوبچے مارے گئے،حکومت پاکستان اور وزارت صحت کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بچوں کے لواحقین کے منہ بندکرانے کے لئے ان کو زبردستی پیسے دیے جارہے ہیں۔میں صدر،وزیراعظم، وزارت صحت کے اعلیٰ حکام کوایک ایک کروڑ روپے دینے کے لئے تیار ہوں، کیاوہ اپنے بچے میرے حوالے کردیں گے؟ کیاپیسے انسان کی جان کابدل ہوسکتے ہیں؟
شریعت میں دھونس، دھمکی زورزبردستی سے دیت دینا حرام اورشرعاً منع ہے۔
شریعت کی رو سے اگرکسی مقتول کے لواحقین پردباؤ ڈالاجائے اورمعاف کرنے کے لئے اوردیت قبول کرنے کے لئے انہیں دھمکی دی جائے اوروہ صرف اپنی جان کے خوف سے معاف کرنے کے لئے ہاں کہہ دیں یا لکھ کردیدیں توشرعی اعتبار سے وہ معافی نہیں مانی جائے گی۔اس معافی کے لئے بااثرلوگوں کی جانب سے دباؤ ڈالنا ظلم اورجبر کے زمرے میں آتاہے اورظلم وجبر کے ذریعے معافی دینے پر مجبور کرنا شریعت کی رو سے حرام اورناجائز ہے۔ 
میں پاکستان کے مفتیان کرام کواس معاملے پر مناظرے کاچیلنج کرتا ہوں کہ پاکستان میں قاتلوں کو بچانے کے لئے جس طرح سے دیت لی جارہی ہے یہ قرآن اورشریعت کی روسے حرام اورخلاف ِ قرآن ہے۔میں اس معاملے پر مفتیان کرام سے ٹی وی پر براہ راست مناظرہ کر نے کے لئے تیار ہوں۔ اگر میری بات غلط ثابت ہو تومیں اس پر مفتیان کرام سے معافی مانگ لوں گا۔
اسلامی شریعت میں یہ ہے کہ اگرمقتول کے لواحقین یہ کہہ دیں کہ قاتل کومعاف کرنے کے لئے ان پر   زوریا دباؤڈالاجارہا ہے توایسی صورت میں مفتیان کرام کا فرض ہے کہ وہ زورزبردستی سے کرائی جانے والی اس دیت کوباطل قراردیں۔
 ملک میں جس طرح کا ظلم کیا جارہا ہے،اگراس ظلم پر مفتی اعظم مفتی تقی عثمانی صاحب اوردیگرمفتیان کوئی فتویٰ جاری نہیں کرتے تو اس ظلم کاجتناعذاب ظالموں پرہوگا اتناہی مفتی صاحبان پر بھی ہوگا اوران کاچپ رہنا ظالموں کی مدد میں شمارہوگا۔ 

الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر  460  ویں فکر ی نشست سے خطاب
30  اگست 2026ء 



9/1/2026 3:25:43 PM