میررضاعلی شہید کے قاتلوں کوگرفتارکرنے کے بجائے پرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف مقدمہ درج کرنا قابل مذمت ہے۔الطاف حسین
کراچی میں نوجوان تاجر میررضاعلی شہید کے قتل کو کئی ہفتے گزرگئے مگر حکومت ابھی تک قاتلوں کاپتہ نہیں لگاسکی۔ قاتلوں کی گرفتارکیلئے Gen Z روزانہ شاہ فیصل، نرسری، تین تلوار، برنس روڈ اوردیگرمقامات پر احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں لیکن سندھ حکومت نے قاتل وڈیروں کوتحفظ دلانے کیلئے پرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آرکاٹ دی جوانتہائی قابل مذمت ہے۔ آخراس ملک میں کیاہورہا ہے؟ کیااسے آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی نہ کہاجائے تو پھرکیا کہا جائے گا؟ میررضاعلی شہید کے قاتل سندھ کے جاگیردار اوروڈیرے ہیں جن کے ڈیفنس کلفٹن میں بڑے بڑے بنگلے ہیں، شہروں میں گیسٹ ہاؤس ہیں اوراپنے اپنے گاؤں میں بڑے بڑے محلات ہیں لیکن 80 سال سے غریب سندھی ان جاگیرداروں اوروڈیروں کے ہاری اور کسان ہیں اور یہ غریب سندھیوں کی قسمت بنادی گئی ہے۔
پیپلزپارٹی کی حکومت، وڈیرے جاگیردارمیررضا شہید کے قاتلوں کو گرفتارکرنے کے بجائے کراچی کے Gen Z کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آردرج کررہی ہے تاکہ نوجوانوں کو قاتلوں کی گرفتاری کیلئے پرامن احتجاج سے روکا جاسکے۔بلوچ خواتین کے سروں کی قیمتیں لگانے، فوجی افسر کی بیوی کوغنڈہ گردی کی اجازت دینے، بلوچ خواتین کو پرامن احتجاجی مظاہروں سے روکنے اورکراچی کے نوجوانوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات قائم کرنا ظلم وبربریت ہے۔ اس طرح کے ظالمانہ اورغیرمنصفانہ عمل سے ملک قائم نہیں رہ سکتا۔
میں کراچی کے Gen Z سے کہتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہرگز مت ڈرنا، ڈٹے رہنااورہمت وجرات کے ساتھ متحد ہوکرمیررضاعلی شہید کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے پرامن احتجاج کرتے رہنا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 457 ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب
27، اگست2026ء