Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مہاجرکسی سے نفرت نہیں کرتے مہاجروں نے ظلم کیایامہاجروں پر ظلم کیاگیا؟ فکری نشست تاریخ کے آئینے میں


 مہاجرکسی سے نفرت نہیں کرتے  مہاجروں نے ظلم کیایامہاجروں پر ظلم کیاگیا؟  فکری نشست تاریخ کے آئینے میں
 Posted on: 7/26/2026

مہاجرکسی سے نفرت نہیں کرتے 
مہاجروں نے ظلم کیایامہاجروں پر ظلم کیاگیا؟ 
فکری نشست تاریخ کے آئینے میں 

ایم کیوایم کے قائم ہونے کے بعد سے ایم کیوایم اورمہاجروں کے خلاف بیہودہ اورشرمناک الزامات لگانے کاجوسلسلہ شروع ہواہے وہ آج بھی جاری ہے، آج بھی نفرت اور تعصب پھیلانے کے لئے بیہودہ الزامات لگانے کے ساتھ ساتھ غلیظ زبان استعمال کی جارہی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں سے بعض متعصب پوڈکاسٹرزنے سوشل میڈیاپلیٹ فارمز پر مہاجروں اورایم کیوایم کے خلاف ایک زہریلی مہم شروع کررکھی ہے اوریہ پروپیگنڈہ کیاجارہاہے کہ مہاجرقوم سب سے نفرت کرتی ہے اورسب سے جھگڑا کرناچاہتی ہے لیکن جب ہم ان الزامات کاجواب دیتے ہیں توہمی پر الٹاتعصب کاالزام لگایاجاتاہے۔
مہاجرتووہ لوگ ہیں جن کاتعلق ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں سے تھاجو وہاں صدیوں سے رہتے چلے آرہے تھے۔انہیں ہندواورمسلم کی بنیادپر دوقومی نظریہ دیاگیا، انہوں نے دوقومی نظریہ کی بنیادپر قیام پاکستان کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانی دی لیکن ان کے علاقے پاکستان میں شامل نہیں ہوئے،ان پر اپنے ہی بنائے ہوئے وطن پاکستان کی سرحدیں بندکردی گئیں۔آج موجودہ پاکستان سے زیادہ مسلمان وہاں رہتے ہیں۔ قیام پاکستان صرف ایک جغرافیہ کی تقسیم نہیں تھی بلکہ اس نے لاکھوں خاندانوں کوتقسیم کردیا۔بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح، پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان اورمحترمہ فاطمہ جناح کے قتل کے بعدانگریزوں کے وفاداروں نے پاکستان پر قبضہ کرلیااورپھر بانیان پاکستان کی اولادوں کوطرح طرح سے حق تلفیاں کی گئیں۔جنرل ایوب خان کی آشیرباد سے قائم ہونے والی پیپلزپارٹی اور ذوالفقار علی بھٹو کے دورمیں مہاجروں کے ساتھ ناانصافیوں کانشانہ بنایاگیا، ان کا قتل عام کیاگیا۔ جب ہم نے مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف ایم کیوایم بنائی تواس کوکچلنے کے لئے اس کے خلاف بار بار آپریشن کئے گئے،اس کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کئے گئے اورآج بھی کئے جارہے ہیں۔

لسانی بل 1972ء
یہ تاریخی حقائق ہیں کہ مہاجروں کے سیاسی، تعلیمی، معاشی اورجسمانی قتل عام کاسلسلہ ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں مزید تیز ہوگیا تھا۔ 1972ء میں ذوالفقارعلی بھٹو نے بانیان پاکستان کی اولادمہاجروں سے تعصب اور نفرت کی بنیاد پر سندھ اسمبلی میں لسانی بل پیش کیا جس کے مطابق سندھ میں سرکاری زبان سندھی ہوگی، اس لسانی بل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔اس وقت ممتاز علی بھٹو سندھ کے وزیراعلیٰ تھے، ممتاز بھٹو کی سربراہی میں خونی دستہ تشکیل دیا گیا اور دیہی سندھ سے مہاجروں کو بیدخل کرنے کے اعلانات کیے جانے لگے۔ لاڑکانہ، شکارپور، خیرپور، سکھراوراندرون سندھ کے دیگر علاقوں میں مہاجروں کے باغات، کھیت، فصلوں اور گھروں کو نذرآتش کیاگیا جس کی وجہ سے مہاجروں کے پاس اپنی جانیں بچاکر کراچی اورحیدرآباد نقل مکانی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ پیپلزپارٹی اوربھٹو کی مہاجردشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 
کوئی سینئر سیاستداں اورمؤرخ اس سوال کاجواب نہیں دے سکا کہ صرف صوبہ سندھ میں لسانی بل کیوں پیش کیاگیا؟ صوبہ پنجاب، صوبہ سرحد اورصوبہ بلوچستان میں لسانی بل کیوں نافذ نہیں کیاگیا؟

کوٹہ سسٹم1973ء:
بھٹوکے دورحکومت میں 1973ء میں صرف صوبہ سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کیاگیااور اعلیٰ تعلیمی اداروں اور سرکاری ملازمتوں میں 60 فیصد دیہی اور40 فیصد شہری آبادی کافارمولامتعارف کرایاگیا، صوبہ پنجاب، صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں بھی دیہی علاقے تھے لیکن وہاں دیہی آبادی کی ترقی کیلئے کوٹہ سسٹم نافذ نہیں کیاگیابلکہ صرف سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذکیاگیاجس کا مقصد مہاجروں کا تعلیمی اورمعاشی قتل عام کرنا تھا۔ دیہی شہری کوٹہ سسٹم صرف 10 برس کیلئے نافذ کیاگیا تھالیکن کوٹہ سسٹم 53 سال گزرجانے کے باوجود سندھ میں نافذ ہے اور اس کوٹہ سسٹم سے غریب سندھیوں کے بجائے جاگیرداروں اوروڈیروں کی اولادوں کو فائدہ پہنچایاجارہا ہے۔ کوٹہ سسٹم سندھ کے جاگیرداروں اورفوجی جرنیلوں کے گٹھ جوڑ کانتیجہ ہے اورآج تک مہاجراس کی سزا بھگت رہے ہیں لیکن متعصب یوٹیوبرز، اینکرپرسنز اور پوڈ کاسٹرزیہ جھوٹااور بے بنیاد الزام لگارہے ہیں کہ مہاجرتمام قومیتوں کو سندھ سے نکالنا چاہتے ہیں۔ مہاجروں نے آج تک کسی بھی غیرمہاجربستی پر مسلح حملہ نہیں کیاجبکہ مہاجرآبادیوں پر تواتر کے ساتھ حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

سانحہ قصبہ علیگڑھ کالونی:
14، دسمبر1986ء کوکراچی کی مہاجرآبادی قصبہ علیگڑھ کالونی پر مسلح حملہ کرایاگیا اور پشتوزبان بولنے والے کرائے کے قاتلوں کو استعمال کیاگیا جبکہ پشتواوراردوبولنے والے برسوں سے ایک مل جل کررہتے چلے آرہے تھے، پشتوبولنے والے کرائے کے قاتلوں کے ذریعے مہاجرآبادی پر حملے کا مقصد یہ تھا کہ مہاجروں میں پختونوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی جاسکے اور سندھ میں مہاجرپختون فسادات کرائے جاسکیں۔ 
مسلح دہشت گرد 6 گھنٹے تک قصبہ علیگڑھ کالونی میں نہتے مہاجروں کا قتل عام کرتے رہے، 300 سے زائد مہاجربزرگوں، نوجوانوں، خواتین اوربچوں کو گاجرمولی کی طرح کاٹا گیا، گھروں کو لوٹ کرآگ لگائی گئی، مہاجربچیوں کی عصمت دری کی گئی اورمعصوم بچوں تک کو سفاکی سے قتل کیاگیا لیکن متعصبانہ سوچ رکھنے والے پوڈکاسٹرز یہ بہتان تراشی کرتے پھر رہے ہیں کہ مہاجروں نے قتل عام کیاہے۔

سانحہ 30 ستمبرحیدرآباد:
30، ستمبر1988ء کو حیدرآباد میں بے گناہ مہاجروں کاقتل عام کیاگیا، اس دن 10 سے زائد گاڑیوں میں سوار مسلح دہشت گرد حیدرآباد میں داخل ہوئے اور انہوں نے راہ چلتے راہ گیروں، سودا سلف خریدنے والوں اوراپنے گھروں کو واپس جانے والے مہاجروں پر اندھادھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 300 سے زائد مہاجرخاک اورخون میں نہلادیئے گئے جبکہ ہزاروں مہاجرشدید زخمی ہوگئے۔ یہ امرافسوسناک ہے کہ مہاجروں کے قتل عام اور مہاجربستیوں پر ڈھائے جانے والے سانحات کا کوئی تذکرہ نہیں کیاجاتاالٹا مہاجروں پر بہتان تراشی کرکے مہاجروں کے زخموں پر نمک پاشی کی جارہی ہے۔
 سانحہ حیدرآباد سندھ میں مہاجرسندھی فساد کی سازش کا تھا، سائیں جی ایم سیدسندھی مہاجراتحاد کے حامی تھے، انہوں نے کبھی مہاجروں پر حملے کادرس نہیں دیا، جن جرائم پیشہ عناصر نے یہ قتل عام کیاتھا وہ سائیں جی ایم سید کی تعلیمات کے دشمن ہیں۔

سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد:
پیپلزپارٹی کے بینظیربھٹو دورحکومت میں 26اور27 مئی 1990ء کو ڈاکوؤں اورقاتلوں کو پولیس کی وردیاں پہناکرحیدرآباد میں پکاقلعہ پر لشکرکشی کی گئی۔ اس دوران دوروز تک پکاقلعہ کا محاصرہ کرکے پانی، بجلی اور ٹیلی فون لائنیں منقطع کردی گئیں اورپکاقلعہ کے مہاجروں پر یزیدی مظالم ڈھائے گئے۔ جب مہاجرخواتین اپنے سروں پر قرآن مجید لیکر فریاد کرنے نکلیں کہ پانی، بجلی بحال کی جائے اور بچوں کو دودھ اورخوراک لانے کی اجازت دی جائے لیکن پیپلزپارٹی کے زرخرید قاتل دہشت گردوں نے فریاد کرنے والی خواتین پر گولیاں برسانی شروع کردیں جس کے نتیجے میں خواتین سمیت درجنوں افراد شہید ہوگئے اور فائرنگ سے قرآن پاک بھی شہیدہوئے۔    شہیدوں کو قبرستان میں تدفین کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں تمام شہیدوں کو پکا قلعہ کے احاطے میں ہی دفن کرنا پڑا۔اس سانحے کے شہیدوں کی قبریں آج بھی پکا قلعہ میں موجود ہیں۔

پنجابی پختون اتحاد اورمہاجرآبادیوں پر حملے:
1987ء میں جنرل ضیاء کی اسٹیبلشمنٹ نے پنجابی پختون اتحاد(PPI) کے نام سے جرائم پیشہ عناصر کی ایک تنظیم بنائی جس کے دہشت گردوں نے نیوکراچی میں خواجہ اجمیرنگری، شاہ فیصل کالونی، گرین ٹاؤن،ماڈل کالونی،گولڈن ٹاؤن، عظیم پورہ، ناظم آباد، جلال آباد، نارتھ ناظم آباد، نیوکراچی، نارتھ کراچی، لانڈھی، کورنگی اور دیگر مہاجربستیوں پر مسلح حملے کرکے مہاجروں کا قتل عام کیا،گھروں کولوٹا، سامان کوآگ لگائی، حملے مہاجرآبادیوں پر ہوئے تھے لیکن مہاجروں نے کسی غیرمہاجربستی پرحملہ نہیں کیاتھالیکن متعصب پوڈکاسٹرنے مہاجروں کے قتل عام کاالزام بھی مہاجروں پر ڈال دیا، مہاجروں کے ساتھ یہ ظلم، تعصب اورناانصافی کیوں کی جارہی ہے؟
جب مہاجربستیوں اورنہتے مہاجروں پر حملوں کاسلسلہ جاری رہا، حکومت اور انتظامیہ مہاجروں کی جان ومال اورعزت وآبرو کو تحفظ نہ دے سکیں تو میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا اورمیں نے تقاریر کرکے مہاجروں سے اپیل کی کہ وہ ٹی وی، وی سی آر فرج بیچیں اوراپنی جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کیلئے اسلحے کے لائسنس بنائیں اوراپنی ماں بہن بیٹی کی خود حفاظت کریں۔ یہ اپیل کرکے میں نے کوئی غیرقانونی عمل نہیں کیاتھا کیونکہ اسلامی تعلیمات، اقوام متحدہ کا چارٹراورپاکستان کا آئین اپنے دفاع کاحق دیتاہے۔ 
میں مہاجرقوم پر بہتان تراشی کرنے والے پوڈ کاسٹرز سے پوچھتا ہوں کہ اگر تمہارے گھر پر کوئی حملہ کرے، تمہاری ماں بہن بیٹی کی عصمت پر ہاتھ ڈالے تو تمہارے کیاجذبات ہوں گے؟نہتے مہاجروں کے تحفظ کیلئے میں انہیں حق دفاع کادرس نہ دیتا تو کیاکرتا؟میں نے ناجائز اسلحہ خریدنے کا درس نہیں دیاتھا بلکہ لائسنس یافتہ اسلحہ کی بات کی تھی جوکہ غیرقانونی نہیں ہے۔بعض متعصب پوڈکاسٹرحق دفاع کی بات کو اسرائیلی سوچ کہہ کرمہاجروں کومغلظات  دے کردراصل سندھ میں مہاجروں اورسندھیوں میں نفرتوں کی آگ بھڑکانے کی سازش کررہے ہیں۔
میں Gen Z بالخصوص مہاجربچوں کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کے جاگیرداروں اوروڈیروں کی ایماء پر سازش کی جارہی ہے کہ سندھ میں نفرتوں کی آگ کو اس طرح بھڑکایاجائے۔ اس سازش کیلئے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اوراسٹیبلشمنٹ کے ہرکارے، صحافی، یوٹیوبرز اورپوڈکاسٹرز کوہائر کیاگیا ہے، پیپلزپارٹی نے اس سازش کوعملی جامہ پہنانے کیلئے بہت پیسہ خرچ کیاہے۔میں سندھ کے عوام سے کہوں گاکہ وہ ایسے سازشی عناصر کے پروپیگنڈوں کاشکارنہ ہوں اورمتحد ہوکران کی سازشوں کوناکام بنادیں۔ 

الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر 434 ویں فکری نشست سے خطاب
22، جولائی2026ء


7/27/2026 10:29:05 AM