Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان میں جمہوریت کے نام پر شریف خاندان اوربھٹوخاندان کی بادشاہت اور نسل درنسل حکمرانی چل رہی ہے ۔ الطاف حسین


 پاکستان میں جمہوریت کے نام پر  شریف خاندان اوربھٹوخاندان کی بادشاہت اور نسل درنسل حکمرانی چل رہی ہے ۔  الطاف حسین
 Posted on: 7/23/2026

پاکستان میں جمہوریت کے نام پر  شریف خاندان اوربھٹوخاندان کی بادشاہت اور نسل درنسل حکمرانی چل رہی ہے ۔  الطاف حسین 

پاکستان میں جمہوریت کے نام پر دوخاندانوں یعنی شریف خاندان اوربھٹوخاندان کی بادشاہت اور نسل درنسل حکمرانی چل رہی ہے، دو خاندانوں کی حکمرانی جمہوریت نہیں بلکہ نسل درنسل چلنے والی موروثیت ہے، یہ موروثیت جمہوریت نہیں بلکہ جمہوریت کی ضد ہے۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں جماعتوں کا جنم اورپرورش فوج کی نرسری میں ہوا۔ 
سرشاہنواز بھٹو کے بعد ان کے بیٹے ذوالفقارعلی بھٹو، ان کے بعد ان کی بیٹی بینظیربھٹو،صاحبزادے مرتضی بھٹو، پھر بینظیر بھٹوکے بعد ان کے بیٹے بلاول زرداری اقتدارکے ایوانوں میں پہنچے۔ اسی طرح میاں نوازشریف کے بعد ان کے بھائی میاں شہباز شریف،ان کے بیٹے حمزہ شہباز شریف، میاں نوازشریف کی بیٹی مریم نوازاقتدارمیں آگئی ہیں۔ ان دونوں خاندانوں نے بارباراپنی حکمرانی میں ملک کے خزانے کوجس طرح لوٹاہے، اس کی داستانیں پوری دنیا میں مشہور ہیں، ان کی بے حساب جاگیریں اور جائیدادیں نہ صرف پاکستان میں ہیں بلکہ پاکستان سے باہربرطانیہ، امریکہ، سوئٹزرلینڈاوردیگر ممالک میں بھی ہیں جن کا کوئی حساب نہیں ہے۔ زرداری صاحب کودنیاکس نام سے پکارتی ہے وہ بھی سب کومعلوم ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹوکے والد سرشاہنواز بھٹو نے انگریزوں کی اطاعت وفرمانبرداری کی جس کے صلے میں انہیں سندھ میں ہزاروں ایکڑزمینیں ملیں، پھربھٹو خاندان نے جرنیلوں کی خدمت کی۔ ذوالفقارعلی بھٹو کا ملک کے پہلے فوجی ڈکٹیٹرجنرل ایوب خان سے کیارشتہ تھا،وہ انہیں اپنی کابینہ میں لائے، پیپلزپارٹی بھی جنرل ایوب خان نے بنائی جسے بعد میں جنرل یحییٰ خان کی سرپرستی حاصل رہی اوربھٹو دونوں فوجی ڈکٹیٹرز کی حکومتوں میں شامل رہے۔اسی طرح میاں نوازشریف کو فوجی ڈکٹیٹرجنرل ضیاء الحق سیاست میں لائے، جنہوں نے مسلم لیگ ن بنائی اورپھرجنرل ضیاالحق کے جاں بحق ہونے کے بعد میاں نوازشریف نے جنرل ضیاء الحق کامشن جاری رکھنے کااعلان کیا اورملک کواسی راستے پر لے کرچلے۔ 
پاکستان کی سیاسی تاریخ کے جائزے سے یہ بات ثابت ہے کہ ملک میں حکومتیں بنانے، ختم کرنے، تبدیل کرنے اورخاندانوں، جاگیرداروں، وڈیروں اورسرداروں کواقتدارکے ایوانوں میں لانے اور کرسیوں پر براجمان کرنے اورخاندانوں کی اجارہ داری اورآمریت قائم کرنے کی طاقت کااصل مرکز عسکری قوت ہے۔عسکری طاقت کے اس مرکز نے کبھی بھی غریب، لوئر مڈل کلاس، مڈل کلاس سے جنم لینے والے رہنماؤں کودل سے قبول نہیں کیا۔
سابقہ مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ کوفوج نے قبول نہیں کیا کیونکہ عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن کوئی جاگیرداریاوڈیرے نہیں بلکہ ایک غریب اورلوئرمڈل کلا س گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ عسکری طاقت نے ایم کیوایم کوقبول نہیں کیاکیونکہ ایم کیوایم وڈیروں،جاگیرداروں اورسرداروں کی جماعت نہیں ہے،ایم کیوایم کا بانی الطاف حسین کوئی جاگیردار یاوڈیرہ نہیں بلکہ ایک مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی لئے ایم کیوایم کوپورے ملک میں پھیلنے نہیں دیاگیا اورایم کیوایم کوختم کرنے کے لئے پوری ریاست کی طاقت استعمال کی گئی، الطاف حسین پرپابندی لگادی گئی اور اس کے خلاف الزامات اور پروپیگنڈوں کاطوفان کھڑا کردیا گیا۔ اسی طرح تحریک انصاف کے سربراہ عمران خا ن بھی کوئی جاگیردار یا وڈیرے نہیں،وہ اپرمڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کوبھی نہیں چلنے دیاگیا۔
 بار بارآزمانے اورملک کوباربار لوٹنے کے باوجود آج بھی پاکستان پر شریف خاندان اوربھٹوخاندان کو ملک پر مسلط کیا ہوا ہے۔ میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈمارشل عاصم منیر سے کہتا ہوں کہ وہ پاکستان کو ان دوخاندانوں کے تسلط سے نجات دلائیں اورجن کوجماعتوں کو عوام کی اصل حمایت حاصل ہے،ان کی عوامی حمایت اور مینڈیٹ کااحترام کیا جائے، انہیں سیاسی آزادی فراہم کی جائے۔ ملک میں نئے سرے سے صاف وشفاف، آزادانہ اورمنصفانہ الیکشن کرائے جائیں، جوجماعت کامیاب ہو، اقتدار اس کے حوالے کیا جائے۔
پاکستان کی پالیسیاں بنانے والوں سے کہتا ہوں کہ خدارا ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کریں اورماضی کی طرح ایک بارپھر پاکستان کو دوسروں کے مفاد کے لئے استعمال نہ ہونے دیں اور سوچیں کہ آپ پاکستان کوکس راستے پر لے جارہے ہیں۔ پاکستان بہت مشکل اورنازک دور سے گزررہا ہے، خدارا فوج اپنے پیشہ وارانہ فرائض پر توجہ دے،ہم فوج کے خلاف نہیں، فوج ایک حقیقت ہے، ہرملک کوفوج کی ضرورت ہوتی ہے، فوج ملک کی سرحدوں کا دفاع کرے اورسویلین کوان کا کام کرنے دے، دونوں ایک دوسرے کے وجود کوتسلیم کریں اورمل کرملک کومضبوط کریں۔
میں مطا لبہ کرتا ہوں کہ عمران خان اوران کے اسیرساتھیوں کورہا کیا جائے، ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کوبازیاب کیا جائے، جیلوں میں اسیرایم کیوایم کے کارکنوں کورہا کیا جائے، ایم کیوایم پر عائد غیراعلانیہ پابندی ختم کی جائے۔


الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر 433  ویں فکری نشست سے خطاب
21  جولائی 2026ء



7/25/2026 4:44:04 PM