Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ملک کے سسٹم کوٹھیک کرنے کے لئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو غیرمشروط تعاون پیش کرنے کو تیار ہوں


ملک کے سسٹم کوٹھیک کرنے کے لئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو غیرمشروط تعاون پیش کرنے کو تیار ہوں
 Posted on: 9/12/2026

ملک کے سسٹم کوٹھیک کرنے کے لئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو غیرمشروط تعاون پیش کرنے کو تیار ہوں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان بظاہر آزاد ملک ہے لیکن ہم میں سے کون آزاد ہے؟پاکستان کے عوام بھیڑ بکریاں نہیں ہیں اور ہمیں حقیقی آزادی کیلئے جدوجہد کرنی چاہیے، ہم کل گورے انگریزوں کے غلام تھے اور آج کالے انگریزپاکستان پر قابض ہیں۔ عمران خان صاحب بھی اپنی تقاریر میں یہی کہتے رہے اسی لئے تحریک انصاف کے لوگ ”ہم لے کے رہیں گے آزادی“ کے نعرے لگاتے ہیں۔ پاکستان میں عمران خان، الطاف حسین، بلوچوں، پٹھانوں، سندھیوں، مہاجروں اور کشمیریوں کوغدارکہاجارہاہے تو پھر ملک میں وفادار کون ہے؟بزرگ پختون رہنما باچا خان کو غدار کہا گیا،اس پر میں نے 1986ء میں نشترپارک کراچی میں ایم کیوایم کے پہلے سیاسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیاتھا کہ میری نظر میں باچاخان اورسائیں جی ایم سید غدار نہیں بلکہ مجاہد تھے۔ آج پاکستان کا ہر باشعور شہری تسلیم کررہا ہے کہ ہمیں پاکستان کی مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جاتی ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے حقیقی آزادی کانعرہ لگایاتواس کی پاداش میں انہیں جیل میں قید کردیاگیا ہے۔وہ گزشتہ تین برسوں سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں،سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے ارکان سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی کی رکنیت لیکر عمران خان کی رہائی کیلئے کیاکررہے ہیں؟ آج ہر علاقے اورہرزبان بولنے والااس بات کابرملااظہار کررہاہے کہ پاکستان بظاہر آزادملک ہے لیکن پاکستان کے عوام آزاد نہیں ہیں۔لہٰذامیں ارباب اختیار اورمقتدر حلقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھیں، شہریوں کوپاکستان سے متنفر کرنا بند کیاجائے اورملک سےظلم وجبر کی زنجیروں کاراج ختم کیاجائے۔  میں پاکستان کے عوام سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی نظر میں پاکستان کے موجودہ حالات کاکیاحل ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمارے اداروں کوسوچنے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے،یہ وطن اتنا ہی اداروں کا ہے جتنا عوام کا ہے، خدارا سیاسی لوگوں سے بات چیت کریں، دشمنیاں بڑھانے کے بجائے جن سے شکایات ہیں ان سے مذاکرات کریں اوربتائیں کہ پاکستان کے آئین کے تحت اداروں اورعوام کے کیاکیا حقوق ہیں، آپس میں محاذ آرائی کے بجائے ہرادارہ اورفرد اپنی اپنی آئینی حدود میں رہ کرکام کرے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کوغیرمشروط تعاون کی پیشکش: میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اپنی غیرمشروط خدمات پیش کرنے کو تیار ہوں، اگرمجھے موقع دیا جائے تو میں بلوچوں، پشتونوں،کشمیریوں،سندھیوں سمیت ہرقوم کے پاس جانے کے لئے تیارہوں،میں تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں اورپوری ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہوں،تنازعات اورجھگڑوں میں اب تک بہت جانیں جاچکی ہیں، اب ہمیں پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے،جہاں تک میری بات ہے تو مجھے نہ صدر بننے کی خواہش ہے اورنہ ہی میں وزیراعظم بننا چاہتا ہوں، میں کل بھی فرسودہ اورظالمانہ نظام کا مخالف تھا اور آج بھی ہوں اور اس وقت تک مخالفت کرتارہوں گا جب تک ملک کاسسٹم ٹھیک نہیں ہوجاتا۔میری جدوجہد یہی ہے کہ ملک میں آئین، قانون کی حکمرانی ہو، منصفانہ نظام نافذ ہو، ہرادارہ اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرے، ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے زیروٹالیرنس کی پالیسی اپنائی جائے،میں چاہتا ہوں کہ ملک کی ترقی وخوشحالی اورعوام کی فلاح وبہتری کیلئے عوامی رائے کے مطابق آئین میں ترمیم کی جائے یا نیا آئین تشکیل دیا جائے، اس کے لئے میں اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے تیارہوں۔اگرمیرے بتائے ہوئے فارمولے پر عمل کیاجائے اورآئینی میں تبدیلیاں کی جائیں توسسٹم بہترہوسکتاہے۔  اگرکوئی ملک سے چوروں، ڈاکوؤں اورلٹیروں سے پاکستان کوآزادکرانے کیلئے مارشل لاء نافذ کرے تو الطاف حسین اس کا ساتھ دے گا لیکن وہ مخصوص وقت کیلئے ہو،وہ ہمیشہ کے لئے حکمراں نہ بن جائے۔الطاف حسین جمہوریت کا حامی اور ڈکٹیٹرشپ کے خلاف ہے لیکن جس طرح دین اسلام میں بسااوقات انسانی جان بچانے کیلئے حرام بھی حلال ہوجاتا ہے اسی طرح ملک وقوم کی بقاء وسلامتی کیلئے اگرکوئی چیز حرام ہو تووہ بھی جائز ہوجاتی ہے۔  میں کوئی جاگیردار، وڈیرہ نہیں ہوں بلکہ غریب ومتوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، محنت مزدوری کرنے والا فرد ہوں، میں نے ایم کیوایم بنائی اور میری جماعت کے افراد سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی کے رکن بنے لیکن نہ میں نے کبھی کسی الیکشن میں حصہ لیا اورنہ اپنے کسی بہن بھائی کو الیکشن لڑایا۔ میں پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کاخاتمہ چاہتا ہوں اس جدوجہد کی پاداش میں 34 سال سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہوں لیکن میں نے نہ ماضی میں اپنے ظرف وضمیرکا سودا کیا تھا اورنہ آئندہ کروں گا۔ غیرمسلم پاکستانیوں کے حقوق: ایم کیوایم پاکستان میں ایسانظام چاہتی ہے جہاں ملک کے تمام شہریوں کومساوی حقوق میسرہوں خواہ ان کاتعلق کسی بھی مذہب، کسی بھی فقہ یامسلک یاعقیدے سے کیوں نہ ہو،ایم کیوایم پاکستان میں مذہبی رواداری کافروغ چاہتی ہے، احمدیوں سمیت تمام غیرمسلم پاکستانیوں کو برابری کی بنیاد پر زندگی گزارنے اورعبادت کرنے کے حقوق دینے پر یقین رکھتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ 11،اگست 1947ء کوقانون سازاسمبلی میں قائداعظم محمد علی جناح کی تقریر کے مطابق پاکستان میں تمام غیرمسلم پاکستانیوں کو اپنے اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی آزادی ہواور مذہبی تفریق کی بنیاد پر کسی کو تعصب اورعصبیت کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 468ویں فکری نشست سے خطاب 11، ستمبر2026ء

9/13/2026 4:31:14 AM