Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

عوامی مینڈیٹ رکھنے والی جماعتوں اوران کے لیڈروں کے کردار کوتسلیم کیا جائے اورانہیں اپنا کردارادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ مصنوعی لوگوں سے حالات میں بہتری کبھی نہیں آسکے گی۔


عوامی مینڈیٹ رکھنے والی جماعتوں اوران کے لیڈروں کے کردار کوتسلیم کیا جائے اورانہیں اپنا کردارادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ مصنوعی لوگوں سے حالات میں بہتری کبھی نہیں آسکے گی۔
 Posted on: 9/6/2026 1

نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے جارحانہ ردعمل،سندھ اسمبلی میں اشتعال انگیز اوردھمکی آمیزتقاریر اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کو سندھو دیش کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ دینے سے یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ کیا مستقبل میں ” تیرا دیش میرا دیش…… سندھو دیش سندھودیش“ کے نعرے گونج سکتے ہیں؟ صدرمملکت آصف علی زرداری جوکہ بمعہ اہل وعیال لندن میں قیام پذیرہیں، کیا ان حالات میں وہ پاکستان واپس جائیں گے؟
آج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب نے لاہور میں قومی پالیسی مکالمے کے عنوان پر ایک تقریب سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ”نئے انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے، کوئی نہیں روک سکتا، کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت یا نمائندے نہیں روک سکتے، نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہے، جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت ختم نہیں ہوگی، اسی طرح سندھ میں نئے انتظامی یونٹس بننے سے سندھی کی شناخت ختم نہیں ہوگی اورکسی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا“۔ محسن نقوی صاحب کے اس بیان پر پیپلزپارٹی کے رہنما نثارکھوڑو، ناصرحسین شاہ، امتیاز شیخ اوردیگررہنماؤں نے ردعمل دیتے ہوئے اس بیان کو سندھ میں مداخلت قراردیا ہے اور وزیراعظم سے اس بیان کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی والوں کے بیانات پر وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں صوبوں کے قیام کی حمایت کررہی ہے مگر سندھ میں مخالفت کررہی ہے یہ اس کا دہرامعیار ہے۔ 
 ایک طرف پیپلزپارٹی کے رہنمااورارکان اسمبلی کے اشتعال انگیز اوردھمکی آمیز بیانات آرہے ہیں اوردوسری طرف سے وفاقی وزرا کی جانب سے جواب پرجواب دیاجارہاہے اورآج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے دھمکی آمیزبیانات کے جواب میں آج پھر واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ صوبے اورانتظامی یونٹس ہرحال میں بنیں گے۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ الطاف حسین اور میری ایم کیوایم نے ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی بات نہیں کہی ہے بلکہ یہ بات وفاقی وزیرداخلہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے کی گئی ہے۔ ایسے نازک وقت میں صدرزرداری اوربلاول زرداری شادی کا بہانہ بناکر ملک سے باہر نکل گئے، آسٹریا کی پرنسز گلوریا سے بلاول کے رشتے کی خبریں میڈیا پر آنے لگیں اور تین دن بعد بلاول زرداری نے وی لاگ کے ذریعے اپنی شادی یامنگنی کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ وہ شہزادی گلوریا کو جانتے تک نہیں ہیں لیکن آسٹریامیں شہزادی گلوریا کے ساتھ چہل قدمی کرتے ہوئے ان کی وڈیو سامنے آگئی۔ زرداری خاندان کے لندن آنے سے اندازہ ہوا کہ کوئی بہت سیریس مسئلہ ہے اور پھر وفاقی وزیرداخلہ کے دوٹوک مؤقف سامنے آنے سے ان کے لندن آنے کا راز بھی کھل گیا۔ 
موجودہ صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب سے خراب ترہوتی جارہی ہے۔ایک طرف پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی کے انتہائی دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات سامنے آرہے ہیں اور دوسری طرف بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے، بلوچستان میں علیحدگی کی جوتحریک چل رہی ہے وہ اس مقام تک پہنچ گئی ہے جہاں بات چیت اورڈائیلاگ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ پاکستان کے پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا نے بلوچستان کے بارے میں یہ خبرنہیں دی جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے اطلاعات ملی ہیں کہ بلوچستان میں حالیہ واقعات میں متعدد فوجی اہلکارجاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ صوبہ KPK میں بھی لاوا اس سطح تک پہنچ گیا ہے کہ وہ کسی بھی لمحے ابل سکتا ہے۔ 
ارباب اختیار کو یہ تمام چیزیں سمجھنا چاہیے، اگر ایران کی طرح کسی بھی ملک کے عوام ایک قوم بن جائیں، یا عوام کی اکثریت ایک سوچ رکھتی ہو تو وہ ملک اپنی بساط کے مطابق دشمن کی فوج سے لڑسکتا ہے، آپ دشمن سے لڑسکتے ہیں لیکن اگرگھرکے اندر مزاحمت چل رہی ہو جیسے کہ بلوچستان، KPK اور کشمیرکی صورتحال ہے، ظاہرہے کسی ملک میں اس قسم کی شورش اورمزاحمت پیدا ہوجائے تو اس کو روکنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ایسی صورتحال میں اگر سندھو دیش کا نعرہ لگ جائے تو پھر کیا ہوگا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب تلاش کرنا سب کی ذمہ داری ہے، سب کوسوچنا چاہیے کہ کیا پاکستان ایک اور سانحہ مشرقی پاکستان کی طرف جارہا ہے؟ آخر ملک کے حالات کس طرف جارہے ہیں۔
میں ایک عام سیاسی کارکن کی حیثیت سے کام کرتا رہا ہوں، میں نے گراس رو ٹ سے جدوجہد کا آغاز کیا اورملک کی تاریخ کے حالات کواپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان سے لیکر سانحہ اوجھڑی تک،سب کچھ دیکھا ہے۔ میں اس کے پس منظرکوبھی اچھی طرح جانتا ہوں جوآج کی نسل نہیں جانتی۔ میں اگرچہ 34سال سے جلاوطن ہوں لیکن مختلف محاذوں پر کڑے سے کڑے حالات کاسامنا کرچکا ہوں۔ اسلئے آج کے حالات میں جتنا تجربہ مجھے ہے اتناآج کسی سیاستداں کونہیں ہے۔ میرے علاوہ عمران خان تحریک انصاف کے سربراہ ہیں، جوکہ ایک بڑی عوامی پارٹی ہے۔ لہٰذامیں سمجھتا ہوں کہ موجودہ صورتحال میں فوج کوعمران خان سے بات کرنا چاہیے، عمران خان کوجیل سے رہا کرنا چاہیے، وہ ملک کو موجودہ نازک اورسورش زدہ صورتحال سے نکالنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ عوام جن جن رہنماؤں کوسپورٹ کرتے ہیں انہیں عوام میں جانے دیا جائے، وہ شہرشہرجائیں اور رائے عامہ کودرست سمت کی طرف لے جائیں اوراس کے لئے عوامی حمایت عمران خان کے پاس ہے اورالطاف حسین کے پاس ہے۔ لہٰذا فوری طورپرعمران خان کوجیل سے نکالاجائے، مجھ پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی ختم کریں اورمیری ایم کیوایم کو سیاسی سرگرمیوں کی کھلی اجازت دی جائے۔
مقتدرحلقوں کوسوچنا چاہیے، ملک کے ہرعلاقے میں جوتنازعات چل رہے ہیں وہاں عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی ضرورت ہے۔بلوچستان میں عوامی سطح پر پڑھے لکھے نوجوان آگے آئے تھے، ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ نے دیگربلوچ نوجوان خواتین کے ساتھ ملکر بلوچ یکجہتی کمیٹی بنائی تھی جن میں کوئی سردارنہیں تھا اور وہ عوامی ایشوزکواٹھارہی تھیں لیکن ان کوقید کردیا گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان میں جوجنگی صورتحال چل رہی ہے اس کاحل گولی نہیں ہے کیونکہ ہر عمل کاردعمل ہوتا ہے، جب آپ کسی گیند کوجتنی شدت سے دیوار پرماریں گے تو نیوٹن کے سائنسی قانون کے مطابق وہ اتنی ہی شدت سے پلٹ کر آئے گی۔ لہٰذا بلوچستان میں فوج کشی کاعمل بندکریں۔ میں کئی بار جرنیلوں کو کہہ چکا ہوں کہ میرے پاس صورتحال کاحل موجود ہے۔ ریاست کو اپنی پالیسی کوری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح جہاں جہاں فوجی آپریشن جاری ہیں انہیں فوری روک دیاجائے اور عوامی مینڈیٹ رکھنے والی جماعتوں اوران کے لیڈروں کے کردار کوتسلیم کیا جائے اورانہیں اپنا کردارادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ مصنوعی لوگوں سے حالات میں بہتری کبھی نہیں آسکے گی۔ 

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 465  ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب 
5، ستمبر2026ء


9/6/2026 10:49:44 AM