کشمیر میں فوجی آپریشن بند کیا جائے، شوکت نوازمیرسمیت تمام کشمیریوں کوفی الفور رہا کیاجائے۔ الطاف حسین
اس وقت پاکستان میں مسئلہ بلوچستان سنگین شکل اختیارکرچکا ہے، اسی طرح خیبرپختونخوا کامسئلہ بھی انتہائی خطرناک ہوتاجارہا ہے، افغانستان سے بھی کشیدگی مسلسل بڑھتی جارہی ہے لیکن افسوس کہ پاکستان کے حکمرانوں کواس کاکوئی احساس نہیں ہے۔ غیرحقیقت پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں آج آزاد کشمیر کے لوگ بھی پاکستان سے ناراض ہیں۔ 78برسوں میں کشمیرکے نام پرانڈیاسے تین جنگیں بھی ہوئیں، کشمیریوں نے پاکستان کی خاطر بڑی قربانیاں دیں، پاکستان کے سیاسی وعسکری حکمرانوں اور عیارومکارسیاسی رہنماؤں نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا اورکشمیری عوام کو ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کانعرہ دیا۔وہ کشمیریوں کو ایسے ہی نعروں کی لوریاں سناکر سلاتے رہے اورانہیں کشمیربنے گا پاکستان کے سہانے خواب دکھائے جاتے رہے۔ کشمیری عوام اس نعرے پر قربانیاں دیتے رہے، لیکن جب کشمیری عوام کی آنکھ کھلی اوروہ نیند سے بیدار ہوئے توانہیں معلوم ہوا کہ کشمیربنے گا پاکستان کا نعرہ حقیقت نہیں بلکہ محض ایک خواب تھا۔ کشمیرپاکستان تونہ بن سکاالبتہ آدھے سے زیادہ کشمیر ہندوستان کا حصہ بن گیا۔
تاریخی طورپر ریاست جموں و کشمیر تقسیم برصغیرسے قبل ایک پرنسلے اسٹیٹ تھی جہاں ڈوگرہ راج تھا، جب 1947ء میں ہندوستان کی تقسیم ہوئی اورہندوستان کی دیگرپرنسلے اسٹیٹس کی طرح ریاست جموں و کشمیر کو بھی اس بات کااختیاردیاگیاکہ وہ چاہیں تو ہندوستان کے ساتھ الحاق کرلیں، چاہیں توپاکستان میں شامل ہوجائیں یاچاہیں توخودمختارریاست کے طورپرآزاد رہیں۔ اس وقت ریاست جموں وکشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے 26نومبر 1947ء کو ہندوستان کے ساتھ الحاق کرلیا تھااوراس سلسلے میں باقاعدہ الحاق نامے پر دستخط کرلیئے تھے۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے اس فیصلے کی رو سے پوری ریاست جموں وکشمیر ہندوستان کاحصہ بن گئی تھی لیکن پاکستان نے قبائلیوں کوبھیج کرریاست کشمیر پرحملہ کیااورکچھ علاقہ پر کنٹرول کرلیا،اقوام متحدہ نے سیزفائر لائن کھینچی جوایل او سی یالائن آف کنٹرول بن گئی، کشمیر کاجوحصہ پاکستان کے زیرانتظام ہوا اسے آزادکشمیر کانام دیدیا گیا لیکن کشمیری مہاراجہ ہری سنگھ کے الحاق نامے کی روسے ہندوستان دعویٰ کرتاہے کہ آزادکشمیراس کاحصہ ہے۔ 2019ء میں ہندوستان نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370کو ہٹا کر اپنے زیرانتظام کشمیرکو ہندوستان کے جغرافیے کاباقاعدہ حصہ بنالیاہے۔ اب وہاں ترقیاتی کام ہورہے ہیں۔ یہ سب اطلاعات پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے عوام کومل رہی ہیں اورکشمیری عوام بالخصوص نئی نسل اپنے بنیاد ی حقوق کے لئے آوازاٹھارہی ہے۔ کشمیریوں کے نوجوانوں نے اپنے بنیادی حقوق کے لئے کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی بناکر جدوجہد شروع کی توحکومت پاکستان نے ان کی جدوجہد کو سبوتاژکرنے کے لئے مذاکرات اورمعاہدہ کے نام پر کشمیرایکشن کمیٹی کے تمام مطالبات تسلیم کرنے کااعلان کیا لیکن ان سے کئے گئے معاہدے پرکوئی عمل نہیں کیا گیا، کشمیری عوام سمجھ گئے کہ ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے لہٰذا انہو ں نے اپنے حقوق کے لئے دوبارہ جدوجہدکاآغاز کردیا اورپرامن احتجاج شروع کیاتوحکومت پاکستان کشمیریوں کی بات سننے کے بجائے ان کے خلاف طاقت کا استعمال کررہی ہے، اپنے حقوق کے لئے باہرنکلنے والے کشمیریوں پر گولیاں چلائی گئیں، بے شمارکشمیریوں کوشہید کردیاگیا، ان کی لاشیں تک لواحقین کو نہیں دی جارہی ہیں، سینکڑوں کشمیریوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ کشمیریوں کے حقوق کے لیئے قائم ہونے والی تنظیم کشمیرجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کوکالعدم قراردیدیا گیاہے اوران کے رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کی گئی ہیں۔ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت نوازمیر کوفوج نے سفاکانہ انداز میں گرفتارکرلیاہے، ان کی گرفتاری بھی ایسے کی گئی جیسے وہ کوئی بہت بڑے دہشت گرد ہیں،اب اطلاعات مل رہی ہیں شوکت نواز کی زندگی شدیدخطرے میں ہے۔
میں نے کشمیریوں کی آزادی وخودمختاری اوران کے حقوق کے لئے ہمیشہ آوازبلند کی، میں نے ہمیشہ یہی مؤقف اختیارکیاکہ کشمیرصرف کشمیریوں کاہے، کشمیرکافیصلہ کرنے کاحق بھی صرف کشمیریوں کو ہے، میں نے کشمیری عوام سے ہمیشہ کہاکہ اگرانہیں حق خودارادیت دیاجائے تووہ کسی سے الحاق نہ کریں بلکہ آزاد وخودمختارکشمیر کے لئے جدوجہدکریں تواس پر کشمیریوں اورپنجابیوں نے مجھے برابھلاکہا، مجھ پریہ الزام لگایاکہ الطاف حسین ہندوستان کی زبان بول رہاہے لیکن میں کشمیریوں کے حق کے لئے آواز اٹھاتارہا، آج تمام کشمیری عوام وہی کہہ رہے ہیں جوبرسوں پہلے میں نے کہاتھا۔
آج کشمیری عوام پر جومظالم ڈھائے جارہے ہیں میں اس دردکواچھی طرح سمجھ سکتاہوں کیونکہ مظلوم ہی مظلوم کے دردکوسمجھ سکتا ہے، اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے پر ہمارے خلا ف بھی فوجی آپریشن کیا گیا، ہمارے ہزاروں معصوم وبے گناہ ساتھیوں کوسفاکی سے شہید کیا گیا، ہمارے رہنماؤں کے سروں کی قیمتیں مقرر کی گئیں، ہمارے بے شمار ساتھیوں کولاپتہ کیا گیا، انہیں ماؤرائے عدالت قتل کرکے ان کی لاشیں سڑکوں اور ویرانوں میں پھینکی گئیں، ہمارے سینکڑوں ساتھیوں کوماورائے عدالت قتل کرکے انہیں اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں میں گمنام مقام پر دفن کردیا گیا، ان کے اہل خانہ کو ان کی لاشیں حوالے نہیں کی گئیں، ہمارے بے شمارساتھی آج بھی جیلوں میں اذیتیں بھگت رہے ہیں۔ ایسے ظلم کانشانہ بننے والوں پر کیاگزرتی ہے، میں بخوبی سمجھ سکتا ہوں۔ میں کشمیریوں کے غم میں برابر کاشریک ہوں اور حقوق کی اس جدوجہد میں کشمیری عوام کے ساتھ ہوں۔
میں بیرون ملک مقیم کشمیریوں سے کہتاہوں کہ وہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نوازمیر اوردیگر کشمیریوں کی گرفتاریوں، ان کی جانوں کولاحق خطرات اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے آگاہ کرنے کے لئے اقوام متحدہ اوراپنے اپنے ملک کی حکومتوں اورارکان پارلیمنٹ کوخطوط لکھیں اور پرامن احتجاج کریں۔ میں پاکستان کی حکومت سے پھر کہتاہوں کہ کشمیر میں فوجی آپریشن بند کیا جائے اورکشمیری عوام کوان کے حقوق دیے جائیں۔ شوکت نوازمیرسمیت تمام کشمیریوں کوفی الفور رہا کیا جائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹا ک پر 426 ویں فکری نشست سے خطاب
3جولائی 2026