Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

میں کراچی میں رینجرز کے ہیڈ کوارٹرپر مسلح دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں


 میں کراچی میں رینجرز کے ہیڈ کوارٹرپر مسلح دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں
 Posted on: 6/30/2026

میں کراچی میں رینجرز کے ہیڈ کوارٹرپر مسلح دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں اوراس حملے میں رینجرز اہلکاروں کی شہاد ت پر افسوس کااظہارکرتا ہوں لیکن اس حملے کے جواب میں پاکستان کی جانب سے افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکااورکنڑ میں سویلین کے گھروں پر فضائی حملوں کی بھی شدیدمذمت کرتاہوں اوران حملوں میں معصوم افغان عورتوں بچوں کی شہادت پر افسوس کااظہارکرتا ہوں۔ افغانستان میں شہری آبادی پر کئے جانے والے یہ حملے افغانستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف جوابی ردعمل کاجوازبنیں گے اوردونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی سخت کشیدگی میں مزید اضافے کاسبب بنیں گے جوصورتحال کوجنگ کی طرف لے جائیں گے۔ 
 دہشت گردوں نے کراچی میں رینجرز ہیڈکوارٹرپرحملہ کیا تھا لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو افغانستان سے سخت احتجاج کرنا چاہیے تھااوراس معاملے کواقوام متحدہ اورعالمی سطح پر اٹھانا چاہیے تھا۔اور اگرجوابی حملہ کرنا ہی تھا توافغانستان کے فوجی ٹھکانوں یا ان کی فوجی چوکیوں پر ہی حملہ کرکے حساب برابر کرلینا چاہیے تھاتاکہ سویلین آبادی کاجانی نقصان نہ ہوتا،لیکن افسوس کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکااورکنڑ میں سویلین کے گھروں پر فضائی حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں درجنوں معصوم افغان عورتیں اوربچے شہیدوزخمی ہوئے۔یہ بات صرف افغان حکومت ہی نہیں بلکہ انٹرنیشنل میڈیا اورافغانستان میں متعین اقوام متحدہ کامشن اوراقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی اپنی آفیشل رپورٹ میں یہی بیان کررہے ہیں کہ پاکستان کے فضائی حملوں میں 28 سویلین عورتیں اوربچے جاں بحق اور 49زخمی ہوئے ہیں۔آخر ان سویلین معصوم عورتوں اوربچوں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا؟  
 میں، میری ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی، سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کراچی میں رینجرز ہیڈکوارٹرپر دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، اس حملے میں رینجرزاہلکاروں کی شہادت پردلی افسوس کااظہار کرتے ہیں اورشہید ہونے والے رینجرز اہلکاروں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہارکرتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم افغانستان میں کئے جانے والے ان فضائی حملوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں اوران حملوں میں معصوم عورتوں اوربچوں کی شہادت پردلی افسوس کااظہارکرتے ہیں اورافغان بھائیوں سے ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتے ہیں۔ 
افغانستان میں ہونے والے ان فضائی حملوں کے جواب میں افغانستان کی جانب سے حملے ہوسکتے ہیں اور ان جوابی حملوں میں سویلین شہری نشانہ بنتے ہیں توان کے ذمہ داروہی عسکری حکام اورموجودہ حکمراں ہوں گے جنہوں نے افغانستان میں سویلین آبادی پر فضائی حملوں کے احکامات دیے۔
میں حکومت پاکستان اورعسکری حکام سے کہنا چاہوں گا کہ اگرکوئی آپ کے فوجی ٹھکانوں یا دفاعی تنصیبات پر حملے کرے توآپ کوپوراحق ہے کہ آپ اپنادفاع کریں اور ان حملوں کاجواب بھی دیں لیکن خداراجوابی حملوں میں سویلین آبادیوں، رہائشی عمارتوں اورمعصوم عورتوں بچوں کونشانہ نہ بنائیں۔ 
میں افغانستان کی حکومت سے بھی یہ کہوں گاکہ وہ ایسے دہشت گرد عناصر جو افغانستان سے آکر پاکستان پر حملے کرتے ہیں،ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں یاانہیں اپنے ہاں سے نکالیں۔
پاکستان کے سویلین اورعسکری حکام کوآج یہ سوچنا چاہیے کہ وہ افغانی جوکل تک آپ کے انتہائی قریبی دوست تھے وہ آپ کے لئے دشمن کیسے ہوگئے؟ آپ نے توامریکی مفادات کی خاطر روس کوافغانستان سے نکالنے کے لئے افغانی باشندوں کوروس کے خلاف جنگ میں ملوث کیا، انہیں عسکری تربیت دی، انہیں پیسہ، اسلحہ اورہرطرح اشیا فراہم کیں، جہاد کے نام پر عسکری تنظیمیں بنائیں اورپورے پاکستان سے لوگوں کی بھرتیاں کیں اورانہیں روس کے خلاف جنگ کے لئے افغانستان بھیجا، روس کے چلے جانے کے بعد افغانستان میں توآپ کے مجاہدین کی حکومت قائم ہوگئی تھی، پھرآپ نے طالبان بنائے اوران کی مالی،عسکری ہرطرح سے سپورٹ کی،وہاں طالبان کی حکومت قائم ہوگئی،اس قدرسپورٹ کے بعد  تو آپ کی افغان بھائیوں سے بہت اچھی دوستی ہونی چاہیے تھی لیکن افغان طالبان سے آپ کی دوستی کے بجائے دشمنی کیوں ہوگئی؟ آج آپ کہتے ہیں کہ ہم نے افغانوں پر بہت احسانات کئے ہیں اوران کی مدد کی تھی، اس پر افغان یہ کہتے ہیں کہ کیاانہوں نے پاکستان کے حکمرانوں کودعوت تھی کہ وہ افغانستان آکر ان کی مدد کریں؟
افغانستان کے ساتھ جنگ وجدل کی پالیسی بنانے والے عسکری حکام کو یہ بات ضرور سامنے رکھنا چاہیے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے روس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرلیا ہے، اگرچہ اس دفاعی معاہدے پر اچانک اورپلک جھپکتے ہی عمل نہیں ہوجاتا لیکن مستقبل قریب میں افغانستان اس دفاعی معاہدے سے فائدہ ضروراٹھائے گا اوراس بات کونظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
میں ارباب اختیار کومخاطب کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ آپ بلوچوں کوملک دشمن قراردیکرکئی دہائیوں سے ماررہے ہیں، آپ نے مہاجروں کومارا جنہوں نے پاکستان بنانے کے لئے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا،آپ نے انہیں انڈین ایجنٹ کہا، آپ نے پشتونوں کومارا، انہیں غدارکہا، وہ پنجابی جوعمران خان کوسپورٹ کرتے ہیں،ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا، انہیں بھی ملک دشمن قراردیا، اب کشمیری رہ گئے تھے، جب انہوں نے اپنا حق مانگا تو اب وہ بھی آپ کی نظرمیں غداراورملک دشمن ہوگئے اورآ پ انہیں بھی انڈین ایجنٹ اورغدار قراردیکرماررہے ہیں۔ 
میں پاکستان کے حکمرانوں اورعسکری قیادت سے کہتا ہوں، خدارااپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں، عوام کو دیوارسے نہ لگائیں اورایسی پالیسیوں سے گریز کریں جن سے عوام آپ سے اوردورہوجائیں۔
الطاف حسین 

ٹک ٹاک پر ہنگامی 425  ویں فکری نشست سے خطاب
30جون 2026ء


6/30/2026 9:42:02 AM