ایم کیوایم کی تادم مرگ بھوک ہڑتال کے پانچویں دن حق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل رفیق اور ٹاؤن ممبر شہزاد کی طبیعت خراب ہوگئی
فیصل رفیق اور شہزاد 18اگست 2016ء جمعرات کی شام سے مہاجروں کے سیاسی، معاشی، سماجی، تعلیمی، جسمانی قتل عام، کارکنان کے گھروں و دفاتر پر چھاپوں، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف تادم بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے تھے
ڈاکٹروں کے مطابق فیصل رفیق اور شہزاد کو بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے 71سے زائد گھنٹے گزر چکے ہیں جس کے
باعث کا بی پی، نبض، ٹیمپریچر، فاسٹ بلڈ شوگر اور یورین آؤٹ پٹ نارمل نہیں ہے
ڈاکٹروں کا فیصل رفیق اور شہزاد کو تادم مرگ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا مشورہ ، فیصل رفیق اور شہزاد کا انکار
کراچی ۔۔۔21، اگست2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہرجاری تادم بھوک ہڑتال کے پانچویں دن حق پرست رکن سندھ اسمبلی فیصل رفیق کی طبیعت خراب ہوگئی ۔تفصیلات کے مطابق فیصل رفیق مورخہ 18اگست 2016ء جمعرات کی شام سے مہاجروں کے سیاسی ، معاشی، سماجی، تعلیمی، جسمانی قتل عام، کارکنان کے گھروں و دفاتر پر غیرآئینی و غیر قانونی چھاپوں، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف تادم بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے تھے تاہم بھوک ہڑتال کے پانچویں روز دوپہر1:30بجے وہ بھوک ہڑتالی کیمپ میں بے ہوش ہوگئے ان کا فوری طور پر ایم کیوایم میڈیکل ایڈ کمیٹی کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے اراکین نے طبی معائنہ کیا اور انہیں میڈیکل ایڈ کے کیمپ میں ڈرپس لگائی گئی ۔ ڈاکٹروں کے مطابق فیصل رفیق کو بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے 71سے زائد گھنٹے گزر چکے ہیں جس کے باعث کا بی پی ، نبض ، ٹیمپریچر ، فاسٹ بلڈ شوگر اور یورین آؤٹ پٹ نارمل نہیں ہے ۔ ڈاکٹروں نے فیصل رفیق کو تادم مرگ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا مشورہ دیا لیکن وہ اس بات پر مصر رہے کہ جب تک مہاجروں کے ساتھ ظلم وزیادتی اور ناانصافیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوجاتا اور ایم کیوایم کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کرلیے جاتے وہ تادم مرگ بھوک ہڑتال پر سے نہیں اٹھیں
گے۔
تصاویر