قائد تحریک الطاف حسین نے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو چیلنج کرکے غریب و متوسط طبقے کے نوجوانوں کو پہلی مرتبہ منتخب ایوانوں میں پہنچایا — کنوینر مصطفیٰ عزیزآبادی
پنجاب کے عوام دو جماعتی نظام کا شکنجہ توڑ کر ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم پر متحد ہوں — عمیر خُسرو رُکن رابطہ کمیٹی
پنجاب کو ایم کیو ایم سے دور رکھنے کے لیے زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا، لیکن الطاف حسین کا فکروفلسفہ آج پورے پاکستان میں پھیل چکا ہے — پنجاب کے شہر نارووال میں کارکنان کا اجتماع میں اظہار خیال
لندن۔۔۔ یکم ستمبر 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پنجاب کے زیراہتمام پنجاب کے شہر نارووال کے وفاپرست کارکنان کی جانب سے ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں سابق انچارج ڈسٹرکٹ نارووال رانا حفیظ، سابق انچارج نارووال و سابق جنرل سیکریٹری پنجاب مرزا آصف بیگ سمیت ذمہ داران و کارکنان نے شرکت کی۔
اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے کنوینر مصطفیٰ عزیزآبادی نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین سے دور رکھنے کے لیے انتہائی زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا، لیکن یہ قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کے نظریے کی سچائی ہے کہ آج پنجاب میں ایک بار پھر نوجوان قائد تحریک الطاف حسین کی تحریک سے جڑ رہے ہیں جس کاثبوت نارووال میں وفاپرست ساتھیوں اور ہمدردوں کا یہ اجلاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 78 برسوں سے ملک پر مسلط دو جماعتی نظام اور اس کے حکمرانوں نے عوام کو بجلی، پانی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا، جبکہ ان سیاسی جماعتوں کے رہنما قومی دولت لوٹ کر کھرب پتی بن گئے۔ قائد تحریک جناب الطاف حسین نے جب غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے نوجوانوں کو منتخب ایوانوں میں بھیجا تو دو جماعتی نظام اور ان کی سرپرست قوتوں نے پنجاب میں ایم کیو ایم کا راستہ روکنے کے لیے سازشوں کا آغاز کردیا۔سچ کو پھیلنے میں دیر لگتی ہے لیکن بالآخر سچ ہی پھیلتا ہے، آج ملک عوام قائد تحریک الطاف حسین اور ان کے فکر وفلسفہ کو سمجھ رہے ہیں، آج قائد تحریک جناب الطاف حسین کا فکروفلسفہ پنجاب سمیت پورے پاکستان میں پھیل چکا رہا ہے ۔
رابطہ کمیٹی کے رکن عمیر خسرو نے اس موقع پر گُفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جناب الطاف حسین نے پاکستان میں برسوں سے قائم فرسودہ سیاسی طلسم کو توڑا اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب و متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اسمبلیوں میں پہنچایا۔ اس حق پرستانہ جدوجہد میں جناب الطاف حسین کے بھائی، بھتیجے، بہنوئی اور 25 ہزار سے زائد کارکنان نے قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ انہوں نے روزِ اول سے پاکستان پر مسلط گلے سڑے اور فرسودہ جاگیردارانہ و وڈیرانہ نظام کے خلاف آواز بلند کی۔ وہ ملک کے واحد سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے ہر دور میں مظلوموں کا ساتھ دیا اور تمام تر نتائج کی پروا کیے بغیر حق اور سچ کی بات کی۔
عمیر خسرو نے کہا کہ منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والے جاگیردار اور سرمایہ دار غریبوں کی قسمت بدلنے کے دعوے کرتے رہے لیکن وہ عوام کی حالت بدلنے کے بجائے قومی خزانہ لوٹ کر خود امیر سے امیر تر ہوتے گئے۔ آج غریب عوام روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم، صحت اور انصاف جیسی بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں۔
انہوں نے پنجاب کے عوام سے اپیل کی کہ اگر وہ اپنی قسمت بدلنا چاہتے ہیں تو وہ جاگیرداروں، وڈیروں کےخاندانوں کی موروثی سیاست کے خلاف آواز بلند کریں اور اس سے چھٹکارہ حاصل کریں۔ پنجاب کے عوام کو اپنے حقوق کے حصول اور دو جماعتی نظام کے شکنجے سے آزادی کے لیے عملی جدوجہد کرنا ہوگی اور قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا۔
پروگرام میں پنجاب کے دیگر اضلاح سے تعلق رکھنے والے ساتھیوں نے بھی شرکت کی اور اس موقع پر سینئر تحریکی ساتھی محمد علی جواد بھائی نے بھی ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ قائد تحریک الطاف حسین بھائی پر لگی ہر طرح کی غیر قانونی پابندی کے خلاف پنجاب کے کارکنان متحد اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہیں۔
•••••