Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

79 سال میں ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کرسکے کہ ملک میں کمیونزم، سوشلزم، بادشاہت، جمہوری نظام لایاجائے۔ پاکستان کی مفلوک الحالی کی سب سے بڑی وجہ گلاسڑا فرسودہ جاگیردارانہ نظام ہے، الطاف حسین


 79 سال میں ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کرسکے کہ ملک میں کمیونزم، سوشلزم، بادشاہت، جمہوری نظام لایاجائے۔  پاکستان کی مفلوک الحالی کی سب سے بڑی وجہ گلاسڑا فرسودہ جاگیردارانہ نظام ہے، الطاف حسین
 Posted on: 8/8/2026 1

79 سال میں ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کرسکے کہ ملک میں کمیونزم، سوشلزم، بادشاہت، جمہوری نظام لایاجائے۔  پاکستان کی مفلوک الحالی کی سب سے بڑی وجہ گلاسڑا فرسودہ جاگیردارانہ نظام ہے، الطاف حسین اورایم کیوایم نے اسی فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ، سردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی بات کی،کرپٹ سیاستدانوں اوراسٹیٹس کوکے خلاف عملی جدوجہد کی۔ 48 برسوں سے ہم اپنا فکروفلسفہ بیان کرتے رہے کہ جب تک پاکستان کی ترقی کی راہ میں کھڑی موٹی موٹی دیواروں کو نہیں گرایا جائے گا ملک کے عوام کی فلاح وبہبود کا کوئی بھی کام سرے سے ہوہی نہیں ہوسکتا۔ 
پاکستان کے سیاسی رہنماؤں میں واحد الطاف حسین تھا جس نے بتایا کہ ملک پرچندمخصوص خاندان، جاگیردار، وڈیرے، سردار اورسرمایہ دارسیاست میں حصہ لیکر نسل درنسل حکمرانی کررہے ہیں اور ان کرپٹ عناصرپرمشتمل دوفیصد حکمراں اشرافیہ کو فوجی جرنیلوں کی حمایت اورسرپرستی حاصل ہے توپاکستان ٹیلی ویژن اوراخبارات کے ذریعے ایم کیوایم اورالطاف حسین کے خلاف جھوٹا، من گھڑت اورمکروہ پروپیگنڈہ کیا گیا، ملک بالخصوص صوبہ پنجاب اورصوبہ KPK کی سیاسی جماعتوں اورسیاسی لیڈروں کی جانب اپنے اپنے کارکنوں کو اسٹیبلشمنٹ کا لکھا ہوا پروپیگنڈہ سنایا جاتا تھا کہ ایم کیوایم ایک دہشت گردجماعت ہے، ملک دشمن ہے، الطاف حسین غدار ہے، ایم کیوایم بوری بند لاشیں اوربھتہ خوری کرتی ہے، ایم کیوایم پر اسی قسم کے بے بنیاد الزامات لگائے جاتے رہے اورعوام کو ایم کیوایم سے بدظن کیاجاتا رہا۔ 
میں نے 48 سال قبل کہہ دیا تھا کہ پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتا جب تک فوجی جرنیل نہیں چاہیں گے کیونکہ فرسودہ جاگیردارانہ نظام کی حفاظت فوجی جرنیل کررہے تھے جبکہ فوج کا کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے لیکن فوجی جرنیلوں نے کرپٹ جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں اور چوراچکوں کی حمایت کی اورآج تک کررہے ہیں۔ 
ایم کیوایم نے 1988ء کے عام انتخابات میں حصہ لیا اورانتخابی نتائج اور قومی اورصوبائی اسمبلیوں میں منتخب ارکان کی تعداد کے لحاظ سے ملک کی تیسری اور صوبہ سندھ کی دوسری بڑی جماعت بن کرابھری، ایم کیوایم کے فکروفلسفہ اورغریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو منتخب ایوانوں میں بھیجنے کے عمل کو دیکھ کر صوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان اوراندرون سندھ سے وفودایم کیوایم کے مرکز نائن زیروآئے اورکہنے لگے کہ آپ نے غریب طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب ایوانوں میں متعارف کرایاہے ہم بھی چند بڑے خاندانوں کے غلام بنے ہوئے ہیں، ہم بھی اس تحریک میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن آپ کی تحریک مہاجرقومی موومنٹ ہے، ہم آپ کی تحریک میں کیسے شامل ہوسکتے ہیں۔میں نے پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں اورسندھیوں کو بتایا کہ ہم مہاجرقوم میں اپنے پیغام کو پھیلانے میں اس لئے کامیاب ہوئے کہ مہاجرقوم میں نہ تو کوئی جاگیردار، زمیندار اوروڈیرہ ہے اورنہ ہی موروثی سیاست کرنے والا کوئی خاندان ہے، آ پ اپنے صوبے کے سرداروں، زمینداروں، خوانین اور جاگیرداروں میں الطاف حسین کی فلاسفی پھیلاسکتے ہیں۔انہوں نے کہاہم کرسکتے ہیں تومیں نے مہاجرقومی موومنٹ کانام تبدیل کرکے اس کا دائرہ پورے ملک میں پھیلادیا۔میں نے مہاجروں کو ہی نہیں بلکہ غریب ومتوسط طبقے کے پڑھے لکھے پنجابی، سندھی، بلوچ، پختون کو سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی میں نمائندگی دلوائی حتیٰ کہ اپنے گھرعزیزآباد سے غیرمہاجروں کو منتخب کرواکر اسمبلیوں میں بھیجا۔
 عوام کو شعور دیا کہ ملک میں دوطبقے Haves and Haves not  ہیں یعنی ایک طبقے کے پاس سب کچھ ہے اوردوسرے طبقے کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک طبقہ دوفیصدحکمراں اشرافیہ کا ہے جو چہرے بدل بدل کرحکومت کرتا چلاآرہا ہے اوردوسرا طبقہ 98فیصد غریب ومتوسط عوا م کا ہے جو بنیادی حقوق سے محروم ہے لیکن فوج کے جرنیلوں کو میرا فکروفلسفہ پسند نہیں آیا اورنہ ہی امریکہ کو الطاف حسین سے عوام کی محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر پسند آیا۔ عمران خان صاحب بھی جاگیردار،وڈیرے اورسرمایہ دار نہیں ہیں لیکن وہ سیاست میں آنے سے پہلے سے ہی دنیا بھرمیں جانے پہچانے جاتے تھے، ان کی عوامی مقبولیت بھی پسند نہیں کی گئی اوروہ آج تین سال سے جیل میں قید ہیں۔ 
گزشتہ دنوں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بیان دیا کہ ملک کا سسٹم تباہ ہوچکاہے، ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں اورنئی تبدیلیاں لائی جائیں جبکہ الطاف حسین نے یہ باتیں 40 سال پہلے کہیں تو فوج نے ایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع کردیا۔فرسودہ جاگیردارانہ اورظالمانہ نظام کے خاتمے اور غریب ومتوسط طبقے کی حکمرانی کی جدوجہد اورغریب ومتوسط طبقے کے لوگوں کو منتخب ایوانوں میں پہنچانے کا عمل فوج کو پسند نہیں آیا، فوج نے فیصلہ کرلیا کہ ایم کیوایم کو ختم کیا جائے اورامریکہ نے اس فیصلے کی حمایت کی۔قوم سے جھوٹ بولاگیا کہ فوجی آپریشن ڈاکوؤں، اغواء برائے تاوان کی وارداتیں کرنے اورجرائم پیشہ عناصر کوپناہ دینے والے پتھاریداروں پرمشتمل 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف کیاجائے گا۔ 1988ء میں ایم کیوایم وفاقی اورصوبائی حکومت میں شامل تھی،ایم کیوایم کے وفاقی اور صوبائی وزیر تھے، سینیٹ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی، کراچی اورحیدرآباد کی بلدیات کے میئر ایم کیوایم کے تھے لیکن محض چار سال بعد 19، جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا گیا، فوج ٹینکوں، بکتربند گاڑیوں اورگولہ باردو کے ساتھ ایک عوامی جماعت کو کچلنے کیلئے کراچی، حیدرآباد اورسکھر میں داخل ہوئی اورایم کیوایم کے دفاتر پر قبضے کرائے۔ پاکستان کی کسی ایک سیاسی جماعت کا نام بتائیں جو حکومت میں شامل ہو اور اس کے خلاف فوجی آپریشن کیاگیا ہو؟
ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران ہزاروں مہاجروں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اس دورمیں لاپتہ کیے گئے مہاجرنوجوان آج تک واپس نہیں آسکے، چوہدری شجاعت حسین، نواز شریف اورآصف علی زرداری ابھی زندہ ہیں ان سے پوچھا جاسکتاہے کہ مارگلہ کی پہاڑیوں میں ایم کیوایم کے کتنے کارکنوں کو دفن کیا گیا تھا۔ ہمارے خلاف بدترین آپریشن کیا گیا لیکن اس کی مذمت کرنے کے بجائے پنجاب، خیبرپختونخوا اورکشمیرمیں ہمارے خلاف فوجی آپریشن کی خوشی میں بھنگڑے ڈالے گئے۔ 
الطاف حسین پاکستان کا واحد رہنما ہے جس کے گھر494/8 عزیزآباد فیڈرل بی ایریا کراچی کو 2016ء میں seal کیا گیا، دس سال سے فوجی اہلکارمیرے گھرپربیٹھے رہے اوران کی موجودگی میں میرے گھرکونذرآتش کرکے راکھ کا ڈھیربنادیا گیا پھر بلڈوز کردیا گیا لیکن آج بھی میرے گھرپر فوج بیٹھی ہوئی ہے۔ 
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان تین سال سے جیل میں قید ہیں لیکن ان کے گھرکونہ تو آگ لگائی گئی اورنہ ہی بلڈوزکیا گیا، ن لیگ کے سربراہ محمد نواز شریف کو گرفتارکیا گیا، سپریم کورٹ نے نوازشریف پرسیاست میں حصہ لینے اور جماعت کی رہنمائی کیلئے تاحیات نااہل قراردیا، انہیں جلاوطنی میں جانا پڑا، آصف زرداری جلاوطن ہوئے، بے نظیربھٹو جلاوطن ہوئیں لیکن نوازشریف، آصف زرداری یا بے نظیربھٹوکے محلات نہیں جلائے گئے واحد الطاف حسین کا گھرجلایا گیا۔کیا نوازشریف، شہباز شریف، عمران خان، آصف زرداری اوربے نظیربھٹو کے گھروں کو اس طرحseal کیا گیا جس طرح الطاف حسین کے گھر کو seal کیا گیا، آگ لگا کربلڈوزکیا گیا؟
 میں نے 1988ء میں ہی پاکستان کے مظلوم عوام سے یہ کہا تھا کہ ملک میں اسٹیٹس کوہے، چند خاندانوں کی اجارہ داری ہے، اسے ختم کئے بغیرملک کا نظام بہترنہیں ہوسکتا، اگرآپ ایم کیوایم میں شامل نہیں ہونا چاہتے تواپنے اپنے صوبے میں ایم کیوایم کی طرز پر جماعتیں بنالیں اورجاگیرداروں، وڈیروں اورسرمایہ داروں کوووٹ دینے کے بجائے اپنی صفوں سے قیادت نکال کرمنتخب ایوانوں میں بھیجیں تاکہ ملک کواس طبقہ اشرافیہ کے تسلط سے نجات مل سکے ملک کا نظام بہترہوسکے۔آج 79 سال بعد تسلیم کیاجارہا ہے کہ ملک میں چند خاندانوں کی اجارہ داری ہے، ملک کو اچھے حکمراں نہیں ملے، ملک کا نظام تباہ ہوچکا ہے، اس طرح ملک نہیں چل سکتا اوراب مزید صوبے بنانے چاہئیں۔  اگرپاکستان کے 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام 1988ء میں ہی میری بات مان لیتے، پنجاب، KPK، بلوچستان اوراندرون سندھ میں اپنی اپنی جماعتیں بنالیتے اورایم کیوایم کی طرح اپنی صفوں سے قیادتیں نکال کراسمبلیوں میں بھیجتے، وڈیروں، جاگیرداروں، سرداروں بڑے بڑے سرمایہ داروں سے نجات حاصل کرلیتے تو آج پیپلزپارٹی، مسلم لیگ اورمذہبی جماعتیں ان پر مسلط نہ ہوتیں،ملک کانظام بہترہوتااورآج کسی کویہ کہنے کی ضرورت نہ ہوتی کہ ملک کاسسٹم تباہ ہوچکاہے۔ 

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 443  ویں فکری نشست سے خطاب
7  اگست 2026ء


8/10/2026 8:54:12 AM