آبنائے ہرمزکے دوبارہ بند ہونے،امریکی ناکہ بندی اورایرانی جہازپرامریکی قبضے کے بعدامریکہ اورایران کے درمیان مذاکرات غیریقینی صورتحال کا شکارہوگئے ہیں، امریکہ اورایران میں مذاکرات کادوسرا راؤنڈ ہوتا ہے یانہیں، کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ دونوں جانب سے بیانات کی جنگ جاری ہے اورجنگ کے بادل دوبارہ منڈلانے لگے ہیں۔ اس صورتحال میں ہم پوزیٹوریزنکال سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرسکتے ہیں کہ دونوں ملک دوبارہ مذاکرات کی میزپرآئیں، مذاکرات کامیاب ہوں اور مستقل جنگ بندی ہوجائے۔
خطے میں مسلط کردہ اس جنگ میں گزشتہ 51 دنوں میں بہت خون بہہ چکا ہے، ہزاورں نوجوان، بزرگ، عورتیں اوربچے شہید اورہزاروں زخمی ہوچکے جن میں بہت سے عمربھر کے لئے معذور ہوگئے ہیں۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ جب جنگوں میں بچوں کے ماں باپ مارے جاتے ہیں توان کے یتیم بچوں کا کیا مستقبل ہوتاہے اورجو بچے مارے جاتے ہیں ان کے ماں باپ کے دلوں پر کیا گزرتی ہے، ان کے جذبات کیا ہوتے ہیں، دونوں جانب سے سب کوایک ہی جیسا دکھ اورتکلیف ہوتی ہے،کسی ایک مذہب کے مارے جانے والے افراد ان کے لواحقین کوجتنے پیارے ہوتے ہیں اتنے ہی پیارے دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے لئے ہوتے ہیں۔ جنگوں میں لہوکے بہنے، معصوم انسانوں کی ہلاکتوں اوربمباری سے ہونے والی تباہی دیکھ کر انسانیت سے محبت کرنے والے ہرفرد کا دل دکھتا ہے۔ لہٰذا انسانوں کاخون بہانے کا یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے اور امن اورانسانیت کی فلاح وبہبود کی بات کی جانی چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 398ویں فکری نشست سے خطاب
19 اپریل 2026ء