جنگیں مسائل کاحل نہیں ہوتیں، ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ ا ورایران کے درمیان معاملات کامیاب مذاکرات کے ذریعے حل ہوں، وہ دوبارہ جنگ کی طرف نہ جائیں اوردنیا میں بے گناہ انسانی جانیں نہ جائیں خواہ وہ کسی طرف کی بھی ہوں۔
ہمیں سمجھنا چاہیے کہ آج جنگیں زمانہ قدیم کی طرح نہیں ہوتیں، پہلے نہ جنگی طیارے تھے، نہ میزائل اورنہ ڈرون تھے اورنہ ہی وہ جدید جنگی سازوسامان تھا جوآج استعمال ہورہاہے، آج سائنس اتنی ترقی کرگئی ہے کہ آج میزائل ا ورڈرون لوکیشن کا پتہ لگا کرگرائے جاتے ہیں اوروہ اسی مقام کونشانہ بناتے ہیں لیکن اس قدرسائنسی ترقی کے باوجود وہ مطلوبہ مقام یامطلوبہ فرد کوتومارسکتا ہے لیکن آج تک سائنس نے کوئی ایسا سسٹم نہیں بنایا کہ وہ میزائل یابم مطلوبہ مقام پرموجود فرد کوتو نشانہ بنالے لیکن وہاں موجود معصوم عورتیں اوربچے اس سے محفوظ رہ سکیں۔ نتیجہ ہے کہ جنگوں میں معصوم وبے گناہ افراد خصوصاًعورتیں اوربچے نشانہ بن رہے ہیں۔
ایک بات نہایت افسوسناک ہے کہ ایک طرف پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اورایران کے درمیان مذاکرات ہورہے تھے اوردوسری طرف اسرائیل ان مذاکرات کوناکام بنانے کے لئے لبنان پر مسلسل بمباری کررہاتھااوراب بھی کررہاہے حالانکہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہبازشریف نے جب امریکہ اورایران کے درمیان سیزفائر کا اعلان کیا تواس میں مشرق وسطیٰ کے تمام علاقوں کے ساتھ ساتھ خصوصی طورپرلبنان کا ذکرتھا۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کی حمایت میں توچارقدم آگے بڑھ کرایران پر بمباری کردیتا ہے لیکن امریکہ اوراس کے حلیف دیگرممالک اسرائیل کا ہاتھ نہیں روک پارہے ہیں اورکھل کریہ نہیں کہہ رہے کہ کونسا فریق اقوام متحدہ کے چارٹراورعالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے،یہ دوعملی شکوک وشبہات کوجنم دیتی ہے۔
حالات سے یہ بات بھی ثابت ہوگئی ہے کہ اقوام متحدہ کی طاقت اوراس کاچارٹرصرف کاغذ پر لکھے ہوئے اچھے اچھے الفاظ کا ایک مربّہ ہے، اس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ اقوام متحدہ نے 1948ء میں اسرائیل کی ریاست توقائم کردی لیکن فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا۔ اقوام متحدہ نہ فلسطین کامسئلہ حل کراسکی، نہ عراق، لیبیااورشام میں جارحیت اورحملوں رکواسکی،نہ غزہ میں فلسطینیوں کاقتل عام بند کراسکی اورنہ ہی آج ایران اورلبنان کے خلاف جارحیت کو رکواسکی۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اقوام متحدہ کو فعال بنانے کے لئے نئے سرے سے اقوام متحدہ کی تشکیل کی جائے، اس کے نئے قواعدوضوابط بنائے جائیں، نیا چارٹربنایا جائے جس میں کسی بھی ملک کوویٹوپاورحاصل نہ ہواور ایک اصول وضع کرلیاجائے کہ کسی بھی بین الاقوامی تنازعے کوحل کرنے کے لئے اقوام متحدہ کے ممبرممالک دوتہائی اکثریت سے فیصلہ کیا جائے۔یہ سلسلہ بند ہوناچاہیے کہ کسی بھی ملک پر جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک قرارداد منظورکرے اورایک سپرپاور اس کوویٹوکردے،جیسااب تک ہوتا آیا ہے اور اسی طرح کی صورتحال ایران کے معاملے میں بھی دیکھنے میں آئی۔
ایک اورمعاملہ اسلامی ممالک اوران کے پلیٹ فارم OIC یا Orgnisation of Islamic Cooperation یعنی ” تنظیم برائے اسلامی تعاون“ کاہے۔ جس کامقصدیہ بتایا گیا ہے کہ کسی بھی اسلامی ملک پرکوئی بھی مشکل آئے تو تمام اسلامی ممالک آگے بڑھ کر اس کی مددکریں۔ لیکن کیا اوآئی سی نے آج تک اپنی تنظیم کوبنانے کے مقصد کوپورا کیا؟ جب بھی کسی اسلامی ملک پر کوئی بیرونی جارحیت ہوئی، وہاں کے عوام پرحملے ہوئے، ان کا قتل عام کیا گیا، توکیا اوآئی سی اس اسلامی ملک کی مدد کوآئی؟مدد کرنا تودور کی بات ہے، اوآئی سی نے غزہ، مغربی بینک میں فلسطینیوں کے قتل، لبنان، شام،عراق اورایران پر ہونے والے حملوں کی مذمت تک نہیں کی۔لہٰذا میں آج یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ جب اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی صرف برائے نام ہے، ایک معذورتنظیم ہے اورکسی بھی اسلامی ملک پر ہونے والی جارحیت کوروکنے اوراس کی مدد کرنے سے قاصرہے توپھراو آئی سی کوتوڑدیناچاہیے۔اوآئی سی کی حیثیت راستے میں پڑے پتھرسے زیادہ نہیں ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 394ویں فکری نشست سے خطاب
11 اپریل 2026ء