خیبرپختونخوا میں گورنرراج اورایمرجنسی کانفاذکرکے پختونخوا کے پشتون عوام کے مینڈیٹ کا خون کیا گیا ہے، یہ آمرانہ اقدام جمہوریت کے لئے ایک سیاہ اقدام ثابت ہوگا۔
پاکستان میں گزشتہ 79برسوں سے جمہوریت کاخون ہوتا چلا آیا ہے، منتخب جمہوری حکومتوں کی کوئی قدرو منزلت نہیں ہے،ملک میں جمہوریت کے نام پر جوپارلیمانی سیاست ہورہی اس میں جمہوریت کے نام پر دوخاندانوں کی آمریت رائج ہے۔ 2024ء کے انتخابات کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں قائم ہونے والی تحریک انصاف کی حکومت کوشروع دن سے قبول نہیں کیا گیا، صوبائی حکومت نے اپنے حقوق کے حصول اورملک میں آئین وقانون کی بالادستی کے لئے لانگ مارچ نکالا توہردور میں جمہوریت کا خون کرنے والی طاقتوں نے آج خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی منتخب حکومت اوراسمبلی کومعطل کرکے وہاں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اوران کے رفقا ء کوگرفتارکرکے لاپتہ کردیا ہے اوران کے بارے میں کچھ نہیں پتہ چل رہاہے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔
میں سوال کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کوبرطرف کرنے کی کیاوجہ ہے؟ اگر ہم ایک لمحے کے لئے یہ مان بھی لیں کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کررہی تھی، تو گزشتہ 20 برسوں سے آپ دہشت گردی کے خلاف مختلف ناموں سے ایک کے بعد دوسرااوردرجنوں آپریشن کرتے آئے ہیں،جس کے لئے پشتونوں کوان کے گھروں سے نکال کرآئی ڈی پیز بناکرخیموں میں رہنے پر مجبور کیاگیا، پھربھی آپ نے دہشت گردی کاصفایاکیوں نہیں کیا؟ بات یہ نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ سہیل آفریدی جن مطالبات کے لئے لانگ مارچ کررہے تھے،جس کی حمایت میں لوگ اس میں شامل ہورہے تھے،اسی وجہ سے سہیل آفریدی کی حکومت کوبرطرف کیا گیا ہے۔ وہاں گورنرراج اور ایمرجنسی ہی نافذ نہیں کی گئی بلکہ اب صوبے کوفوج کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اگر ایسے آمرانہ اقدامات کرکے یہ سمجھا جارہا ہے کہ وہاں امن قائم ہوگیا ہے،تویہ خاموشی کسی بڑے طوفان کی آمد کی اطلاع دیتی ہے۔ ان آمرانہ اورجابرانہ اقدامات کے نتیجے میں اب خیبرپختونخوا کا ہرپشتون یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کیا وہ پاکستان کاحصہ نہیں ہیں؟ کیا یہ ملک ہمارانہیں ہے؟آخرہمارا کیا قصور ہے کہ ہماری دوتہائی اکثریت سے منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے؟
ہم خیبرپختونخوا میں گورنرراج اورایمرجنسی کے نفاذ کونہیں مانتے،میں فارم 47کی موجودہ حکومت اوراس کے سرپرستوں سے کہتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی حکومت کوبرطرف کرکے وہاں گورنر راج اورایمرجنسی نافذ کرنے کاآمرانہ اقدام فی الفور واپس لیا جائے،خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کااحترام کیا جائے،صوبائی حکومت بحال کی جائے اوروہاں بھیجی گئی فوج کوواپس بلایا جائے۔
غیورپشتون عوام گورنرراج اورایمرجنسی کے نفاذ کے ظالمانہ اقدام کوکسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریں گے،
پشتون عوام صوبائی حکومت پر دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے الزامات کوبھی مستردکرتے ہیں۔
ٓصدرآصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا کی منتخب جمہوری حکومت کوختم کرنے کے فرمان پر دستخط کرکے خیبرپختونخوا کے پشتون عوام کے مینڈیٹ کاجوخون کیا ہے، پشتون عوام اس کونہیں بھولیں گے اوراس ظلم کاحساب لیں گے۔ پشتون عوام سمجھتے ہیں کہ تم ملک کے صدرنہیں بلکہ ایک ظالم وجابر ہواورظالموں کے بادشاہ ہو۔
گورنرراج اورایمرجنسی کے ظالمانہ اقدام کی کہیں کوئی گنجائش نہیں ہے اورجولوگ اس جابرانہ اقدام کی حمایت میں آئین وقانون کی تشریح کررہے ہیں وہ ان درباری ملاؤں کی طرح ہیں جواپنے مطلب کے لئے قرآن کی آدھی آدھی آیات کی تشریح کرکے عوام کودھوکہ دیتے ہیں۔ایسے ہی ملاؤں نے سہیل آفریدی کوبھی دھوکہ دیا۔ اسی طرح آئین کی تشریح کرتے ہوئے 26 ویں اور27 ویں آئینی ترمیم کی گئی اورسپریم کورٹ اوردیگراعلیٰ عدالتوں کومفلوج کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے آج ان کے فیصلوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔سپریم کورٹ عمران خان کوشفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتی ہے لیکن اس کے فیصلے کوبوٹوں تلے رونددیا گیا۔
میں خیبرپختونخوا کے پشتون عوام سے کہتا ہوں کہ آپ ان حالات سے مایوس نہ ہوں،اپنی صفوں میں اتحاد برقراررکھیں اور اپنے اتحاد سے اس ظلم وجبر کامقابلہ کریں۔ الطاف حسین حقوق کی جدوجہد میں پشتون عوام کے ساتھ ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 484 ویں فکری نشست سے خطاب
11 اکتوبر 2026ء