عدالتوں کے فیصلوں کے پرخچے اڑائے جا رہے ہیں پھربھی مذاکرات، مذاکرات کا کھیل کھیلا جارہا ہے،
اگرمذاکرات ہرمسئلہ کاحل ہوتے تو پھر دنیا میں کہیں بھی جنگیں نہیں ہوتیں۔ الطاف حسین
صوبہ بلوچستان اورصوبہ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں امن عامہ کی صورتحال سب کے سامنے ہے، کہنے کو ملک میں جمہوریت ہے میڈیا کا کردار وہی ہے جو مارشل لا دور میں ہوا کرتا ہے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں وہی نشر وشائع کیاجاتا ہے جو حکومتِ وقت چاہتی ہے، تمام ٹی وی چینلز پر جوٹاک شوز اور تجزیئے پیش کیے جاتے ہیں وہ عموماً طے شدہ ہوتے ہیں کہ کس موضوع پر کیا کہنا ہے اور ریڈلائن کیا ہوگی۔
میرا کام پاکستان کے عوام کے سامنے سچ کہنا ہے چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے بانی عمران خان صاحب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں، 9،مئی2023ء کے کیسوں میں عمران خان اور ان کے ساتھی تو جیلوں میں قید ہیں لیکن انہی مقدمات میں ملوث پی ٹی آئی کے وہ رہنماء جو جیل میں قید تھے لیکن جب انہوں نے پریس کانفرنس کرکے تحریک انصاف اور عمران خان سے لاتعلقی کا اعلان کیا تو انہیں رہا کردیا گیا، کتنے اخبارات نے جرات کرکے کھل کراداریئے لکھے جب یہ لوگ بھی مقدمات میں ملوث ہیں توپھر عمران خان سے علیحدگی کااعلان آرام سے اپنے گھرکیسے چلے گئے؟ کتنے ٹی وی چینلز نے اس اہم نکتہ پر کھل کراظہارخیال کیا؟
18، اگست2026ء کو سپریم کورٹ کی جانب سے حکمنامہ جاری کیا گیا کہ عمران خان صاحب کو دوروز کے اندراندر شفاانٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیاجائے اورمیڈیکل بورڈ تشکیل دیکر ان کامکمل طبی معائنہ کرایا جائے۔ عدالت عظمیٰ کے اس حکم کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ حکومت ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فی صلے پر عملدرآمد نہ کرے لیکن سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود موجودہ حکومت، عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے گئی اورایک گھنٹے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔ ملک کی آخری امید عدالت عظمیٰ ہوتی ہے، موجودہ حکومت نے عدالت عظمیٰ کافیصلہ نہیں مانا لیکن اس حکومتی عمل کے خلاف ٹی وی چینلز کے کسی بھی تجزیئے میں یہ نہیں کہا گیا کہ عدالتی حکم عدولی پر موجو دہ حکومت کو فی الفور برطرف کردینا چاہیے اور وزیراعظم سمیت پوری وفاقی کابینہ کو توہین عدالت کے جرم میں گرفتارکیا جانا چاہیے۔
تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر2026ء کو لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا لیکن پھر لانگ مارچ ملتوی کردیا گیااوراب 4، اکتوبر2026ء کو لانگ مارچ کرنے کااعلان کیا گیا ہے اور اس دوران پی ٹی آئی کے رہنماؤں اورحکومتی ارکان میں مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔کہا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کے متعدل مزاج رکھنے والوں کے ذریعے مذاکرات کیے جارہے ہیں اورمعتدل مزاج رکھنے والوں کی کوئی ریڈ لائن نہیں ہوتی بلکہ ایسا مزاج رکھنے والا چاہتا ہے کہ کسی بھی طریقے سے مذاکرات کامیاب ہوجائیں اورہم وہی فیصلہ کریں جو حکومت چاہتی ہے اور اس طرح ہم لانگ مارچ ایک مرتبہ پھر ملتوی کردیں۔
عمران خان صاحب کے بنیادی نکات یہی ہیں کہ ہمیں ہرطرح سے آزادی چاہیے تاکہ ہم اپنے فیصلے خود کرسکیں اور کوئی ہمیں ڈکٹیشن دینے والا نہ ہو۔ میں پی ٹی آئی کے لوگوں سے سوال کرتا ہوں کہ عمران خان کو جیل میں قید ہوئے تین سال ہوچکے ہیں لیکن انکے چاہنے والوں نے ابھی تک احتجاجی سیاست کیوں نہیں کی؟ PTI کے رہنما کیوں کہتے ہیں کہ ہمیں احتجاجی سیاست کے بجائے مذاکرات کرنے چاہئیں؟ کیا دنیا کے بڑے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہوئے ہیں؟جہاں عوامی حکومتوں کی آواز کو بندوق کے ذریعے دبایاجاتا ہو، عدالتوں کے فیصلوں کے پرخچے اڑائے جاتے ہوں اس ملک میں باربار مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلا؟ کیا سپریم کورٹ اوراسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کیا گیا؟ پھربھی مذاکرات، مذاکرات کا کھیل کھیلا جارہا ہے، اگرمذاکرات دنیا میں ہرمسئلہ کاحل ہوتے تو پھر دنیا میں کہیں بھی جنگیں نہیں ہوتیں۔
میں اپنی فلاسفی حقیقت پسندی(Realism) اورعملیت پسندی (Practical ism)کے مطابق بات کرتا ہوں۔دنیا میں مختلف نظاموں کیلئے کیپٹل ازم، سوشل ازم، کمیونزم اور ڈیموکریسی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔اگرچہ جمہوریت بڑااچھانظام ہے اور دنیامیں غیرمسلم جمہوری ممالک بالخصوص یورپی ممالک میں عملاً جمہوری نظام رائج ہے لیکن کیا کسی غیرمسلم جمہوری ملک نے اسرائیل کی جارحانہ کاررائیوں کے خلاف ٹھوس اورعملی قدم اٹھایا جس سے اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھا جاسکے؟ فرانس، جرمنی، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، سوئیڈن اورناروے سمیت کس ملک نے کہاکہ ہم اسرائیلی جارحیت کے خلاف ہیں اوراسے طاقت کے ذریعے جارحیت سے روکیں گے؟ دنیامیں صرف مذاکرات سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مسائل کے حل اورمقصد کے حصول کے لئے میدان عمل میں آکرعملی اقدامات بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ دنیامیں یہی ہوتا آیا ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر478 سے خطاب
2، اکتوبر2026ء