حکومت نے مذاکرات کاڈرامہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے ٹیمپوکوتوڑنے کے لئے رچایا
تحریک انصاف اورحکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیرختم ہونے پر میرایہی کہنا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کا ڈرامہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے ٹیمپوکوتوڑنے کے لئے رچایا تھا۔ اگرپی ٹی آئی کے رہنما عمران خان اور تحریک انصاف سے واقعتا مخلص ہوتے اورانہیں کارکنوں کے جذبات کااحسا س ہوتاتووہ کسی بھی صورت فارم 47 کے تحت قائم ہونے والی موجودہ حکومت سے ہرگزمذاکرات نہیں کرتے۔ حکومت نے مذاکرات کادھوکہ دیاہی اسی لئے تھاکہ 4 اکتوبر کوپی ٹی آئی کی جانب سے جولانگ مارچ شروع ہونے جارہاتھا اوراس کے کارکنان جوتیاریاں کر رہے تھے، انہیں سبوتاژ کردیاجائے۔
مجھے حیرت ہے کہ فارم 47کی حکومت سے مذاکرت کرنے والی تحریک انصاف کی ٹیم میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے 9مئی کے بعد جیل سے رہائی کے بعد باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے عمران خان اور تحریک انصاف سے لاتعلقی اختیار کرنے کااعلان کردیاتھا۔
پی ٹی آئی کے رہنماکمپرومائز ہوچکے ہیں، وہ جراتمندانہ فیصلے کرنے سے گریزاں ہیں، وہ تین سال سے عدالت عدالت کھیلتے رہے، پی ٹی آئی کے کارکنوں کوجھوٹی تسلیاں دیکر انہیں بے وقوف بناتے رہے، بہت مشکل سے 27ستمبر سے لانگ مارچ شروع کرنے کااعلان کیاگیامگر 27 ستمبر سے تین روز قبل اسے مؤخرکردیا گیالیکن پریس کانفرنس کرکے کارکنوں اورعوام کواس حوالے سے آگاہ نہیں کیاگیا۔4 اکتوبرکو لانگ مارچ کااعلان کیاگیاتواس سے دوروزقبل حکومت سے مذاکرات شروع کردیے۔ انہوں نے ایسی حکومت کی مذاکرات کی دعوت کوکیوں قبول کیاجس نے ہمیشہ دھوکہ دیا، جس نے سپریم کورٹ کے عمران خان کوالشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے واضح احکامات پر عمل نہیں کیا، لہٰذاجوحکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں کواپنے پیروں تلے روند ڈالے وہ کسی سیاسی جماعت سے کسی معاہدے پر کیسے عمل کرسکتی ہے۔
میں تحریک انصاف کے سچے کارکنوں اورعمران خان کے چاہنے والوں سے یہی کہوں گاکہ اگروہ عمران خان کوزندہ سلامت دیکھناچاہتے ہیں اورانہیں جیل سے باہر نکالناچاہتے ہیں تو انہیں خودفیصلے کرنے ہوں گے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر480 ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب
3 اکتوبر 2026ء