Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

صوبہ KPK میں گورنر راج یاایمرجنسی کانفاذ اور یمن میں پاکستانی فوج کو سعودی عرب بھیجنے کے اقدامات خاکم بدہن سانحہ مشرقی پاکستان جیسے ایک اور سانحے کو جنم دینے کاسبب بن سکتے ہیں، الطاف حسین


 صوبہ KPK میں گورنر راج یاایمرجنسی کانفاذ اور یمن میں پاکستانی فوج کو سعودی عرب بھیجنے کے اقدامات خاکم بدہن سانحہ مشرقی پاکستان جیسے ایک اور سانحے کو جنم دینے کاسبب بن سکتے ہیں، الطاف حسین
 Posted on: 10/10/2026

صوبہ KPK میں گورنر راج یاایمرجنسی کانفاذ اور یمن میں پاکستانی فوج کو سعودی عرب بھیجنے کے اقدامات خاکم بدہن سانحہ مشرقی پاکستان جیسے ایک اور سانحے کو جنم دینے کاسبب بن سکتے ہیں، الطاف حسین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کہنےکوایک آزاداورخودمختارملک ہےلیکن اگردیکھا جائے تو پاکستان نےامریکہ، یورپ اوربرطانیہ کے مفادات کیلئےکردارادا کیاہے، پاکستان کی فوج نے قیام پاکستان کے بعد سے آج تک جو کردار ادا کیاہے وہ ایک آزاد وخودمختار ملک کی افواج کےبجائے ایک غلام ملک کی فوج کی حیثیت سے کیاہے اورہمیشہ طاقتورممالک کے مفادات کیلئے کرائے کی فوج کاکردارادا کیاہے۔   فلسطینی آبادیوں پر اسرائیلی افواج کےحملوں میں فلسطینی بہت بڑی تعداد میں شہید وزخمی ہوئے اور زندہ بچ جانے والے فلسطینیوں نے اسرائیلی حملوں سے بچنے کیلئے ہجرت کی اور اردگرد کے ممالک میں پناہ گزیں ہوئے، کچھ مصر، شام اور اردن چلے گئے جہاں انہیں پناہ گزینوں کے کیمپوں میں رکھاگیا تھا، تقریباً ایک لاکھ سے زائد فلسطینی اردن میں قائم کیمپوں میں رہ رہے تھے اورایک بڑے  کیمپ میں چالیس سے پچاس ہزار فلسطینی مقیم تھے۔  1970ء میں بین الاقوامی قوتوں کی جانب سے اردن کی سلطنت کو حکم نامہ ملا کہ اپنے ہاں سے فلسطینی عوام کو نکالو کیونکہ فلسطینی عوام قابض اسرائیلی فوج کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں اوران پر پتھراؤ کرتے ہیں۔ اردن کی فوج نے امریکہ سے درخواست کی کہ ہمارے پاس اتنی فورسز نہیں ہے اورہمیں فلسطینیوں کی بیدخلی کیلئے بڑی تعداد میں فوج درکارہے، اس درخواست پر امریکہ نے پاکستان کوحکم دیاکہ پناہ گزینوں کے کیمپ سے فلسطینیوں کو نکالنے کیلئے اردن کی فوج کی مدد کریں۔  امریکہ کے حکم پر پاکستان نے فلسطینی پناہ گزینوں کواردن کے کیمپوں سے نکالنے کیلئے جنرل ضیاء الحق (جواس وقت بریگیڈئیرتھے)کی سربراہی میں دوڈویژن فوج کواردن بھیجاتھا، پاکستانی فوج نے فلسطینیوں کے کیمپ کا گھیراؤکرکے اندھا 2/2دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 10 ہزارسے زائد فلسطینی بزرگ، خواتین، نوجوان اوربچے بچیاں شہید ہوگئے جبکہ فلسطینی تنظیمیں شہداء کی تعداد اس سے زیادہ بتاتی ہیں۔ اردن میں فلسطینیوں کے اس قتل عام کو”بلیک ستمبر“ کے نام سے یاد کیاجاتاہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستانی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کا قتل عام ستمبر1970ء میں کیاجاتا ہے اور اس قتل وغارتگری کانتیجہ یہ نکلا کہ دسمبر1971ء میں ایک لاکھ پاکستانی فوج کو بھارتی فوج  کے آگے ہتھیارڈالنے پڑے اور پاکستان دولخت ہوگیا۔  1979ء میں امریکہ اورروس کے درمیان سردجنگ جاری تھی،1979ء میں افغانستان کی اُس وقت کی روس نواز حکومت کی درخواست پرروسی افواج افغانستان آجاتی ہے۔امریکہ نے روس کوافغانستان سے نکالنے کے لئے مذہب کاہتھیاراستعمال کیا، پاکستان کی فوج کو جہادکے نام پر شہریوں کوروس کے خلاف لڑنے کے لئے تیار کرنے کاحکم دیا۔ پاکستانی فوج امریکی مفادات کیلئے روس کے خلاف جہادی دستے تیارکرتی ہے اور اس کامرکز صوبہ خیبرپختونخوا کو بناتی ہے، جہاں جنگی تربیت کے مراکزقائم کئے جاتے ہیں، پاکستان بھر میں تیزی سے جہادی مدرسے کھلنا شروع ہوجاتے ہیں، افغانستان کے نوجوانوں کو بھی روس کے خلاف جہاد کے نام پرلڑنے کے لئے ٹریننگ کے لئے افغانستان بھیجا گیا۔ تحریک طالبان پاکستان بنائی جاتی ہے۔ امریکہ 20 سال افغانستان میں رہنے کے بعد واپس چلاجاتا ہے لیکن اس کاخمیازہ افغانستان اورپاکستان کے عوام کوبھگتنا پڑا،ملک میں دہشت گردی کابازارگرم ہوگیا، جن طالبان کوپاکستان کی فوج نے بنایاانہی طالبان کے خلاف فوج نے خیبرپختونخوا میں 30 سے زائد آپریشن کیے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں کئے گئے فوجی آپریشن اورڈرون حملوں میں ایک لاکھ سے زائد پشتون عوام مارے گئے،آج بھی فوجی آپریشن کیاجارہاہے۔ہم امریکی مفادات کے تحفظ میں روس کی جنگ میں شامل ہوکرآج تک اس جنگ سے نکل نہیں پائے ہیں، 30 فوجی آپریشن کے باوجود طالبان کو ختم نہیں کرسکے اوراب پاکستان نے سعودی عرب میں یمنی حوثیوں کے خلاف اپنی فوج بھیج چکاہے اور حوثیوں کے خلاف پاکستانی ائیرفورس کوبھی استعمال کیا جارہاہے۔  سعودی عرب،پاکستان اورترکیہ کے درمیان ”مکہ معاہدہ“ طے پاچکا ہے، اس معاہدے کے باوجود ترکیہ کی پارلیمنٹ نے فیصلہ کرکے ترکی کے صدرکوپابند کردیا ہے کہ ترکیہ کی فوج کو سعودی عرب نہیں بھیجاجائے گا لیکن پاکستان کی فوج کوسعودی عرب بھیج دیاگیا ہے اورمزیدافواج کوبھی بھیجاجارہاہے۔ ہم نے غیرملکی طاقتوں کے مفادات کے لئے پہلے اردن میں فلسطینیوں کے خلاف اپنی فوج کو بھیجا،پھرعالمی طاقتوں کے مفاد کی جنگ میں افغانستان میں اپنی فوج اورشہریوں کوجھونکا اوراب یمن کے خلاف جنگ کے لئے اپنی فوج سعودی عرب بھیج رہے ہیں۔ خدا کیلئے پاکستان کی فوج کوکرائے کی فوج کے طورپر دوسرے ممالک بھیجنے کاسلسلہ بند کیاجائے۔ میں نے اپنے وی لاگ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے درخواست کی تھی کہ پاکستانی فوج کو یمن کے خلاف سعودی عرب نہ بھیجیں مگرمیں جلاوطن ہوں لہٰذا میری فریاد کون سنے گا۔  صوبہ خیبرپختونخوا کے عوام اورحکومت صوبے میں فوجی آپریشن کی مخالفت کررہی ہے اور ان کاکہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جوکرنا ہے وہ صوبے کی حکومت کرے گی،فوج یہاں سے چلی جائے۔ اس کے خلاف لانگ مارچ کیاجارہاہے جس پرصوبے کے عوام کے جائز مطالبات کو دبانے کیلئے مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کی حکومت خیبرپختونخوامیں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کی باتیں کررہی ہیں۔ جس طرح پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے 1971ء میں مشرقی پاکستان کوعلیحدہ کرنے کے لئے”اِدھرہم اُدھرتم“کی بات کی تھی اورآج بھٹو کا نواسہ بلاول زرداری دھمکی دیتے ہوئے کہہ رہاہے کہ اگرلانگ مارچ ختم نہ کیاگیا تو KPK میں گورنر راج لگ جائے گا۔  میرے یہ الفاظ نوٹ کرلیے جائیں کہ اگر KPK میں گورنر راج یاایمرجنسی کانفاذ کیاگیا اور یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑنے کے لئے پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجی گئی تو یہ اقدامات خاکم بدہن سانحہ مشرقی پاکستان جیسے ایک اور سانحے کو جنم دینے کاسبب بن سکتے ہیں۔لہٰذا میراکہنایہ ہے کہ نہ یمن میں فوج بھیجی جائے اور نہ KPK میں گورنر راج یاایمرجنسی نافذ کی جائے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی بین الاقوامی صورتحال اورملکی حالات کے پیش نظر ملک وقوم کو مستحکم رکھنے کیلئے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو رہا کیاجائے اور فوری طورپر گول میز کانفرنس منعقد کی جائے جس میں عمران خان اوران کے نمائندوں کو بھی شامل کیاجائے، کانفرنس میں اصل ایم کیوایم کے نمائندگان جن کے ناموں کی منظوری الطاف حسین دے،انہیں بھی کانفرنس میں مدعوکیاجائے اورملک میں عوامی مینڈیٹ رکھنے والی تمام جماعتوں کو تسلیم کیاجائے، عوام کی مستردکردہ جماعتوں کی پشت پناہی بند کی جائے۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 482 ویں فکری نشست سے خطاب  9، اکتوبر2026ء

10/11/2026 5:50:36 PM