Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

صوبوں کی بات پر دریائے سندھ کومہاجروں کے خون سے سرخ کرنے کی دھمکیاں دینے والے اپنی دھمکیاں اپنے پاس رکھیں


 صوبوں کی بات پر دریائے سندھ کومہاجروں کے خون سے سرخ کرنے کی دھمکیاں دینے والے اپنی دھمکیاں اپنے پاس رکھیں
 Posted on: 8/9/2026 1

صوبوں کی بات پر دریائے سندھ کومہاجروں کے خون سے سرخ کرنے کی دھمکیاں دینے والے اپنی دھمکیاں اپنے پاس رکھیں 
یہ نہ سمجھیں کہ الطاف حسین بوڑھاہوگیا ہے تومہاجروں کا کوئی والی وارث نہیں ہے
مہاجر دھمکیوں میں آنے والے نہیں،اگرانہیں اپنی بقاء کے لئے لڑنابھی پڑاتووہ اس کے لئے بھی تیارہیں 
 اگر مہاجروں سندھ سے نکالاگیا اورریورس سائیکل چلائی جائے گی توپھرسبھی کچھ ریورس ہوجائے گا۔ 

جن مہاجروں کی مادری زبان اردو تھی، جوقیام پاکستان کے 80سال کے بعدآج بھی اردواسپیکنگ یا مہاجر کی حیثیت سے ہی جانے پہچانے اوربلائے جاتے ہیں۔مہاجروں کی شناخت کوچاہے اعلانیہ تسلیم نہ کیاجائے لیکن سرکاری سطح پر اسی مہاجر شناخت کی بنیادپر ان کاگزشتہ 80 برسوں سے استحصال کیاجارہا ہے۔ان پراعلیٰ تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کے دروازے یاتوبندکردیئے گئے یاکم کردیے گئے،وہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں نہیں بیٹھ سکتے،اگربیٹھ جائیں توانہیں جان بوجھ کرفیل کردیاجاتاہے اوراگرامتحان میں امتیازی نمبروں سے کامیاب بھی ہوجائیں توانٹرویومیں ان کی شناخت اورباپ دادا کی جائے پیدائش پوچھی جاتی ہے اورپھریہ دیکھ کرکہ وہ مہاجرہیں توان کانام لسٹ سے کاٹ دیا جاتا ہے۔ 
بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح،ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح او رملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کے قتل کے بعد جنرل ایوب خان اورجنرل یحییٰ خان کے دورمیں مہاجروں کوسول سروسز سے نکالاگیا۔ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنے دورحکومت میں مہاجروں کے خلاف پالیسیاں بنائیں لسانی بل کی آڑ میں سندھ میں لسانی فسادات کرائے، اندرون سندھ سے مہاجروں کو دوسری بار اپناگھربارچھوڑکرہجرت کرنی پڑی،پہلے لاڑکانہ میں مہاجروں کی اکثریت تھی،لاڑکانہ کی بلدیہ کاچیئرمین مہاجرہوتاتھالیکن مہاجروں کووہاں سے نکالاگیا۔ بھٹو دورمیں کوٹہ سسٹم اوردیگرمتعصبانہ پالیسیوں کے ذریعے مہاجروں کااستحصال کیاگیا، مہاجروں کے ساتھ نفرت اورتعصب کایہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
 آج بھی کہاجاتاہے کہ مہاجرکچھ نہیں ہوتا،میں سوال کرتاہوں کہ جولوگ نہ سندھی ہیں، نہ بلوچ ہیں، نہ پشتون ہیں، نہ پنجابی ہیں، وہ آخر کیاہیں؟ ان کی شناخت کیاہوگی؟ قرآن مجید کی سورۃ ہجرات کے رکوع نمبر 2،آیت نمبر 13کی رو سے ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجروں کی شناخت کیا ہے؟ ان کی کوئی توشناخت ہوگی، پاکستان کے لوگ وہ شناخت ہمیں بتادیں ہم وہ شناخت تسلیم کرلیں گے۔ 
جولوگ مہاجرشناخت سے انکارکرتے ہیں میں ان سے پوچھتاہوں کہ قیام پاکستان کے وقت سندھ میں آباد جو ہندوسندھی انڈیاہجرت کرگئے تھے،کیاانڈیاپہنچ کران کی سندھی شناخت ختم ہوگئی؟ کیاوہ آج  بھی اپنے آپ کوسندھی نہیں کہلاتے؟ اسی طرح جوپنجابی سکھ انڈیاہجرت کرگئے،کیاوہاں ان کی پنجابی شناخت ختم ہوگئی؟ پھر80سال بعد بھی مہاجروں اوران کی اولادوں کی شناخت کیسے ختم ہوسکتی ہے؟ 
انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ قوموں کی شناخت کی تعریف کبھی بھی مستقل یا ایک جیسی نہیں رہی،قومیں کبھی اپنے قبیلوں اوران کے سرداروں کے ناموں سے پہچانی گئیں، کبھی بادشاہوں اورحکمرانوں کے ناموں سے اورکبھی نبیوں اورپیغمبروں کے ناموں سے پکاری گئیں۔ قوموں کی تعریف کبھی ایک جیسی اورمستقل نہیں رہی۔
بعض لوگ مہاجروں کوپناہ گیر یاپناہ گزین کہتے ہیں جوسراسرغلط ہے۔ پناہ گزین اورمہاجرمیں زمین اور آسمان کا فرق ہوتاہے، اپنے شہر یاملک میں جنگ وجدل، زمینی یاقدرتی آفات کی وجہ سے وقتی طور پر کہیں پناہ لینے والوں کوپناہ گزین کہتے ہیں جبکہ اپنے وطن کوچھوڑکرکسی علاقے میں مستقل طورپر ہجرت کرجانے والوں کومہاجرکہاجاتاہے۔ مہاجروں کی شناخت ہجرت ہے، اگرکوئی مہاجروں سے نفرت وتعصب کی بنیادپر یہ کہتاہے کہ مہاجروں کوسندھ سے نکال دیاجائے، انہیں ہندوستان واپس بھیجا جائے تویہ یادرکھاجائے کہ مہاجروں نے لازوال جانی ومالی قربانیاں دیکریہ وطن بنایاتھا، اگربانیان پاکستان کی اولادوں کوواپس بھیجاجائے گااورریورس سائیکل چلائی جائے گی توپھرسبھی کچھ ریورس ہوجائے گا۔ 
میں پھرکہتاہوں کہ آج بھی جولوگ صوبوں اورانتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر مہاجروں کودھمکیاں اورگالیاں دے رہے ہیں، دریائے سندھ کومہاجروں کے خون سے سرخ کرنے کی دھمکی آمیزباتیں کررہے ہیں میں ان سے کہتاہوں کہ وہ یہ دھمکیاں اٹھاکراپنے پاس رکھیں اور یہ نہ سمجھیں کہ الطاف حسین بوڑھاہوگیا ہے تومہاجروں کا کوئی والی وارث نہیں ہے، یادرکھیں کہ مسلسل ظلم اورناانصافیوں کی وجہ سے مہاجرقوم کاہرنوجوان، بزرگ، مائیں،بہنیں،بچہ بچہ باشعورہوچکاہے،وہ تیتربٹیرنہیں جیتے جاگتے انسان ہیں،پوری مہاجر قوم اپنے حقوق اوربقاء کاشعوررکھتی ہے، وہ ان دھمکیوں میں آنے والی نہیں ہے اوراگرانہیں اپنی بقاء کے لئے لڑنابھی پڑاتووہ اس کے لئے بھی تیارہیں۔ اگر کوئی لکیرکھینچی گئی تواس کے ایک طرف وہ ہوں گے جودھمکیاں دے رہے ہیں اوردوسری طرف وہ ہوں گے جنہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں، ہماری کشتیاں جل چکی ہیں،اب ہمیں یہیں مرناہے اوریہیں جیناہے،اب یہی ہماراوطن ہے، اس وطن سے ہمیں کوئی نہیں نکال سکتا۔اگرکسی کونئے صوبوں اورانتظامی یونٹس بنانے کی تجویزپر کوئی اعتراض ہے تووہ ان سے اعتراض کریں جوصوبے اورانتظامی یونٹس بنارہے ہیں، مہاجروں کوگالیاں اور دھمکیاں نہ دیں، نفرتیں نہ پھیلائیں۔میں سندھ میں آبادمہاجروں سے بھی کہناچاہتاہوں کہ انہیں سوچناچاہیے کہ وہ عزت سے جیناچاہتے ہیں یاغلاموں کی طرح زندگی گزارناچاہتے ہیں۔ 
میں سندھ کے مظلوم سندھی عوام سے کہتاہوں کہ پیپلزپارٹی کے متعصب اورقوم پرست عناصر سندھ میں دوبارہ سے سندھی مہاجرلڑائی چاہتے ہیں، ہم لڑائی نہیں چاہتے، ہم سندھ میں رہتے ہیں، یہیں رہتے،  یہیں کماتے اوریہیں خرچ کرتے ہیں۔الطاف حسین کسی سے نفرت نہیں کرتا، وہ صرف مہاجروں کے حقوق ہی بات نہیں کرتابلکہ غریب سندھی ہاریوں کوبھی وڈیروں کے ظلم سے نجات دلاناچاہتاہے۔
میں باشعوراورامن پسند سندھیوں اورمہاجروں سے اپیل کرتاہوں کہ پیپلزپارٹی انہیں لڑانے کی جوسازشیں کررہی ہیں،اسے ملکر ناکام بنائیں۔ 

 الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر 444  ویں فکری نشست سے خطاب
8  اگست 2026ء


8/9/2026 5:40:34 PM