Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

19 جون 1992ء کادن ایم کیوایم کے لئے یوم سیاہ ہے……الطاف حسین


19 جون 1992ء کادن ایم کیوایم کے لئے یوم سیاہ ہے……الطاف حسین
 Posted on: 6/19/2026

19 جون 1992ء کادن ایم کیوایم کے لئے یوم سیاہ ہے……الطاف حسین 
 ایم کیوایم کی تباہی و بربادی میں جہاں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے وہیں وہ لوگ بھی ذمہ دار ہیں جو اپنے مفاد کے لئے تحریک سے غداری کرکے جاتے رہے
19جون 1992ء کے آپریشن کے 34ویں سال پر خطاب

19 جون 1992ء کادن ایم کیوایم کے لئے یوم سیاہ ہے، بدقسمتی سے پاکستان کے عوام کواس بارے میں حقائق معلوم نہیں کہ اس روز کیاہواتھا، ملک کی تیسری اورسندھ کی دوسری سب سے بڑی جماعت کو صفحہ ہستی سے مٹانے اورمہاجروں کو کچلنے کے لئے کیا کیامظالم ڈھائے گئے تھے۔ 
میں سوال کرتاہوں کہ ایم کیوایم کے خلاف 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کیوں کیاگیا؟ ایم کیوایم کاجرم کیاتھا؟ الطاف حسین اوراس کے ساتھیوں کاگناہ کیاتھا؟
19جون 1992ء کے فوجی آپریشن کوآج 34سال گزرگئے، ایم کیوایم پر جناح پورکی سازش اوراسی طرح کے بے شمار جھوٹے الزامات کے ہم جوابات دیتے رہے،آپریشن کرنے والی فوجی شخصیات بھی میڈیاپر آکران الزامات کوڈرامہ اورجھوٹ تسلیم کرتی رہیں لیکن اس کے باوجود ایم کیوایم اورمہاجروں سے نفرت کرنے والے شاؤنسٹ عناصر آج بھی ٹی وی چینلزاورسوشل میڈیاپر بیٹھ کر اپنے تبصروں، تجزیوں اوروڈیولاگزمیں انہی الزامات کودہراتے ہیں۔بعض بے غیرت اوربے ضمیرشاؤنسٹ صحافی اوراینکرزآج بھی یہ کہتے ہیں کہ ایم کیوایم کوجنرل ضیاء الحق نے بنایا۔یہ کیسے صحافی ہیں، کیاانہیں نہیں معلوم کہ 14 اگست 1979کو جنرل ضیاء الحق کے مارشل لادورمیں بنگلہ دیش میں محصورپاکستانیوں کی وطن واپسی کے لئے پرامن احتجاجی مظاہر ہ کرنے کی پاداش میں فوج نے الطاف حسین کوگرفتارکیا اور سمری ملٹری کورٹ سے پانچ کوڑوں اور9ماہ قیدکی سزادی؟ فوج نے 31اکتوبر1986ء کوایم کیوایم کے جلوسوں پر حملوں کے دوسرے روزالطاف حسین کوگرفتارکرکے لاپتہ کیا، تشدد کا نشانہ بنایا، کئی ماہ تک قیدمیں رکھااورمقدمات بنائے؟ 1987ء میں جب الطاف حسین کوتیسری مرتبہ گرفتارکیا گیا اورقید میں اس کے قتل کی سازش کی گئی، اس وقت کس کادور تھا؟ اگرایم کیوایم کوجنرل ضیاء الحق نے بنایاہوتاتو کیا جنرل ضیاء الحق کے دورمیں ایم کیوایم کے خلاف باربارآپریشن کئے جاتے؟ الطاف حسین کوتین مر تبہ گرفتارکیاجاتا؟ 
الطاف حسین کاجرم یہ ہے کہ اس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب، متوسط طبقہ اورنچلے طبقہ کے گمنام نوجوانوں کوملک کی اسمبلیوں میں بھیج کر اسٹیٹس کوکوچیلنج کیا، الطاف حسین نے فرسودہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کوللکارا، اس نے فوج اورآئی ایس آئی کی سیاست میں مداخلت کے خلاف آواز بلند کی،الطاف حسین ملک کاوہ واحد لیڈرہے جس نے اپنے مشن ومقصد اورکاز کاسودا کرنے اورملک میں جاری کرپٹ سسٹم کاحصہ بننے سے انکارکیا جس کی پاداش میں فوج کی جانب سے الطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم کو باربار سزاد ی گئی،الطا ف حسین کو جلاوطن ہونے پرمجبورکیاگیا۔ اس کے خلاف پی ٹی وی اوراخبارات کے ذریعے برسوں تک زہریلا پروپیگنڈہ کیا گیا، الطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم کو ملک دشمن اوردہشت گرد بنا کرپیش کیا گیا، اس طرح پنجاب، خیبرپختونخواہ اورملک اوربیرون ملک پاکستانیوں کوالطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم سے متنفر کیا گیا۔
 میں سوال کرتاہوں کہ الطاف حسین کاقصور کیاتھاکہ اسے آج تک گالیاں دی جاتی ہیں اوراس پر الزامات لگائے جاتے ہیں؟میں الزامات لگانے والوں سے کہتاہوں کہ الطاف حسین کوایک طرف رکھ دیں، وہ بتائیں کہ عمران خان کاقصورکیاہے؟ اس کاگناہ کیاہے کہ اسے گرفتارکیاگیا، مقدمات بنائے گئے اوراس پر الزامات لگائے گئے؟ آج کون ساالزام ہے جوایم کیوایم پر لگایاگیا تھا وہ الزام تحریک انصاف اورعمران خان پر نہیں لگایاجارہا؟ کیا اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ اورPTI کو ملک دشمن،دہشت گرد جماعت قرارنہیں دیا گیا؟پی ٹی آئی کے لوگ اسٹیلشمنٹ کے ان الزامات کو غلط قراردیتے ہیں تووہ اسی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے الطاف حسین اور ایم کیوایم پر لگائے گئے ایسے ہی الزامات کودرست کیوں قراردیتے ہیں؟ پھر پی ٹی آئی کے لوگ ”یہ جودہشت گردی ہے …… اس کے پیچھے وردی ہے“ کے نعرے کیوں لگاتے ہیں؟ آج کشمیر کے عوام نے اپنے حقوق کے لئے احتجاج شروع کیا توانہیں بھی ملک دشمن اور انڈین ایجنٹ کیوں قرار دیا جارہاہے؟ 
کاش کہ جب فوج نے 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا، اس وقت پنجاب، خیبرپختونخوا، کشمیر،گلگت  بلتستان اورملک بھرکے عوام فوج کومقدس گائے سمجھنے اور اس کے الزامات پرآنکھ بند کرکے یقین کرنے کے بجائے حقائق کوسمجھتے اورایم کیوایم کے مؤقف کوتعصب کے بجائے حقائق کی عینک سے دیکھتے توان الزامات اورپروپیگنڈوں سے گمراہ نہ ہوتے۔ 
ملک بھر کے عوام کوایم کیوایم سے متنفرکرنے کے لئے ایم کیوایم کے خلاف جتنا پروپیگنڈہ کیاگیا اتناپاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں کیاگیا، اس پر طرح طرح کے الزامات لگائے،بے ضمیراورقلم فروش صحافی ٹی وی پر بیٹھ کر ان شرمناک اورجھوٹے الزامات کو لہک لہک کر،چہک چہک کراس طرح پیش کرتے کہ ہرسننے والا شخص اس کوصحیح سمجھے۔مگرایم کیوایم پر لگائے گئے یہ الزامات میشہ غلط اورجھوٹ ثابت ہوئے، ایم کیوایم پر بلدیہ فیکٹری کوآگ لگانے کابھی شرمناک الزام لگایا گیا تھا، اس کے کارکنوں کوگرفتارتک کیا گیا، کینگروکورٹ سے انہیں سزاتک دیدی گئی لیکن سپریم کورٹ سے ایم کیوایم کے کارکنان اس الزامات میں باعزت بری ہوئے، ثابت ہوا کہ ایم کیوایم پر یہ الزام غلط تھا۔
 فسطائی قوتوں کا یہ طریقہ واردات ہوتاہے کہ وہ اپنے حقوق کے حصول اورفرسودہ نظام کے خلاف پرامن اورجمہوری جدوجہد کرنے والی جماعتوں کوعوام میں بدنام کرنے اورعوام کومتنفر کرنے کے لئے اسی طرح کی پالیسی اختیارکرتی ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی اسٹیبلشمنٹ اورانٹرنیشنل قوتیں اسی پالیسی پر عمل کرتی ہیں۔ اس حوالے سے میں نے کئی برسوں پہلے ”اسٹیبلشمنٹ کی سہ جہتی حکمت عملی“ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی۔ تمام نوجوانوں، سیاسی کارکنوں خصوصاً سیاست کے طالبعلموں کویہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ 
ایم کیوایم کے خلا ف پروپیگنڈے توبہت کئے جاتے ہیں، اس پر جھوٹے، من گھڑت اوربے بنیاد الزامات توبہت لگائے جاتے ہیں لیکن خفیہ طاقتوں نے ایم کیوایم کی جدوجہد کوکمزورکرنے کے لئے کیا کیاسازشیں کیں اور مہاجروں کا کس کس طرح قتل عام کیا،اس کا کوئی زکرنہیں کرتا، ہم سوال کرتے ہیں کہ 31اکتوبر1986ء کو کراچی سے پکاقلعہ حیدرآبادمیں جلسہ عام میں شرکت کے لئے جانے والے ایم کیوایم کے قافلوں پرکراچی میں سہراب گوٹھ اورحیدرآباد میں مارکیٹ چوک کے مقامات پر حملے کس نے کرائے؟ 
 14دسمبر 1986ء کوکراچی کے علاقوں علی گڑھ اورقصبہ کالونی میں قتل عام کس نے کرایا؟
30ستمبر 1988ء کو قوم پرست عناصر کوجیلوں سے نکال کر حیدرآباد میں مہاجروں کاقتل عام کس نے کرایا؟ 
  26، 27 مئی 1990ء کے پکاقلعہ آپریشن کی آڑ میں حیدرآباد میں مہاجروں پر مظالم کے پیچھے کون تھا؟
1987ء میں جرائم پیشہ عناصر پر مشتمل پنجابی پختون اتحاد بنا کرکراچی میں مہاجربستیوں پر حملے کس نے کرائے؟ انہی حملوں اورمہاجروں کے قتل عام کے واقعات کی وجہ سے ہی الطاف حسین نے مہاجروں سے کہاتھاکہ ٹی وی،وی سی آر بیچواوراسلحہ خریدو، اپنی ماؤں بہنوں،بیٹیوں اوربچوں کی حفاظت کے لئے اسلحہ حاصل کرو۔ میری اس بات پر بہت اعتراض کیا گیا لیکن میں سمجھتاہوں کہ میں نے کوئی غلط بات نہیں کہی بلکہ لوگوں کووہی درس دیا جو اسلام، شریعت،ملک کاآئین اورقانون کہتاہے اورلوگوں کوسیلف ڈیفنس کاحق دیتاہے۔ میں نے یہ درس دیکرکوئی گناہ نہیں کیااوراگرکوئی اسے گناہ کہتا ہے توکہتارہے، میں یہ گناہ کرتارہوں گااورآج بھی لوگوں کویہی درس دوں گا کہ اپنی حفاظت کابندوبست خود کرو، لائسنس بنواؤ اورقانونی طورپراسلحہ رکھو،یہ آپ کاحق ہے۔ 
میں نے کئی دہائیوں پہلے اپنی فکری نشستوں میں متعدد باریہ کہاتھاکہ ایم کیوایم کودنیاکی کوئی قوت ختم نہیں کرسکتی، اگرایم کیوایم کبھی کمزور ہوئی،اسے کوئی نقصان پہنچاتو اندر سے ہی پہنچے گا۔میری بات درست ثابت ہوئی اورایم کیوایم کونقصان اندرسے ہی پہنچا، ایم کیوایم میں برسوں تک کام کرنے والے، بڑے بڑے عہدوں پر پہنچنے والوں نے اپنا سودا کیا، اپنا ضمیربیچا اورتحریک سے غداری کی۔ ایم کیوایم کی تباہی و بربادی میں جہاں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے وہیں ایم کیوایم کے وہ لوگ بھی اس کے ذمہ دار ہیں جنہوں نے ایم کیوایم کے نام سے بڑے بڑے منصب حاصل کئے، جو ایم این ایز، ایم پی ایز، منسٹر، سینیٹرز، گورنر، وزیر،مشیر،میئر، ناظم اورمختلف عہدوں پر فائز ہوئے، مگر اپنے مفاد کے لئے تحریک سے غداری کرکے جاتے رہے، شہیدوں کے لہو اوراپنے ظرف وضمیر کا سودا کرتے رہے اور دشمنوں کے ساتھ ملکر، تحریک کے خلاف برسرپیکارہوکرتحریک اورقوم کونقصان پہنچاتے رہے۔
آج 19جون1992ء کے آپریشن کے 34ویں سال پر میں اپنے وفاپرست ساتھیوں سے کہتا ہوں کہ تم اپنے نظریہ اوروفاپرقائم رہنا، تحریک کے لٹریچر کوپڑھ کر اسے یاد رکھنا، اسے دوسروں تک پہنچانا، تحریک کے مشن ومقصد کوکبھی فراموش نہ کرنا، اس کے لئے جدوجہد کرتے رہنا، اگرکبھی کسی الیکشن میں ووٹ دیناپڑے توحق پر ووٹ دینا، اپنے شہیدوں اور ان کی قربانیوں کونہ کبھی نہ بھولنا۔
میں دعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ 19جون 1992ء اوراس سے پہلے اوراس کے بعد شہید ہونے والوں کی قربانیوں کوقبول فرمائے، ہماری قوم پر رحم فرمائے اورکوئی ایساراستہ بنادے کہ ہماری قوم اورتمام مظلوموں کوغلامی کی ذلت آمیز زندگی سے نجات مل سکے،انہیں ان کے حقوق اور ایک باعزت زندگی میسرآسکے۔ 

الطاف حسین 
19جون 1992ء کے آپریشن کے 34ویں سال پر417ویں فکری نشست سے خطاب
19جون 2026ء 


6/21/2026 9:30:25 AM