اہل پنجاب سے دردمندانہ اپیل : خدارا بلوچستان کے کرب کومحسوس کریں، وفود بناکربلوچستان جائیں، بلوچوں کے آنسو پونچھیں۔الطاف حسین
اہل پنجاب وہ طرزِ عمل اختیار نہ کریں جوانہوں نے 1971ء میں سانحہ مشرقی پاکستان کے وقت اپنایا تھا
……………………………………………
جس طرح ایک خاندان کے افراد ایک دوسرے کے لئے فکرمند ہوتے ہیں اسی طرح ملک بھی ایک خاندان کی مانند ہوتا ہے جس میں آبادا کائیاں خاندان کے فردکی طرح ایک دوسرے کے درد اورتکلیف کااحساس کرتے ہیں او راس کے غم میں شریک ہوتے ہیں او راگرملک کے کسی صوبے کے کسی صوبے کے کسی شہرمیں کوئی قدرتی آفت یاسانحہ پیش آجائے تو ملک کے دوسرے صوبے کے شہری اس مصیبت میں متاثرہ صوبے یاشہر کے عوام کی مدد کرتے ہیں۔
پاکستان کے تمام صوبے اور اکائیاں بھی ایک خاندان کی طرح وفاق پاکستان کے خاندان کاحصہ ہیں جن کی مدد کرنا، ان کے دکھوں کااحساس کرناوفاق کی تمام اکائیوں کافرض ہے۔ آج جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں ایک آگ لگی ہوئی ہے، وہاں کے لوگ ریاستی مظالم کے خلاف سراپااحتجاج ہیں، بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے لکپاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی نے بلوچ خواتین کی گرفتاریوں اورلاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے دھرنا دیاہوا ہے لیکن ان کے مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے حکومت نے لانگ مارچ کوکوئٹہ کی طرف جانے سے روکنے کے لئے سڑک میں خندقیں کھود دی گئی ہیں، یہ ایک قابل مذمت اقدام ہے ۔ دوسری طرف تمام الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیاپر بلوچستان نیشنل پارٹی کے لانگ مارچ اوردھرنے کی کوریج پرپابندی لگادی گئی ہے تاکہ ان کی آواز دوسرے صوبوں تک نہ پہنچے۔
میں آج پنجاب کے سیاسی ومذہبی رہنماؤں، صحافیوں، تجزیہ کاروں،شاعروں،ادیبوں،دانشوروں، قلم کاروں اورتمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے عوام سے سوال کرتاہوں کہ بلوچوں کی فریادوں کوسننے، ان سے ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرنے اوران کے زخموں پرمرہم رکھنے کے لئے پنجاب سے کتنے وفود بلوچستان گئے ؟ بلوچستان کے عوام نے دوسری قوموں اوردیگروفاقی اکائیوں کے لئے ہمیشہ نیک جذبات کااظہارکیا، وہ دوسرے صوبوں کے لئے نکلے، تحریک انصاف نے احتجاج کا اعلان کیاتوبلوچستان میں بھی مظاہرے ہوئے، وہاں کے عوام پر گولیاں چلائی گئیں،آج بلوچستان میں قیامت ڈھائی جارہی ہے ، وہ سراپااحتجاج ہیں،آج ان کے لئے پنجاب کیوں نہیں نکل رہاہے؟ کیا اہل ِ پنجاب کایہ طرز عمل ٹھیک ہے؟
میں پورے ملک خصوصاًاہل پنجاب سے دردمندی کے ساتھ اپیل کرتاہوں کہ وہ خدارابلوچستان کے کرب کومحسوس کریں، وفود بناکربلوچستان جائیں، بلوچوں کے آنسو پونچھیں اوراپنے عمل سے بلوچ عوام کوبتائیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اورریاست پاکستان کے خاندان کاحصہ ہیں۔
اہل پنجاب کوخیبرپختونخوا کے ان خاندانوں کے کرب کوبھی محسوس کریں جن کے بچوں کوگزشتہ دنوں ڈرون حملوں میں ماراگیا۔ اہل پنجاب وہ طرزِ عمل اختیار نہ کریں جوانہوں نے 1971ء میں سانحہ مشرقی پاکستان کے وقت اپنایا تھا۔
پنجا ب سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، تجزیہ نگاروں اوراینکرزسے بھی کہتاہوں کہ وہ بلوچستان میں ڈھائے جانے والے مظالم کوبیان کریں اوران پر صدائے احتجاج بلندکریں خواہ ان کی نوکری ہی کیوں نہ ختم ہوجائے،ملک کوبچانے کے لئے یہ بہت ہی معمولی قیمت ہے۔
میں پنجاب کے طلبہ وطالبات سے بھی کہتاہوں کہ وہ پاکستان بچانے کے لئے آگے آئیں،بلوچستان کے عوام سے اظہاریکجہتی کے لئے احتجاج کریں، جلوس نکالیں۔
میں نے مسلسل اپیلیں کررہاہوں اورآج ایک بار پھر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر، تمام کورکمانڈرزاورآپریشنل کمانڈرز سے دردمندانہ اپیل کرتاہوں کہ بلوچوں سے مذاکرات کریں، ان کے زخموں پر مرہم رکھیں، بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترمینگل سے مذاکرات کریں، ان کے جائزمطالبات کوتسلیم کریں، پختونوں سے مذاکرات کریں،پختونخوا میں ڈرون حملے بند کریں، امریکہ سے چند مخصوص افراد کوبلاکربات کرنے کے بجائے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے براہ راست مذاکرات کریں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 234 ویں فکری نشست سے خطاب
2 اپریل 2025ئ