ریاست ماں ہوتی ہے، کیا ریاست کارویہ اپنے بچوں کے ساتھ ماں جیسا ہے؟.الطا ف حسین
………………………………………
جن ممالک میں صحیح اورحقیقی جمہوریت ہوتی ہے وہاں اظہاررائے کی آزادی ہوتی ہے وہاں لوگ بلاخوف وخطراپنے جذبات اورخیالات کااظہار کرتے ہیں۔
ماں اپنے بچوں کی بھوک پیاس کاخیال رکھتی ہے اوراولاد کو دکھ تکلیف میں دیکھ کرتڑپ جاتی ہے ۔ ہمارے ہاں ریاست کوماں سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیاریاست کارویہ اورطرزعمل ایک ماں کی طرح ہے؟اگرریاست کے وفاقی یونٹس ریاست کی اولاد کی طرح ہیں توکیاان کے ساتھ ریاست کارویہ ماں کی طرح ہے ؟ آج ریاست کے ہرعلاقے میں لوگ چیخ وپکارکررہے ہیں، سندھ ہویا بلوچستان، پختونخوا ہویا پنجاب، کشمیرہویا گلگت بلتستان ، ہرجگہ لوگ احتجاج کررہے ہیں، کیا ریاست کا رویہ ان کے ساتھ ماں کی طرح ہے؟کیا لوگوں کے رونے پیٹنے پر ریاست ماں کی حیثیت سے بچوں کے آنسو پونچھ رہی ہے؟ گرفتاریوں کے دوران قوم کی بیٹیوں کے سروں سے چادریں کھینچی جارہی ہیں، ان کے دوپٹے نوچے جارہے ہیں، انہیں سڑکوں پر گھسیٹا جارہا ہے ، کیا ریاست نے قوم کی بیٹیوں کے سروں پر چادریں ڈالیں؟
میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے سوال کرتاہوں کہ آپ نے عمران خان کی رہائی کے لئے کئی احتجاج کئے ، جس پر آپ کے گھروں پر چھاپے مارکرچادرچادیواری کاتقدس پامال کیاگیا، والدین کے سامنے بچوں کو گرفتار کیا گیا،بیرون ملک احتجاج کرنے والوں اورسوشل میڈیاپر اظہاررائے کرنے والوں کے رشتہ داروںکوپاکستان میں انتقام اورجبر کانشانہ بنایا گیا، کیا ریاست کایہ طرزعمل ماں جیساہے؟
ماں تواپنے بچوں کی غلطیوں اوربھول چوک کومعاف کردیتی ہے ، لیکن یہ کیسی ماں ہے جوبچوں کی غلطیوں کومعاف کرنے کے بجائے انہیں رسواکررہی ہے، وہ عدت میں نکاح تک کاکیس بناکر عدالت میں لے آئی ؟
ایم کیوایم کے کارکنوں نے دریائے سندھ سے مزید نہریں نکالنے کے خلاف پرامن مظاہروں میں شرکت کی توکراچی اورحیدرآباد میں ہمارے کارکنوں کی گرفتاریاں کی جارہی ہیں اوراب تک درجنوں بے گناہ کارکنوں کوگرفتارکرکے جبری لاپتہ کردیاگیاہے، کیاہم ریاست کے بیٹے نہیں ہیں؟ کیا ہمارے ساتھ ریاست کارویہ وہ ہے جوایک ماں کااپنے بچوں کے ساتھ ہوتاہے؟
ہم کسی سے اس کاکچھ نہیں چھین رہے ہیں بلکہ اپناحق مانگ رہے ہیں۔ میری جدوجہد ملک کے مظلوم عوام کے حقوق کے لئے ہے، میں نے اپنی پوری زندگی مظلوم عوام کے حقو ق کے لئے گزاری ہے اور میں چاہتاہوں کہ ملک کے تمام محروم ومظلوم عوام کوان کے حقوق مل جائیں۔
میں پاکستان بھرکے عوام سے کہتاہوں کہ وہ ملک میں صحیح اورحقیقی جمہوریت کے قیام اوراپنے حقوق کے لئے میدان عمل میں آکرجدوجہدکریں۔
الطا ف حسین
ٹک ٹاک پر 240ویں فکری نشست سے خطاب
12 اپریل 2025ء