بدقسمتی سے پاکستان آزاد نہیں ہے بلکہ کرائے پرچل رہاہے، اس کاخرچہ، امریکہ، آئی ایم ایف، ورلڈبینک اورمغربی ممالک کی امداداورقرضوں پر چل رہاہے،ملک چلانے کے لئے ایک پیسہ اعلانیہ دیاجاتاہے اور دوسرا غیراعلانیہ اور انڈر ٹیبل دیاجاتاہے۔ عالمی سامراجی قوتیں جس طرح پہلے طاقتور اور بااثرتھیں،آج بھی ویسے ہی ہیں،وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے اپنے ممالک کے عوام کارخ جس طرح چاہیں موڑدیتے ہیں اور ہم ان سازشوں کاشکارہوجاتے ہیں جیسے ہندوستان کی تقسیم کے وقت ہندوستان کے عوام ان سازشوں کاشکارہوگئے۔
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کو راستے سے کیسے ہٹایا گیا؟
قائداعظم محمد علی جناح کوانگریزوں نے جھوٹ اورمکروفریب کے ذریعے اپنے جال میں پھنسایا اورپھر اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت ہندوستان میں ایسے حالات پید ا کردیے کہ ہندو اورمسلم تقسیم کی جاسکے۔ اس تقسیم کیلئے انہیں ہندوستان میں فسادات اورخون خرابے کی ضرورت تھی توپھرحالات کو قابو میں رکھنے کیلئے صلح جوئی اوربات چیت کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ہندوستان کی تقسیم کی سازش کی تکمیل کیلئے ایک طرف دوقومی نظریہ پیش کیاگیا کہ ہندواورمسلمان الگ الگ ہیں، اب ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔اسی سازش کے تحت ہندوستان میں ہندومسلم فسادات کرائے گئے اورلوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے کیلئے مسجد کے دروازے کے آگے سور اورمندرکے دروازے کے آگے گائے کاٹ کرڈال دی جاتی تاکہ مسلمانوں اورہندوؤں کے مذہبی جذبات کو بھڑکاکر انہیں مشتعل کیاجاسکے حالانکہ یہ عمل نہ مسلمان کیاکرتے تھے اورنہ ہی ہندو کیاکرتے تھے۔ قائداعظم کو فسادات اورکشت وخون کی تصاویر اورخبریں دکھائی جاتی تھیں جنہیں دیکھ کر قائداعظم محمد علی جناح انگریزوں کے اس مؤقف پر قائل ہوگئے کہ ہندو اورمسلم اب ایک ساتھ نہیں رہ سکتے لہٰذا ہندوستان کی تقسیم ناگزیر ہے۔
انگریزوں کو ہندوستان میں ایک ایسے خطے کی ضرورت تھی جو انگریزوں کے ہندوستان سے چلے جانے کے بعد بھی سلطنت برطانیہ کے مفادات کیلئے کام کرتارہے اور وہاں انگریزوں کے وفاداروں کاکنٹرول ہو۔
1914ء میں پہلی جنگ عظیم،1919ء میں سانحہ جلیانوالہ باغ اور1939ء میں دوسری جنگ عظیم میں موجودہ پاکستان کے صوبہ پنجاب اورخیبرپختونخوا کے لوگ برطانوی فوج میں شامل تھے اورسلطنت برطانیہ کے وفاداروں میں سرفہرست تھے، انگریزوں نے تقسیم ہند کاٹھیکہ انہی فوجیوں کو دیاتھاجبکہ قائداعظم کو انگریزوں نے محض ڈھال بناکررکھا تاکہ دنیا کو دکھایاجاسکے کہ قائداعظم مسلمانوں کے رہنما ہیں۔
ہندوستان کی تقسیم انگریزوں کے سازشی منصوبے کاحصہ تھا،انگریزوں نے ہی ہندوستان میں ہندواورمسلم کی تفریق پیدا کی اورانگریزوں نے ہی 1885ء میں آل انڈین نیشنل کانگریس اور1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ بنوائی تھی۔ جس کااحساس آل انڈین نیشنل کانگریس کے رہنماؤں کو نہیں تھا جبکہ مسلم لیگ کے رہنما ؤں کوہندوستان کی تقسیم کی سازش سے کوئی غرض نہیں تھی اوروہ انگریزوں سے وفاداری کاحلف اٹھاچکے تھے۔
متحدہ ہندوستان کے سب سے بڑے مبلغ کرم چند گاندھی ہندوستان کی تقسیم کے سخت خلاف تھے، انہوں نے ہندوستان کو متحد رکھنے کیلئے اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی اور ہندوستان کی تقسیم کیلئے انگریزوں کی کسی بھی دلیل کو ماننے کیلئے تیارنہیں تھے لہٰذا انگریز انہیں اپنی سازشوں کا شکارنہیں بناسکے۔ جب ہندوستان میں ہندومسلم فسادات اپنے عروج پر پہنچے تو ان فسادات کورکوانے کیلئے کرم چند گاندھی نے تادم مرگ بھوک ہڑتال کی اورمطالبہ کیاکہ ہندومسلم فسادات بند کیے جائیں۔ کرم چند گاندھی کی یہ سوچ دیکھ کرہی انگریزوں نے آل انڈین نیشنل کانگریس کی تشکیل کی اور اس کے پہلے بانی ایک انگریز ریٹائرڈ سول سرونٹ Allan Octavian تھے، کانگریس کے رہنماء یہ راز نہیں سمجھ سکے کہ آخر ایک برطانوی سول سرونٹ Allan Octavian کو کیاضرورت تھی کہ وہ ہندوستان کی آزادی کے لئے کوئی جماعت تشکیل دیں اورانگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک چلائیں۔
انگریزوں نے ہندوستان کی تقسیم کے منصوبے کے تحت ایک طرف قائداعظم محمدعلی جناح کو مسلمانوں کولیڈر اوردوسری طرف جواہر لال نہرو کوہندوؤں کا رہنما بنایا۔
انگریزوں کے منصوبے کے تحت ہندوستان تقسیم ہوگیا اورقائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے منصب پر فائز ہوئے۔لیکن قائداعظم محمدعلی جناح کوآزادی کے فوری بعد اندازہ ہوگیاتھاکہ تقسیم کے پیچھے اصل مقاصد کیاہیں۔ وہ ایک جمہوریت پسند تھے اورپاکستان کوایک حقیقی معنوں میں جمہوری ممالک بناناچاہتے تھے جہاں رہنے والے تمام شہریوں کومساوی حقوق میسرہوں اورفوج اور تمام ادارے اپنااپناکام کریں۔ 14جون 1948ء کوگورنرجنرل کی حیثیت سے کوئٹہ اسٹاف کالج میں فوج کے افسران سے خطاب کے دوران قائداعظم محمدعلی جناح نے واضح اوردوٹوک الفاظ میں کہاکہ ”فوج کاکام صرف سرحدوں کادفاع کرناہے، حکومتی معاملات سے فوج کاکوئی لینادینا نہیں ہے“۔ قائداعظم کے اس دوٹوک پالیسی اعلان سے انگریزوں اور جرنیلوں نے قائداعظم کواپنے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ سمجھا اورانہیں راستے سے ہٹانے اورکھڈے لائن لگانے کامنصوبہ بنایا۔ قائداعظم بیمار ہوئے تو کسی اچھے اسپتال میں علاج کرانے کے بجائے انہیں بلوچستان کے دودرازعلاقے زیارت بھیج دیاگیاجہاں دور دورتک کوئی اسپتال نہیں تھا۔ جہاں ان کی تیمارداری کے لئے ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کے علاوہ اورکوئی نہ تھا۔ کبھی کبھارڈاکٹران کامعائنہ کرنے کے لئے آجاتا۔ملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان ان سے ملاقات کیلئے آئے تو انہو ں نے قائداعظم کوبہت اداس اور متفکرپایا۔زیارت میں قائداعظم کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی توان کو علاج کے لئے کراچی لے جانے کے لئے فاطمہ جناح نے دارالحکومت کراچی میں رابطہ کیا۔ حکومت نے بڑی تگ ودو کے بعد جو ایمبولینس زیارت بھیجی وہ بھی پرانی اورکھٹارا تھی، زیارت سے کراچی جاتے ہوئے حب کے علاقے میں وہ ایمبولینس بند ہوگئی، اس میں پیٹرول بھی نہیں تھا، بروقت اسپتال نہ پہنچنے پر قائداعظم کراچی میں اسپتال پہنچنے سے قبل ہی انتقال کرگئے، یہ طبعی موت نہیں تھی بلکہ سازش کانتیجہ تھی۔
قائداعظم کے بعد ان کے دست راست اورملک کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان کو16 اکتوبر 1951ء کوراولپنڈی کے کمپنی باغ (موجودہ لیاقت باغ) میں ایک سازش کے تحت گولی مارکرقتل کردیاگیا۔ لیاقت علی خان کاقتل باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیاگیا، اس کے لئے سیداکبرنامی شخص کوذمہ داری دی گئی جس کوکئی دن تک قتل کے بارے میں ٹرینڈکیاگیا۔قتل کے لئے کمپنی باغ میں ایک جلسہ کاانعقاد کیاگیا، جس میں لیاقت علی خان کومدعو کیاگیا، جلسہ گاہ کے اسٹیج پر بھی ایک ہی کرسی رکھی گئی تھی، گولی مارنے والا سید اکبرنامی قاتل وزراء اورفوجی افسران کی پہلی صف میں بیٹھاتھا،جیسے ہی سیداکبرنے لیاقت علی خان کوگولی ماری،اس کے ساتھ بیٹھے پولیس افسران نے اسے گولی مارکر ہلاک کردیاتاکہ قتل کی سازش میں ملوث عناصر بے نقاب نہ ہوسکیں۔
سوال یہ ہے کہ قاتل کوپہلی صف میں کس نے بٹھایا؟ کیسے بٹھایاگیا؟
لیاقت علی خان کے قتل کے بعداسکندرمرزانے فوج کے جرنیل ایوب خان کے ساتھ ملکرملک پر کنٹرول حاصل کرلیا۔ 1951ء سے 1958ء تک ملک میں کئی وزرائے اعظم تبدیل کئے گئے اورفوج نے کسی بھی وزیراعظم کوچلنے نہیں دیاگیا۔27 اکتوبر1958ء کوآرمی چیف جنرل ایوب خان نے صدر اسکندرمرزاسے جبری استعفیٰ لے کرملک میں پہلامارشل لاء نافذ کردیا۔ جاگیرداروں اوراشرافیہ کے خاندانوں کوساتھ ملایاگیا۔ الطاف حسین نے پاکستان کی سیاست میں فوج کے جرنیلوں کی مداخلت اورجاگیردارانہ سسٹم کے خاتمے کامطالبہ کیاتو الطاف حسین کوغدارقراردیدیاگیا،ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیاگیا،الطا ف حسین کوجلاوطن ہونے پرمجبور کردیا گیا،نواز شریف نے جب فوج کی مداخلت کی بات کی توانہیں غدارقراردیاگیا، بینظیربھٹونے کہاتوانہیں بھی فوج مخالف اورغدارکہاگیا،جب عمران خان نے ملک کوبیرونی قوتوں اورکالے انگریزوں سے آزادی دلانے کی بات کی توان کی حکومت کاخاتمہ کردیاگیا، انہیں جھوٹے مقدمات میں گرفتارکرکے جیل میں ڈال دیاگیا،انہیں بھی غدارقرار دیدیا گیا۔
میں جین زی سے اپیل کرتاہوں کہ وہ ملک کی حقیقی آزادی کے لئے آگے آئیں،اب جین زی ہی ملک میں انقلاب برپاکرسکتے ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 451 ویں فکری نشست سے خطاب
17، اگست 2026ء