الطاف حسین کے علاوہ پاکستان کے کسی اور لیڈرکا نام بتائیں جومڈل کلاس گھرانے سے نکلا ہو اورملک کی تیسری بڑی پارٹی بنائی ہو۔
کوئی الطاف حسین جیسا ہو تو سامنے لائیں۔
الطاف حسین 40سال پہلے فوج کے کرپٹ جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت اورآئین وقانون کے خلاف اقدامات پر آوازاٹھاتا تھا تواس وقت پنجاب کے لوگوں نے الطاف حسین کی بات کونہیں سمجھا بلکہ اسے ملک دشمن ا ورفوج مخالف قراردیا گیا اورطرح طرح کے الزامات لگائے لیکن آج جب وہی باتیں کرنے پر عمران خان پرایسے ہی الزامات لگائے جارہے ہیں تو کہا جارہا ہے کہ یہ الزامات غلط ہیں۔ آخریہ کیا سوچ ہے کہ الطاف حسین پر لگائے گئے الزامات درست اورعمران خان پر وہی الزامات غلط ہیں؟
میں سوال کرتاہوں کہ الطاف حسین کے علاوہ پاکستان کے کسی اور لیڈرکا نام بتائیں جومڈل کلاس گھرانے سے نکلا ہو، اس نے ٹیوشن پڑھاپڑھا کر، اسٹال لگا کر اپنی تعلیم مکمل کی ہو، جس نے اتنی بڑی پارٹی بنائی ہو،محنت مزدوری کی ہو، فیکٹریوں میں کام کیا ہواورگلی گلی جاکررات دن کی محنت سے اپنی پارٹی کوپھیلایاہو، اسے ملک کی تیسری بڑی پارٹی بنایا ہو؟ الطاف حسین کے علاوہ کسی اوردوسرے لیڈر کا نام بتائیں کہ جس نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کوہی اسمبلیوں میں بھیجاہو،جونہ خود اسمبلی کاممبر بناہواور نہ اپنے بہن بھائیوں کواسمبلیوں میں بھیجا ہو؟نوازشریف اورآصف زرداری زندہ ہیں، ان سے پوچھ لیں کہ الطاف حسین نے کبھی اپنے لئے ایک گززمین یاکوئی پائی پیسہ لیا، کبھی اپنے یااپنے خاندان کے لئے کچھ مانگا؟ کوئی الطاف حسین جیساہو تو سامنے لائیں۔
الطاف حسین ملک میں رائج فرسودہ کرپٹ سسٹم کوبدلنے آیاتھا، اس نے ملک بھر میں اپنے پیغام پھیلایا، تمام قوموں کے لوگوں کوگلے سے لگایااورایم کیوایم کوپورے ملک میں پھیلانے کی کوششیں شروع کیں توفوج نے ایم کیوایم کے خلاف بھرپورآپریشن شروع کردیا جوآج تک جاری ہے۔
میں ایم کیوایم میں واحد تھا جو پارٹی کوپارلیمانی سیاست میں لے جانانہیں چاہتاتھا لیکن مرکزی کمیٹی کے اصرارپر پارلیمانی سیاست میں حصہ لینے کافیصلہ کیا، مجھے معلوم تھا کہ پاکستان کی پارلیمانی سیاست انتہائی گندی اوردلدل ہے، میں نے اپنی مرکزی کمیٹی کو سمجھایا تھا کہ تم جس کوبھی اسمبلیوں کے ایوانوں میں بھیجوگے،ان کوکھودو گے،کیونکہ پاکستان کے پارلیمانی ادارے گندے اوردلدل کے ادارے ہیں جو بظاہر صاف نظرآتے ہیں لیکن جو اس میں گیاوہ گند اوردلدل میں پھنس گیا، میں نے کسی کوصاف نہیں دیکھا۔اس میں میرے اپنے لوگ بھی شامل ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر473 ویں فکری نشست سے خطاب
26 ستمبر 2026ء