افغانستان ہمارا پڑوسی اسلامی ملک ہے، پاکستان کی جانب سے افغانستان پر حملے تشویشناک اورسمجھ سے بالاتر ہیں۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی جس میں صدرٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہیں افغانستان کا بگرام ایئربیس چاہیے۔اس کے بعد سے افغانستان سے لڑائی کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے اور پاکستان کی جانب سے افغانستان میں حملے کئے جارہے ہیں۔
افغانستان سےپاکستان کی کبھی جنگ نہیں تھی،جب 1979ءمیں افغانستان میں سوویت یونین کی آمد کے خلاف افغانیوں نے لڑائی شروع کی تو وہ پاکستان کی لڑائی نہیں تھی لیکن بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے اس لڑائی کوجہاد کانام دیاگیا اور اس کا مرکز افغانستان سے اٹھاکرپاکستان لے آیاگیا، روس کے خلاف افغان مجاہدین کوتیار کیاگیا،انہیں اسلحہ اورٹریننگ دی گئی، اس کے لئے پاکستان کے قبائلی علاقوں کوچنا گیا، پاکستان کے تمام شہروں میں جہادی مدرسے قائم کئےگئے، علمااورمفتیوں کی جانب سے افغان جہاد میں شرکت کے فتوے جاری کئے گئے،ملک بھرمیں مذہبی جماعتوں کی جانب سے کیمپ لگائے گئے اورلوگوں کوافغانستان میں جہاد میں شرکت کے لئے کھلی دعوت دی گئی، ان کے نام لکھے گئے اورافغان جہاد کے نام پر انہیں ٹریننگ دیکرسوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لئے افغانستان بھیجا گیا، اس مقصد کے لئے بوریوں میں بھر بھر کے ڈالر ملے۔حالانکہ وہ پاکستان کی جنگ نہیں تھی لیکن بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے پاکستان کو اس جنگ میں جھونک دیا گیا اورپاکستان کواس جنگ کا اڈہ بنادیا گیا۔آج پھرپاکستان کوبیرونی طاقتوں کے مفادات کی لڑائی کا اڈہ بنایا جارہا ہے اور افغانستان پر حملے کئے جارہے ہیں اورپاکستان کامیڈیا اس حوالے سے بڑی بڑی بریکنگ نیوز دے رہاہے۔
میں پاکستان کے حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ امریکہ اورمغربی طاقتوں نےبھی کئی برسوں تک افغانیوں سے لڑائی کی اورپھربالآخر انہیں وہاں سے نکلناپڑا۔ اب پاکستان کی جانب سے افغانستان سے لڑائی کی جارہی ہے۔ میں پاکستان کےحکمرانوں سے کہتا ہوں کہ افغانستان ہماراپڑوسی اسلامی ملک ہے، اس سے جنگ نہ کریں، اس پر حملے نہ کریں، بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے جنگیں نہ کریں۔آخر ہم کب تک غیروں کے مفادات کی لڑائی لڑتے رہیں گے اوراپنانقصان کرتے رہیں گے؟ خداکے لئے یورپ سے سبق حاصل کریں جنہوں نے برسوں تک جنگیں کیں، جن میں لاکھوں لوگ مارے گئے، بالآخر انہوں نے جنگیں ختم کیں، امن کے راستے پرچلے اور ایک دوسرے سے جنگ وجدل کے بجائے آپس میں بہترتعلقات قائم کئے۔ آپ بھی افغانستان سے جنگ وجدل کے بجائے بات چیت کرکے معاملات کوطے کریں اور بہتر تعلقات قائم کریں۔
ایک طرف تو افغان باشندوں کوپاکستان کے قبائلی علاقوں سے نکالاجارہاہے اور انہیں ٹرکوں میں بھربھر کے افغانستان واپس بھیجا جارہا ہے، انہیں وہاں رہنے تک کی اجازت نہیں ہے لیکن دوسری طرف وہ افغان باشندے جو کراچی میں بڑے بڑے کاروبار کررہے ہیں، جن کے عالیشان کاروبارہیں انہیں نہ صرف کراچی میں رہنے سہنے کی آزادی ہے بلکہ ہرطرح کاکاروبارکرنے کی کھلی اجازت ہے، میں حکومت اورفوج کے حکام کودعوت دیتاہوں کہ وہ خود کراچی کادورہ کرکے دیکھ لیں کہ وہاں بڑے بڑے کاروبار کون کررہاہے۔ یا توافغان باشندوں کوافغان جنگ ختم ہونے کے بعد ہی ان کے ملک واپس بھیج دیاجاتا لیکن اب جبکہ انہیں یہاں رہتے ہوئے 40سال ہوگئے ہیں توانہیں واپس بھیجاجارہا ہے۔
میں یہی سمجھتاہوں کہ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اس سے جنگ کسی بھی طرح درست نہیں لہٰذا میں پاکستان اور پاکستان سے باہررہنے وا لوں سے کہتاہوں کہ وہ افغانستان پر حملوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔اس وقت پاکستان کوامن و استحکام اوریکجہتی کی ضرورت ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 389 ویں فکری نشست سے خطاب
16 مارچ 2026ء