Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

وینزویلاپر حملے نےکسی بھی ملک کی آزادی اور خودمختاری کےاحترام کو مٹادیا ہے


وینزویلاپر حملے نےکسی بھی ملک کی آزادی اور خودمختاری کےاحترام کو مٹادیا ہے
 Posted on: 1/6/2026 1

وینزویلاپر حملے نےکسی بھی ملک کی آزادی اور خودمختاری کےاحترام کو مٹادیا ہے سیاسی وعسکری قیادت کو مل کرپاکستان کی بقاء وسلامتی کویقینی بنانا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وینزویلا پر امریکہ کے حملے اوراس کے صدرنکولس مادورو (Nicolás Maduro) اوران کی اہلیہ کےاغوا کاواقعہ نہ صرف ایک آزاد اورخودمختار ملک کی جغرافیائی خودمختاری کے احترام کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اورتمام بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔  اقوام جب وجود میں آئی تھی تواس کے چارٹر میں یہ لکھاہے کہ کوئی بھی ملک کسی بھی آزاد اورخودمختار ملک کی آزادی اور جغرافیائی خودمختاری پرکوئی حملہ نہیں کرے گابلکہ اس کااحترام کرے گالیکن 3جنوری 2026 ء کوامریکہ کی فوج کی جانب سے وینزویلا پرجو حملہ کیا گیاہے اورجس طرح وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اوران کی اہلیہ کواغواکرکے امریکہ لے جایاگیاہے وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ امریکہ کا یہ عمل تیسری جنگ عظیم کو دعوت دے رہا ہے۔ دنیا بھرمیں Colonial rule اورImperial rule ختم ہوچکا ہے اور وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا اغواء کے واقعہ پرآج پوری دنیاکے ممالک تشویش کااظہارکررہے ہیں اورامریکی حملے کووینزویلا کے خلاف کھلی جارحیت قراردے رہے ہیں، اس واقعہ پرنہ صرف وینزویلا بلکہ دنیابھر میں عوام سراپا احتجاج ہیں۔  اقوام متحدہ کی موجودگی میں ہونے والے اس واقعے نے اقوام متحدہ کے ادارے کےوجود پر ایک سوالیہ نشان کھڑاکردیاہے۔ اگر چہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس واقعہ پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اوردیگرممالک نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اس پراپنی سخت تشویش کااظہار کیاہے تاہم اگراقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل اس اقدام کے خلاف کوئی قراردادمنظوربھی کرلے توکیا امریکہ اس قرارداد کو ویٹونہیں کردے گا؟ اب دیکھنایہ ہے کہ اس پر اقوام متحدہ کیاکرتی ہے۔اس حملے نےکسی بھی ملک کی آزادی اور خودمختاری کےاحترام کو مٹادیا ہے۔ امریکہ کے حملے اوروینزویلاکے صدراوران کی بیوی کے اغوا کے اقدام نے چائنا،رشیااور دنیاکی دیگر طاقتوں کے ساتھ ساتھ مغرب، جنوبی ایشیا، سینٹرل ایشیا،افریقہ، وسط ایشیا،تمام خطوں کے ممالک کوایک راستہ دکھادیاہے کہ وہ اپنی طاقت کی بنیادپر اپنے کسی بھی پڑوسی ملک کے خلاف ایساہی کوئی اقدام کرسکتے ہیں اور اگرکوئی اورملک امریکہ جیسااقدام کرتاہے توکیاامریکہ یادنیا کے دیگر ممالک اس کو ناجائز قرار دے سکیں گے؟اگر امریکہ کے اس اقدام کوجواز بناکرکل چائنا، تائیوان کے خلا ف ایساہی کوئی اقدام کردے،یاروس یوکرین کے خلاف ایساہی کوئی اقدام کردے توکیادنیا اس کوناجائزقراردے گی؟ اس واقعہ سے پاکستان کی بقاء وسلامتی پر بھی خطرات منڈلارہے ہیں لہٰذا اس وقت کے تمام سیاستدانوں اور تمام طاقتور اداروں کو مل کرپاکستان کی بقاء وسلامتی کویقینی بنانا چاہیے، وقت کاتقاضا ہے کہ تمام سیاسی وعسکری قیادت کو ایک جگہ بٹھایاجائے اور پاکستان کی خودمختاری کولاحق خطرات سے نمٹنے کیلئے ٹھوس حکمت عملی بنائی جائے۔ میں پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت اورتمام ارباب اختیارسے کہوں گاکہ وہ موجودہ صورتحال کی روشنی میں سرجوڑکربیٹھیں اوراس بات کوضرورپیش نظررکھیں کہ کسی ایک ملک کی دوستی کی وجہ سے دیگر ملکوں سے دشمنی مول لینا کیا دانشمندانہ عمل ہوسکتا ہے؟میں ملک کی خاطراس حوالے سے اپناغیرمشروط تعاون پیش کرنے کے لئے تیار ہوں۔  الطاف حسین  ٹک ٹاک پر 374ویں فکری نشست سے خطاب 5، جنوری 2026ء

1/7/2026 3:53:14 PM