Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پورے کراچی میں چائناٹاؤن بنانے کے لئے کراچی میں بستیاں گرائی جارہی ہیں۔الطاف حسین


پورے کراچی میں چائناٹاؤن بنانے کے لئے کراچی میں بستیاں  گرائی جارہی ہیں۔الطاف حسین
 Posted on: 12/30/2021
پورے کراچی میں چائناٹاؤن بنانے کے لئے کراچی میں بستیاں
 گرائی جارہی ہیں۔الطاف حسین
یہ کراچی کوہانگ کانگ کی طرح پنجاب کی سیٹلائٹ اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں
 کراچی میں سب گھر گرائے جائیںگے۔ایک ایک کرکے تمام علاقوںکے ایک ایک گھر کانمبر آئے گا
جسٹس ثاقب نثاراور چیف جسٹس گلزاراحمددونوںظالم ہیں، جابر ہیں ، جابروںظالموںکے بادشاہ ہیں۔ان دونوں کاجرم اتنابڑاہے کہ انہیں سرعام پھانسی دیکران کی لاشوں کوکئی دن تک لٹکایاجائے 
 سپریم کورٹ کامعیاردہرا ہے، وہ کراچی کانسلہ ٹاورتومسمار کررہی ہے لیکن اس نے اسلام آباد کاغیرقانونی گرینڈ حیات ٹاور ریگولرائز کردیا
 کراچی میں شہریوںکے گھرتومسمار کئے جارہے ہیں مگرفوج کے غیرقانونی کمرشل پلازے، شادی ہال،سینما گھر اوردیگرکاروباری مراکز برقرار ہیں
 کراچی کی کوآپریٹو مارکیٹ ،وکٹوریہ مارکیٹ اورموبائل مارکیٹ صدر کوآگ لگانے کے واقعات ایک سازش کاحصہ ہیں
 جس طرح آج آبادوالے رو رہے ہیں اسی طرح کل مہاجرسرمایہ دار بھی روئیںگے
 پیپلزپارٹی نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے رہے سہے اختیارات بھی چھین لئے ہیںجو کھلی کراچی دشمنی ہے 
 قائدتحریک جناب الطاف حسین کا عوام سے لائیووڈیوخطاب


لندن۔۔۔30، دسمبر2021ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پورے کراچی میں چائناٹاؤن بنانے کے لئے کراچی میں بستیاں گرائی جارہی ہیں،حکومت پاکستان نے چائناسے اس سلسلے میں معاہدہ کیاہے اورچائنا سے وعدہ کیاہے کہ ہم آپ کوپوراکراچی صاف کرکے دیںگے تاکہ آپ اپنی مرضی سے بلڈنگیں تعمیرکریں کیونکہ یہ پاکستان کوقائم رکھنے کی صورت میں کراچی کوہانگ کانگ کی طرح پنجاب کی سیٹلائٹ اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے یہ انکشاف گزشتہ روز کارکنوںاورعوام سے اپنے لائیووڈیوخطاب میں کیا۔ جناب الطاف حسین کایہ وڈیو خطاب سوشل میڈیاکے ذریعے پوری دنیامیں براہ راست نشر کیاگیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کراچی میں سپریم کورٹ کے ذریعے رہائشی عمارت نسلہ ٹاورکوگرانے، پورے شہرمیں مہاجروں کی بستیاںمسمارکرنے اورشہریوںکوبیدخل کرنے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے اسے مہاجروںکامعاشی قتل قراردیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی میں بستیاں گرانے کا حکم پہلے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے دیا تھا، اس کے ظالمانہ حکم پر کراچی میںعلاقوںمیں مہاجر بستیوںکے ہزاروں  قانونی گھروںکوغیرقانونی قراردیکر مسمار کردیاگیا،اس کے بعد موجودہ چیف جسٹس گلزاراحمد آیاجس نے ثاقب نثار کی طرح فوج کے کہنے پر کراچی میں مکانات اوردکانوںکوکوگرانے کاسلسلہ جاری رکھا۔ کراچی میں گجرنالہ، ریلوے کالونی، موسیٰ کالونی، غریب آباد ، اورنگی ٹاؤن ، گارڈن، ایمپریس مارکیٹ ،الہ دین پارک اوردیگرعلاقوںمیں ہزاروں مکانوں، دکانوںاورمارکیٹیں مسمار کرنے کے بعد  چیف جسٹس آف سپریم کورٹ گلزاراحمد نے کراچی میں ایک کئی منزلہ رہائشی عمارت نسلہ ٹاور کو بم سے اڑانے کاحکم دیدیا۔ وہاں کے مکینوںکوجنہوں نے عمربھر کی پائی پائی اورقطرہ قطرہ کرکے جمع کرکے اپنے بچوں کے لئے قانونی طورپراین او سی لیکر یہ فلیٹ خریدے تھے انہیں بیدخل کرکے نسلہ ٹاور کوتوڑا جارہاہے جبکہ جنہوںنے یہ ٹاورتعمیرکیاتھاان میں سے کسی کونہیں پکڑا گیا۔انہوںنے کہاکہ جس طرح نسلہ ٹاوراورکراچی کے دیگرعلاقوںکے لوگوںکوان کے بسے بسائے قانونی گھروںسے نکالا گیاہے اگرجسٹس ثاقب نثاراورجسٹس گلزاراحمد کوکوئی وجہ بتائے بغیربیٹھے بٹھائے ان کے بیوی بچوںکو گھروںسے بیدخل کرکے گھروںکوتوڑدیاجائے اورانہیں کوئی سہارادینے والانہ ہوتوان کے دلوںپر کیاگزرے گی؟ انہوںنے کہاکہ چیف جسٹس ثاقب نثاراور چیف جسٹس گلزاراحمددونوںظالم ہیں، جابر ہیں ، جابروںظالموںکے بادشاہ ہیں۔ان دونوں کاجرم اتنابڑاہے کہ انہیں سرعام پھانسی دیکران کی لاشوںکوکئی دن تک لٹکایاجائے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج کے اشارے پرسپریم کورٹ کے ذریعے کراچی میںیہ بستیاں اسلئے گرائی جارہی ہیں کیونکہ پاکستان نے کراچی کو چائنا کے حوالے کرنے کامعاہدہ کیا ہے اور چائناسے وعدہ کیاہے کہ ہم آپ کوپوراکراچی صاف کرکے دیںگے تاکہ آپ اپنی مرضی سے بلڈنگیں تعمیرکریں اورپورے کراچی میں چائناٹاؤن بنالیں۔ حکومت پاکستان نے چین سے معاہدہ کرکے یہ طے کرلیاہے کہ پاکستان بھاڑ میں جائے لیکن پنجاب کوآپ کوپاکستان کی صوررت میں قائم رکھناہے اوراس کے ساتھ سندھ کے دارالخلافہ کراچی کوہانگ کانگ کی طرح پنجاب کی سیٹلائٹ اسٹیٹ بنانا ہے۔اس بات پر چائنیز راضی ہوگئے ہیں ۔ لہٰذا کراچی میں سب گھر گرائے جائیںگے۔ایک ایک کرکے تمام علاقوںکے ایک ایک گھر کانمبر آئے گا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی میں شہریوں کے جتنے بھی جائز اور لیز شدہ مکانات اور دکانیں مسمار کی گئی ہیں ، اس جرم میں مہاجروں کے غدار برابر کے شریک ہیں۔ اگر یہ غداری نہ کرتے تو کسی کی مجال نہیں ہوتی کہ کراچی کے شہریوں کی عمربھرکی پونجی بلڈوز کی جاتی ۔ 
  جناب الطاف حسین نے کہاکہ سپریم کورٹ کامعیاردہرا ہے، وہ کراچی کانسلہ ٹاورتومسمار کررہی ہے لیکن اس نے اسلام آباد کاغیرقانونی گرینڈ حیات ٹاور ریگولرائز کردیا کیونکہ اس میں جرنیلوں،سپریم کورٹ کے ججوں سمیت دیگر بااثر شخصیات کے فلیٹس تھے ۔اسی طرح سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ ثاقب نثار نے معمولی جرمانہ لیکر موجودہ وزیراعظم عمران خان کے بنی گالہ کے ناجائز قبضہ کوریگولرائز کردیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی میں شہریوںکے گھرتومسمار کئے جارہے ہیں مگرفوج کی دفاعی مقاصدکے لئے دی گئی زمینوںپر قائم کمرشل پلازے، شادی ہال،سینما گھر اوردیگرکاروباری مراکز برقرار ہیں، سپریم کورٹ نے انہیں توڑنے کے احکامات نہیں دیے۔ انہوں نے کہاکہ جوسپریم کورٹ کراچی کی بستیوںکوناجائز قراردے رہی ہے اس کی کراچی رجسٹری کی عمارت خود نالے پر قائم ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ کراچی میں مہاجروںکی جائز بستیوں کوگرانے کے احکامات دینے والی سپریم کورٹ کوکراچی کی پہاڑیوںاورشہرکے اطراف قائم غیرمقامی آبادی کی ناجائز بستیاں نظرنہیں آتیں جہاں رہنے والے کوئی یوٹیلٹی بل بھی ادا نہیں کرتے ۔
جناب الطاف حسین نے کراچی کی کوآپریٹو مارکیٹ ،وکٹوریہ مارکیٹ اورموبائل مارکیٹ صدر کوآگ لگانے کے واقعات کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ مہاجروںکی سینکڑوں دکانیں جلاکر خاک کردی گئی اورکراچی کے تاجروں کو اربوں روپے کانقصان پہنچایاگیا۔ انہوں نے کہاکہ آتشزدگی کے یہ واقعات ایک طے شدہ سازش کاحصہ ہیں،مارکیٹوںکو آگ لگانے والوںنے وہی پاؤڈر استعمال کیاجو14، دسمبر 1986ء کو کراچی میں قصبہ کالونی اورعلیگڑھ کالونی میں گھروں کو آگ لگانے کیلئے استعمال کیاگیا تھا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے پہلے ہی کہاتھاکہ سپریم کورٹ فوج کے بوٹوں تلے دبی ہوئی ہے اورفوج کے اشارے پر ہی فیصلے دیتی ہے، لوگوں نے یقین نہیںکیالیکن آج میری بات سچ ثابت ہورہی ہے اورشواہد عوام کے سامنے آرہے ہیں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس فوج کے اشارے پرلوگوںکو سزائیںدے رہے ہیںاورفیصلے کررہے ہیں۔ 
انہوںنے مزیدکہاکہ ملک کی تباہی اوربربادی میں سپریم کورٹ کابہت بڑاکردار ہے، جس نے پاکستان میں ہرمارشل لاء کو جائز قرارد یااورفوج کے ہرغلط اورغیرقانونی اقدام کی سپورٹ کی، اسی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہی عمران خان جیسے زانی اور بدکردار شخص کو صادق اورامین قرار یا۔ثاقب نثارخودبھی ایک انتہائی بدعنوان اوردھوکے باز شخص ہے جس نے پاکستانیوںسے ڈیم بنانے کے نام پر اربوں روپے کے فنڈز جمع کئے لیکن آج تک قوم کونہیں پتہ چل سکاکہ وہ پیسہ کہاں خرچ ہوا۔ 
جناب الطاف حسین نے پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ کی جانب سے منظورکئے جانے والے کراچی دشمن بلدیاتی قانون کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ پیپلزپارٹی نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے رہے سہے اختیارات بھی چھین لئے ہیںجو کھلی کراچی دشمنی ہے۔انہوں نے ہم کراچی کووڈیروںکے جبرسے نجات دلائیںگے، ہماری منزل سندھ دھرتی کی آزادی ہے اور سندھی اور اردو بولنے والے سندھی آپس میں مل کر ظالم جاگیرداروںاوروڈیروں کا خاتمہ کریں گے اور سندھ دھرتی کو آزاد کرائیں گے۔ 
 اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے نوجوانوں کوسمجھاتے ہوئے کہاکہ فطرتاً انسان اپنے مذہب سے محبت کرتا ہے لیکن عقل وشعور ، فہم وفراست اور سائنسی بنیادوں پر کوئی بھی شخص اپنے مذہب کو ثابت نہیں کرسکتا۔ اسی لئے میں ہمیشہ سے یہ کہتا رہا ہوں کہ یہ مت دیکھوکہ کس کا مذہب سچا ہے اور کس کامذہب سچا نہیں ہے بلکہ اپنے دین پر قائم رہو اور دوسرے کے مذہب کا احترام کرو اور ایک دوسرے سے مل کر رہو، تمام مذاہب کے ماننے والے انسان ہیں ، ان کے دل کاسائز ایک جیسا ہے اور سب کے دکھ درد ایک ہی جیسے ہوتے ہیں، لیکن دنیا میں کچھ ایسے انسان بھی ہوتے ہیں جنہیں صرف اپنے دکھ درد، اپنے مفادات ، اپنی غرض اوراپنی انا سے مطلب ہوتا ہے اور انہیں دوسروں کے دکھ درد سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ انہوںنے کہاکہ میں نہ صرف تمام مذاہب کے ماننے والوں کااحترام کرتا ہوں بلکہ ان کا بھی احترام کرتا ہوں جوکسی مذہب کونہیں مانتے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جب ہم مسلمان ہیں، ہماراایک اللہ ، ایک رسول ۖاور ایک قرآن مجیدہے توپھرہمیں اتحاد بین المسلمین کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں جان ومال کی قربانیاں دینے کایہ صلہ ملا کہ آج بھی بانیان پاکستان کی اولادوںکو تلیر، مکڑ، مٹروا اورپناہ گیرجیسے توہین آمیزالقابات سے پکارا جاتا ہے ۔ پاکستان بنانے کے باوجود ہمیں پاکستانی سمجھا نہیں جاتا اور ہندوستانی کہاجاتا ہے جبکہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمان ہم سے لاکھ درجہ بہتر زندگی گزاررہے ہیں ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جن فوجی جرنیلوں کے آباواجداد نے 1857ء کی جنگ آزادی میں انگریزوں کا ساتھ دیا، آزادی کی تحریک چلانے والے حریت پسندوں کی مخبریاں کیں، خانہ کعبہ پر گولیاں چلائیں ، جنرل ضیاء الحق جب بریگیڈئیرتھا تو اس نے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام کیا، آج جنرل راحیل شریف سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمنی مسلمانوںکا قتل عام کررہا ہے لیکن ہم ایسے ظالم فوجی جرنیلوں کو مقدس گائے سمجھتے ہیں ۔ تحریک پاکستان کی جدوجہد میں مغربی پنجاب والوںنے خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہایااورپاکستان انگریزوں کے کتے نہلانے والوں کو انعام کے طورپر دیاگیا اورانہیں پاکستان میں قتل وغارت اورلوٹ مارکالائسنس بھی دے دیا گیا ،یہی وجہ ہے کہ انسانیت اورجمہوریت کے دعویدار 
بڑے ممالک پاکستان میں بلوچوں، سندھیوں اورمہاجروں کے جسمانی ومعاشی قتل عام پرمذمت کاایک لفظ تک نہیں بولتے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ نوازشریف اورآصف علی زرداری پر کرپشن کے الزامات ہیں ، ملک کابچہ بچہ جانتا ہے کہ بے نظیربھٹو کے قتل میں فوج، طالبان اورآصف زرداری ملوث ہیں چونکہ یہ سب فوج کی کٹھ پتلیاں ہیں اسی لئے ان کے خلاف وہ اقدامات نہیں کیے گئے جو الطاف حسین اور ایم کیوایم کے خلاف کیے جاتے رہے ہیں۔ ماضی میں مہاجروں کی انشورنس کمپنیاں، ملیں، تعلیمی ادارے اوربنک قومیائے گئے اور جب نیشنلائزیشن ختم کی گئی تو مہاجروں کے ادارے غیرمہاجروں کو دے دیے گئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجرسرمایہ دارفطرتاً پنجابی ہیں ،یہ سرمایہ دار، نوازشریف اور آصف زرداری کو کروڑوں روپے چندہ دیتے رہے ہیں لیکن ایم کیوایم کو پانچ ہزار روپے چندہ دیکر دنیا بھرمیں پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ایم کیوایم والے بھتہ لیتے ہیں ۔ انہوںنے مہاجرسرمایہ داروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ جس طرح آج آباد والے رو رہے ہیں اسی طرح تم بھی روؤگے اور تمہاری فریاد سننے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ جس جس نے بھی قرآن مجید پر حلف لیکر غداری کی وہ سب کے سب پیدا تو مہاجروں کے گھروںمیں ہوئے ہیں لیکن اپنے عمل وکردار کے لحاظ سے وہ پنجابی ہیں ۔
انہوںنے کہاکہ اندرون سندھ میں لسانی فسادات سے ایسے حالات پیدا ہوگئے تھے کہ مہاجروں کو اندرون سندھ کے تعلیمی اداروں میں پڑھنا مشکل ترین ہوگیا تھا ، میں نے سائیں جی ایم سید سے ملاقاتیں کرکے کہاکہ مہاجروں کا جینا مرنا سندھ دھرتی سے وابستہ ہے اور مہاجروں کو غیرنہ سمجھاجائے جس پرمہاجروں اور سندھیوں میں اتحاد کی فضاء قائم ہوئی اور مہاجرطلباء کو اندرون سندھ کے تعلیمی اداروںمیں داخلے لینے کی اجازت بھی ملی ۔انہوںنے کہاکہ انسان فطری طورپر خودغرض ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قسم کی برائیوں سے محفوظ رکھا ، میں نے عام مہاجروں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی حالانکہ میرا کوئی بھائی یا بہن اندرون سندھ کے تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھتا تھااور سندھ میں بھائی چارے کی فضاء قائم ہونے سے عام مہاجروں کو فائدہ ہواتھا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ 1964ء میں مہاجروں نے پشاور جاکر پٹھانوں پرحملہ نہیں کیاتھا بلکہ ڈکٹیٹرجنرل ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب کی سربراہی میں پٹھانوں کا جلوس کراچی میں حملہ آور ہوا تھا، ہمیشہ مہاجرآبادیوں پر مسلح حملہ کیاگیا ہے کبھی مہاجروںنے کسی کی آبادی پر حملہ نہیں کیا۔ میں نے تحریک بناکر مہاجروں کوایک عوامی طاقت بنادیاتھا، اگر ایم کیوایم میں غداریوں کا عمل نہ کیاجاتا تو اور غداران قوم شہیدوںکے لہو اور اپنے ظرف وضمیر کا سودا نہ کرتے تو سپریم کورٹ کے کسی جج کے باپ میں بھی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ کراچی میں کسی جائز بستی کو مسمارکرنے کا حکم دیتا۔ انہوں نے کہاکہ تعصب ، عصبیت اورنفرت کے کھلے مظاہروںکے باوجود مہاجروں کو عقل نہیں آرہی کہ جتنی آزادی سے مہاجرآبادیوں کو مسمار کیاجارہا ہے اس کی تمام ذمہ داری قوم کے غداروں پر عائدہوتی ہے ، مہاجرماؤں، بہنوں، بزرگوںاور نوجوانوں کوچاہیے کہ ان غداروں کے 
اڈوں پر جاکر ان سے پوچھیں کہ وہ ا س ظلم وبربریت پرخاموش کیوں ہیں، افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض متاثرین ان غداروںکو اپنے پاس بلاتے ہیں اوران کی خبرگیری بھی کرتے ہیں جواپنے نظریاتی باپ کے نہیں ہوئے اورانہوںنے آرٹیکل 6 کے تحت اپنے نظریاتی باپ کی پھانسی کا مطالبہ تک کرڈالا توقوم کے ہمدرد کیسے ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے تمام تحریکی کارکنوںاورعوام سے کہاکہ وہ اپنی ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزتو ں کے تحفظ، اپنے بچوںاورآنے والی نسلوں کے بہترمستقبل اورباعزت زندگی کے لئے خاموشی کاقفل توڑیںاورعملی جدوجہد کریںورنہ مکمل غلامی پوری قوم کامقدرہوگی۔ 

٭٭٭٭٭


1/17/2022 4:27:31 AM