جس طرح پولیٹیکل انجینئرنگ کرکے ایم کیوایم کوتوڑا گیا تھا اسی طرح اب پی ٹی آئی کوتوڑنے کے لئے پولیٹیکل انجینئرنگ کی جارہی ہیے،پی ٹی آئی میں گروپ بندیاں کرائی جارہی ہیں اورمائنس الطاف حسین کی طرح مائنس عمران خان منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔
پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن یوں توجمہوریت کی علمبرداربنتی ہیں لیکن ان دونوں جماعتوں کی مشترکہ حکومت نے خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کوجس طرح ختم کرکے وہاں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کی ہے کیااس اقدام کوجمہوری اقدام کہاجائے گا؟ کیا اسے عوام کی خواہشات اورامنگوں کے مطابق کہا جائے گا؟ یہ اقدام جمہور کے مینڈیٹ اورفیصلے کو بوٹوں تلے روندنا ہے۔
جب مسلم لیگ ن کے میاں نوازشریف کی حکومت کوختم کیا گیا تومسلم لیگ ن نے اس کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کیا، نوازشریف، شہبازشریف نے ”مجھے کیوں نکالا“ کی مہم چلائی، نوازشریف نے یہی شورمچایا کہ مجھے کیوں نکالا؟۔ جب ان کی حکومت ختم ہوتومجھے کیوں نکالا کاسوال کھڑا ہوجاتا ہے لیکن جب خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کاخاتمہ کیا جائے، وہاں گورنرراج نافذکیاجائے تووہ جائز قراردیاجاتاہے۔
اسی طرح پیپلزپارٹی کانعرہ تھا”جمہوریت بہترین انتقام ہے“۔ آصف زرداری، بلاول زرداری اور ان کے تمام رہنمایہ نعرہ لگاتے تھے لیکن آصف زرداری نے خیبرپختونخوا میں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کرنے کا فرمان جاری کرنے میں زرادیرنہیں لگائی، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے جمہوریت کے نعرے اوردعوے کہاں گئے؟
خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی منتخب حکومت ختم کرنے اوروہاں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کرنے کے بعداب تحریک انصاف کوتوڑنے اوراسے مختلف گروپوں میں تقسیم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، جو اس عمل کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں،ان کونشانہ بنایاجارہاہے، کل مرادسعید کے گھرپر بھی چھاپہ ماراگیاہے، جو قابل مذمت ہے۔ظلم سے لوگوں کووقتی طورپر خاموش کیاجاسکتا ہے لیکن ان کے دلوں سے ان کی جماعت اور رہنما کی محبت کودلوں سے نکالانہیں جاسکتا۔
تحریک انصاف کے کارکنوں کوچاہیے کہ وہ پارٹی کوتوڑنے اوراسے گروپ بندیوں میں تقسیم کرنے کی کوششوں کوناکام بنائیں اورانہیں ان حالات سے مایوس نہیں ہوناچاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 488 ویں فکری نشست سے خطاب
23 اکتوبر2026ء