ایران اورامریکہ کے درمیان ثالثی کے نام پر امریکہ کے مفادات کے لئے کوششیں کرنے اورامریکہ کے کوریئرسروس مین کاکردار اداکرنے پر پاکستان آج بین الاقوامی سطح پر بری طرح مشکلات کاشکارہے۔ اس صورتحال میں ملک کومزیدمشکلات سے بچانے کے لئے حکمرانوں کوچاہیے کہ وہ دوسروں کے گھر کی آگ بجھانے کی فکر کرنے کے بجائے اپنے گھر کی فکر کریں۔
یہ المیہ ہے کہ جب کوئی حکومت اپنے ملک کے عوام کے مفاد کے بجائے دوسری قوتوں کے مفادات کے لئے کام کرنے میں لگ جائے تواسے اس کاکوئی احساس نہیں رہتاکہ اس کے اپنے عوام کن مسائل کا شکارہیں،وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے آوازاٹھانے والوں کے خلاف آمرانہ اورجابرانہ ہتھکنڈے اختیار کرتی ہے۔
فیلڈمارشل عاصم منیراوروفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے دوروزقبل ایران کاجودورہ کیاہے، اس دورے میں انہیں ایرانی حکومت کی جانب سے جس طرح کی سردمہری کاسامناکرناپڑاہے اسے دنیانے نوٹ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ ملاقات میں فیلڈمارشل عاصم منیراورمحسن نقوی کی جانب سے ایرانی حکومت کوامریکہ کایہ پیغام دیاگیاہے کہ ایران کے پاس جوافزودہ یورینیئم ہے وہ امریکہ کے حوالے کردیا جائے جس پر ایرانی حکومت نے صاف انکارکردیاہے۔ثالث کے بجائے امریکہ کے کورئیر سروس مین کاکرداراداکرنے پر پاکستان کواب نہایت ہزیمت کاسامنا کرنا پڑرہا ہے، آپ اپنے گھرکی آگ بجھانہیں پائے لیکن دوسروں کے گھرکی آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ میں یہی کہوں گاکہ خدارا اپنے ملک کی فکرکریں،عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ میں ملک کی عزت کو داؤپرنہ لگائیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 488 ویں فکری نشست سے خطاب
23 اکتوبر2026ء