خیبرپختونخوا میں گورنر راج اورایمرجنسی کانفاذ عوام کی آوازکوریاستی طاقت کے ذریعے دبانے کاایک ایساحربہ ہے جوآمرانہ ہتھکنڈوں کے زمرے میں آتا ہے۔ پاکستان اس وقت کی صورتحال انتہائی نازک دور میں داخل ہوگئی ہے، اس نازک صورتحال میں ہر گزرتے ہوئے دن اورلمحے کے ساتھ ہی اس میں اضافہ ہورہا ہے، خیبرپختونخوا میں گورنرراج اور ایمرجنسی کا نفاذ کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے،دیکھنا یہ ہے کہ اس پر تحریک انصاف کاردعمل کیا ہوگا، خیبرپختونخوا کے عوام اس ظالمانہ اورغیرآئینی وغیرقانونی اقدام کو قبول کریں گے یانہیں؟ گورنر راج اورایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی ان کے تمام بنیادی انسانی حقوق چھین لئے جائیں گے توخیبرپختونخوا کے عوام اس پر شعوری، فکری اورعقلی لحاظ سے کس طرح ردعمل کا اظہارکرتے ہیں؟
پاکستان میں یہ المیہ رہاہے کہ پاکستان میں کبھی جمہوری قوتوں کوپھلنے پھولنے اورعوامی امنگوں کے مطابق فیصلے نہیں کئے گئے، عوامی امنگوں کے خلاف فیصلے کئے گئے جس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، ملک دولخت ہوگیا، اب بلوچستان کی صورتحال آپ کے سامنے ہے، اگرگورنرراج اورایمرجنسی کے نفاذ سے خیبرپختونخوا میں بھی ایسی ہی صورتحال نے جنم لیا توکس کانقصان ہوگا؟ بدقسمتی سے حکمراں طاقت کے نشے میں یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہرایکشن کاری ایکشن ضرورہوتا ہے۔
میں یہی کہتا ہوں کہ طاقت کااستعمال کسی بھی جانب سے ہو، اگرحق اورسچ کی بات کرنے والوں کے خلاف طاقت استعمال کی جائے توا س کے بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا میں یہ سمجھتاہوں کہ حکومت کوبات چیت کاراستہ اختیارکرنا چاہیے، صلح جوئی کا راستہ اختیارکرناچاہیے، نہ کہ ظلم کا راج نافذ کیا جائے، کیونکہ ظلم سے عوام کے دل جیتے نہیں جاتے، بلکہ اس سے عوام میں نفرتیں پیداہوتی ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر483 ویں فکری نشست سے خطاب
10 اکتوبر2026ء