Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ملک میں غنڈہ گردی اورطاقت کاراج ہے، حق اور انصاف مانگنے پر قتل کئے جارہے ہیں،ایسے حالات میں زندہ باد کے نعرے کس طرح لگائیں؟ الطاف حسین


 ملک میں غنڈہ گردی اورطاقت کاراج ہے، حق اور انصاف مانگنے پر قتل کئے جارہے ہیں،ایسے حالات میں زندہ باد کے نعرے کس طرح لگائیں؟ الطاف حسین
 Posted on: 6/25/2026

ملک میں غنڈہ گردی اورطاقت کاراج ہے، حق اور انصاف مانگنے پر قتل کئے جارہے ہیں،ایسے حالات میں زندہ باد کے نعرے کس طرح لگائیں؟ الطاف حسین

ملک میں غنڈہ گردی اورطاقت کاراج ہے،اپنا حق اور انصاف مانگنے والے قتل کئے جارہے ہیں،  عدالتیں تک قید ہیں، جج بوٹوں تلے دبے ہوئے ہیں، انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا اورملک کے 98 فیصد عوام حقوق سے ہی نہیں بلکہ پانی، بجلی،گیس اور بنیادی سہولتوں تک سے محروم ہیں، ایسے حالات میں ہم  زندہ باد کے نعرے کس طرح لگائیں؟ آدھاملک ظلم اور ناانصافیوں کے نتیجے میں پہلے ہی علیحدہ ہوگیا، باقیماندہ ملک میں ہر جگہ بے چینی ہے،لوگ غربت وافلاس کا شکارہیں، تمام مظلوم قومیں اپنے حقوق کے لئے آوازیں بلند کررہی ہیں، ملک میں جگہ جگہ مظاہرے ہورہے ہیں اوران کی فریادوں کوسننے کے بجائے ان پر گولیاں چلائی جارہی ہے، لاٹھیاں برسائی جارہی ہے،لوگوں کوجھوٹے مقدمات بناکر قید کیاجارہا ہے،انہیں سزائیں دے جا رہی ہیں،کیا ایسے حالات میں اس نظام ریاست اور ظالم حکمرانوں کی تعریف کی جائے اور انہیں زندہ باد کہاجائے کہ وہ اسی طرح قائم ودائم رہیں، مظلوموں کومحروم رکھیں اورحق مانگنے پر انہیں مارتے رہیں؟ قید کرتے رہیں؟غائب کرتے رہیں؟ 
78برسوں سے اپناحق مانگنے والے بلوچوں کا قتل کیا جارہا ہے، ان کی نسل کشی کی جارہی ہے، مظلوم بلوچوں کولاپتہ کیاجارہاہے، لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے ایک بلوچ بیٹی ماہ رنگ بلوچ دیگربلوچ ماؤں بہنوں کے ساتھ پرامن احتجاج کرنے نکلی تواس پر حملے کئے گئے، اسے نظربند کیا گیا اوراب ایک جھوٹے مقدمے میں ماہ رنگ بلوچ کوعمرقید کی سزا دیدی گئی ہے، مہاجروں نے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کی تو ان کے خلاف فوج کشی کردی گئی، ان کی واحد نمائندہ جماعت ایم کیوایم پر کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگادی گئی، پشتونوں نے اپنے حق کے لئے آوازبلند کی تو پشتون تحفظ موومنٹ کوطاقت کے ذریعے دبا دیا گیا، ان کے رہنماعلی وزیرکوطویل عرصہ سے قید میں رکھا ہواہے، پشتونوں پر ڈرون حملے کئے جارہے ہیں، آزاد کشمیرجوبرصغیرکی تقسیم کے وقت ایک آزاداورخودمختارریاست تھی، جہاں ڈوگرہ راج تھا،1947ء میں تقسیم کے وقت جب انہیں اس بات کاحق دیا گیا کہ وہ آیا بھارت کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں یاپاکستان کے ساتھ تواس وقت ریاست کشمیرکے حکمراں مہاراجہ ہری سنگھ نے 26نومبر 1947ء کوانڈیاکے ساتھ الحاق کرلیااورالحاق نامے پر دستخط کرلئے جس کے تحت پوری ریاست جموں وکشمیر انڈیا کا حصہ بن گئی تھی لیکن قبائلی لشکروں کوبھیج کرکشمیرکے آدھے حصے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا گیا۔79سال سے انڈین کشمیر کی آزاد ی کے نام پر کشمیری عوام کوبیوقوف بنایا گیا، آزادکشمیر اپنے معاملات چلانے میں آزاد نہیں ہے۔اب کشمیری عوام نے اپنے حق کے لئے کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنائی اور پرامن جدوجہد شروع کی توان پر فوج کشی کی جارہی ہے، ان کے احتجاج کوطاقت کے ذریعے کچلا جارہا ہے،ان پر گولیاں چلائی جارہی ہیں،ان کے رہنماؤں کوغیرملکی ایجنٹ اورملک دشمن قرار دیا جارہا ہے۔وہ جماعتیں جو79سال تک کشمیرکی آزادی کے نام پر کیمپ لگاتی رہیں، کشمیریوں سے قربانیاں، چندے وصول کرتی رہیں وہ آج کہاں ہیں؟ 
 نظام ریاست نے پالیسی بنالی ہے کہ جو اس کے ناجائز اقدامات کے خلاف آوازاٹھائے اسے راستے سے ہٹادیاجائے،عمران خان نے جب اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کوچیلنج کیا توسازش کے تحت ان کی حکومت ختم کردی گئی، انہیں گرفتار کرکے جھوٹے مقدمے میں سزادیدی گئی، عمران خان اوران کے رہنماؤں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹریاسمین راشداوردیگررہنماؤں کوتین سال سے قیدمیں رکھا ہوا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان مقدمات کوسننا شروع کیا توفوج اوراس کے افسران نے عدالت پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ فیصلہ وہ دو جو ہم کہیں، ججوں پردباؤڈالا گیا، انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کومشترکہ طورپرخط کے ذریعے شکایت کی کہ فوج اورآئی ایس آئی کے افسران انہیں دھمکاتے ہیں، دباؤڈالتے ہیں، ہمیں بلیک میل کرنے کے لئے ہمارے اہل خانہ اورقریبی عزیزوں کو ہراساں کیا جارہا ہے،  ہمارے گھرکے اطراف، گھر کے اندر حتیٰ کہ بیڈروم کے اندرتک خفیہ کیمرے لگائے گئے، دوسال گزرگئے لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کوانصاف نہیں ملابلکہ الٹا انہیں سزا کے طورپر اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہٹاکردوسری عدالتوں میں بھیج دیا گیا۔ جب ہائیکورٹ کے ججوں تک کوانصاف نہ مل سکے،سپریم کورٹ بھی بے بس ہوتو عوام حکمرانوں کے ناجائز اقدامات کے خلاف انصاف کے لئے کہاں جائیں؟ جب ملک میں غنڈہ گردی اورطاقت کا راج ہو، انصاف کی اعلیٰ عدالتیں تک قید ہوں، جج بوٹوں تلے دبے ہوئے ہوں، ہائیکورٹ کے ججوں تک کوانصاف نہ مل رہا ہوتو اورپورانظام ریاست طاقت اورغنڈہ گردی کی بنیاد پر چل رہا ہو توپھر اسے زندہ باد کیسے کہا جاسکتا ہے؟ 
فوج ملک کی محافظ ہوتی ہے، محترم ہوتی ہے لیکن وہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض تک محدود ہوتی ہے، وہ ملکی معاملات اورسیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔ بدقسمتی سے پاکستان کی فوج سیاست اورملکی معاملات میں مداخلت کرتی ہے،عدالتوں پر اثرانداز ہوتی ہے،آج ملک کے تمام سویلین اداروں میں حاظر اورریٹائرڈ جرنیلوں کومقررکردیا گیا ہے جنہیں ان سول اداروں کے بارے میں بالکل معلوم نہیں ہے لیکن تمام سویلین اداروں میں فوجی افسران کوتعینات کرکے عوام کویہ بتایاجارہاہے کہ سویلین نااہل ہیں، یہ پالیسی ٹھیک نہیں ہے۔ لہٰذا میں ملک کے عوام سے کہوں گا پاکستان کوجمہوری فلاحی اور ترقی کے راستے پرڈالنے کے لئے ملک کوفوج کے اس ناجائز اثر سے آزاد کرائیں۔
بدقسمتی سے 79سال تک پاکستان کے عوام کوجھوٹی اورمسخ شدہ تاریخ پڑھائی گئی، انہیں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے سے روکنے اورملک میں رائج اسٹیٹس کو کاغلام بنائے رکھنے کے لئے مذہب کا چورن دیکران کے ذہنوں کومفلوج بنایا جاتا رہا لیکن آج کی نئی نسل، آج کی جین زی باشعور ہے، پروگریسو ہے، وہ علم اورتحقیق یریقین رکھتی ہے اوراپنے حق کے لئے آوازاٹھانا جانتی ہے، وہ انشاء اللہ اسٹیٹس کوتوڑے گی اورملک کوحقیقی معنوں میں آزاد کرائے گی۔ 

الطاف حسین
 ٹک ٹاک پر421  ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب
24جون 2026ء 


6/27/2026 12:49:45 PM