Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

برصغیرکی جنگ آزادی……آل انڈین نیشنل کانگریس اورآل انڈیامسلم لیگ کاقیام…


 برصغیرکی جنگ آزادی……آل انڈین نیشنل کانگریس اورآل انڈیامسلم لیگ کاقیام…
 Posted on: 5/14/2026

برصغیرکی جنگ آزادی……آل انڈین نیشنل کانگریس اورآل انڈیامسلم لیگ کاقیام……
قائد اعظم محمدعلی جناح کاکردار……قرارداد پاکستان یا قرارداد لاہور
(ٹک ٹاک پر 401  ویں فکری نشست سے خطاب)

میں نے گزشتہ فکری نشست میں آقااورغلام کا تصور، انگریزکس طرح ہندوستان میں آئے، انہوں نے ہندوستان پر کس طرح قبضہ کیا اور برصغیرمیں ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان مذہبی تفریق کس اور کیسے پیدا کی، اس پر گفتگو کی گئی تھی۔اب اس گفتگوکومزیدآگے بڑھاتے ہیں۔ 
ہندوستان سے انگریزوں کے قبضے کے خاتمے اورہندوستان کی آزادی کے لئے بہت سی تحریکیں چلیں۔ آخری جنگ1857ء میں ہوئی جسے جنگ آزادی کہا جاتا ہے اور انگریز اس جنگ آزادی کو”غدر“ کا نام دیتے ہیں۔ اس جنگ آزادی میں حریت پسندوں کو شکست ہوئی اور پورے ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔ جنگ آزادی کے دوران کئی حریت پسند گروپ قائم ہوئے اور ہندوستان کی آزادی کیلئے حریت پسندوں نے لازوال قربانیاں دیں، پھانسی کے پھندے قبول کئے۔ 
ہندوستان کو انگریزوں کے قبضے سے نجات دلانے کے لئے 28، دسمبر1885ء کو” آل انڈین نیشنل کانگریس“  کے نام سے ہندوستان کے عوام کی باقاعدہ سیاسی جماعت کاقیام عمل میں آیاجس میں ہندو، مسلمان، سکھ اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے جوکہ ہزار سال سے ایک ساتھ رہتے چلے آرہے تھے۔
انگریزوں نے ہندوستان کے عوام کی اس مشترکہ جدوجہدکو کمزورکرنے کے لئے انہیں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سازش تیار کی۔ انگریزوں کی سازش کے تحت 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ اس کے رہنماؤں میں نواب محسن الملک، نواب وقارالملک، حکیم اجمل اور سرآغاخان شامل تھے۔ آل انڈیامسلم لیگ کے قیام سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان میں سیاست کے لئے مذہب کانام پہلے مسلمانوں کی جانب سے استعمال کیاگیاتھا۔
یہ عجب اتفاق ہے کہ 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کاقیام عمل میں آیااورلیکن قائداعظم محمد علی جناح نے 1906ء میں آل انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ اگر قائد اعظم محمدعلی جناح برصغیرکے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن بنانا چاہتے تووہ 1906ء میں ہی آل انڈیامسلم لیگ میں شمولیت اختیارکرلیتے جبکہ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ انہوں نے مسلم لیگ کے بجائے آل انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 
آل انڈین نیشنل کانگریس مذہبی تفریق کے بجائے انڈین نیشنل ازم کی بنیاد پرقائم ہوئی تھی اوروہ ہندوستان کے تمام شہریوں کی جماعت تھی اورقائداعظم نے بھی کانگریس کے رہنما کی حیثیت سے ہندوستان کے تمام شہریوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہندوستان کے مسلمانوں اورہندوؤں میں اس بات کی تبلیغ کی کہ آپ ہزاروں سال سے ایک ساتھ رہتے چلے آئے ہیں۔لہٰذا ہمیں انگریزوں سے آزادی کیلئے آل انڈین نیشنل کانگریس کے پرچم تلے متحد ہوکر مشترکہ جدوجہد کرناچاہیے۔ اسی لئے قائد اعظم کو ہندومسلم اتحاد کا علمبردار کہاجاتا تھا۔ قائداعظم مسلمانوں کے علیحدہ وطن یا مسلمانوں کے نام پر آل انڈیامسلم لیگ کے نام سے جدوجہد پر یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ ہندواورمسلم اتحاد کے داعی تھے،وہ چاہتے تھے کہ برصغیرکے ہندو اورمسلم مذہبی تفریق میں نہ پڑیں بلکہ ملکر انگریزوں سے آزادی کی جدوجہد کریں۔قائداعظم کاکہنا تھا کہ اگریہ خدشہ ہے کہ ہندوستان کو انگریزوں سے آزادی ملنے کے بعد ہندو اکثریت اور مسلم اقلیت میں رہ جائیں گے تو ہندواورمسلم ہزاروں سال سے ایک ساتھ رہتے چلے آئے ہیں لہٰذا ہم کوئی ایسا فارمولا بنالیں گے کہ مسلم اقلیت کو ناانصافی یا تعصب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ قائداعظم نے ہندومسلم اتحاد کے سلسلے میں 1916ء میں مسلم لیگ کی رکنیت بھی اختیارکرلی تھی اور وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی صدارت کے عہدے پر فائز ہوئے۔ لیکن انہوں نے کانگریس کی رکنیت ترک نہیں کی تھی۔ان کے پاس دوہری رکنیت تھی۔ بعض معاملات پر اختلافات کی وجہ سے قائداعظم نے 1920ء میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کرلی۔اس وقت آل انڈین نیشنل کانگریس کے تمام رہنماؤں نے متفقہ طورپر قائداعظم محمدعلی جناح کو یہ پیشکش کی کہ اگر آپ ہندوستان کی وحدت کی بات پر قائم رہیں تو ہم آپ کو کانگریس کی صدارت سونپ دیں گے لیکن قائد اعظم نے ان کی یہ پیشکش قبول نہیں کی۔
قائداعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے صدرکی حیثیت سے اپنی جدوجہد جاری رکھی لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ آل انڈیامسلم لیگ کئی دھڑوں میں تقسیم ہے تو وہ شدید ذہنی کرب واذیت کا شکار ہوگئے۔قائداعظم 1920ء سے 1930ء تک کوشش کرتے رہے کہ مسلم لیگ میں دھڑے بندی ختم ہوجائے اور وہ ایک پلیٹ فارم پرمتحد ہوجائیں لیکن مسلم لیگی رہنماؤں کی آپس کی چپقلش ختم نہ ہوئی جس سے دلبرداشتہ ہوکر قائداعظم نے سیاست سے کنارہ کشی اختیارکرلی اور انگلینڈ چلے گئے۔وہاں انہوں نے قانون کی پریکٹس شروع کردی جس کے باعث ان کا نام بلند سے بلند ترہوتاچلاگیا۔ 
خان لیاقت علی خان شروع دن سے ہی قائداعظم کے معاون ومددگار تھے اوروہ چاہتے تھے کہ قائداعظم ہی مسلم لیگ کی قیادت کریں اوراس مقصد کیلئے خان لیاقت علی خان نے قائداعظم کو کئی خطوط لکھے اور ان سے درخواست کی کہ وہ واپس ہندوستان آکر مسلم لیگ کی قیادت سنبھالیں۔ قائداعظم چارسال تک خان لیاقت علی خان کے خطوط کا جائزہ لیتے رہے اور آخرکار انہوں نے 1934ء میں ہندوستان واپس آنے پر مشروط آمادگی ظاہرکی اور شرط رکھی کہ مسلم لیگ کے تمام دھڑے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر جدوجہد کریں۔ قائداعظم نے 1934ء میں ہندوستان واپس آکر مسلم لیگ کی صدارت سنبھال لی۔ 
1940ء میں قائداعظم محمدعلی جناح کی صدارت میں لاہور کے منٹوپارک میں آل انڈیامسلم لیگ کاایک تین روزہ کنونشن منعقد ہواجو22مارچ سے 24 مارچ تک جاری رہا۔ اس کنونشن میں پورے ہندوستان سے آل انڈیا مسلم لیگ کے رہنماؤں اورعوام نے شرکت کی۔ کنونشن میں آل انڈیامسلم لیگ کے رہنماؤں نے قائداعظم کی صدارت میں طویل محنت کے بعدمسلم لیگ کے مطالبات پر مشتمل ایک قرارداد تیار کی۔ یہ تاریخی قرارداد کنونشن کے دوسرے روز یعنی 23مارچ 1940ء کو مشرقی بنگال سے تعلق رکھنے والے آل انڈیامسلم لیگ کے سینئررہنما شیربنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی۔اس قرارداد کو”قراردادلاہور“ کانام دیاگیا۔
 یہاں قرارداد لاہور کامتن پیش خدمت ہے۔
”کل ہند مسلم لیگ کا اجلاس مکمل غوروفکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس ملک میں کوئی بھی آئین اس وقت تک قابل عمل اور مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا جب تک کہ اسے بنیادی اصولوں پر تیار نہیں کیاجاتا۔ یعنی جغرافیائی طورپر متصل اکائیوں کی ایسے خطوں کی صورت حدبندی کی جائے جن کی تشکیل ضروری علاقائی ردوبدل کے ساتھ اس طرح کی جائے کہ وہ علاقے جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے جیسا کہ ہندوستان کے شمال مشرق اور شمال مغرب میں ہے۔ انہیں اس میں مدد دی جائے تاکہ وہ آزاد مملکتیں بن سکیں۔ ان مملکتوں میں شامل ہونے والی وحدتیں خودمختار اور مقتدر ہونی چاہئیں یعنی خودمختار اور حاکمیت کامل کی حامل ہوں“۔
 یہ قرارداد لاہور تھی اور اس قرارداد میں کہیں ”پاکستان“ کا لفظ نہیں تھا لیکن پاکستان کے سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں نے اسے”قرارداد پاکستان“ کا نام دے ڈالا جوکہ تاریخ سے بددیانتی ہے۔
قراردادکے متن سے واضح ہے کہ اس قرارداد میں پاکستان کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں تھا بلکہ واضح الفاظ میں یہ کہاگیا تھا کہ ہندوستان کے شمال مشرق اورشمال مغرب مسلم اکثریتی علاقوں کو ہندوستان کے جغرافیے میں آزاد وخودمختار ریاستیں بنادیا جائے۔یعنی واضح ہے قرارداد میں مسلمانوں کیلئے کسی علیحدہ وطن کا کوئی مطالبہ نہیں تھا بلکہ ہندوستان کے جغرافیے میں شامل مسلم اکثریتی علاقوں پرمشتمل آزاد وخودمختار ریاستوں کی بات کی گئی تھی۔ جس طرح امریکہ میں خودمختارریاستیں قائم ہیں جن کے قوانین الگ الگ ہیں۔ایک ریاست میں کسی چیز کی اجازت ہے تو دوسری ریاست میں وہ چیز ممنوع ہے لیکن تمام 50 ریاستیں امریکہ کے پرچم تلے متحد اور امریکی حیثیت کی حامل ہیں۔ 
23، مارچ1940ء کو پیش کی جانے والی قرارداد لاہور کی یاد میں 1960ء کی دہائی میں منٹوپارک لاہورمیں میناربھی تعمیرکیاگیا۔ جس کاسنگ بنیاد23مارچ 1960ء کورکھاگیا اوریہ 21 اکتوبر1968ء کومکمل ہوا۔ ابتداء میں اس مینار کو ”یادگارپاکستان“ کا نام دیا گیا تھا لیکن جب باشعور لوگوں نے نشاندہی کی کہ یادگار کسی کی فوت ہونے پر تعمیر کی جاتی ہے تو”یادگارپاکستان“کا نام تبدیل کرکے ”مینارِ پاکستان“ رکھا گیا۔ 
اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ جب ہندوستان میں 1946ء میں عام انتخابات ہوئے تو قائداعظم کی صدارت میں مسلم لیگ نے بھی ان انتخابات میں حصہ لیاتھا۔ان انتخابات کے نتیجے میں کانگریس کے علاوہ آل انڈیامسلم لیگ کے رہنمابھی کامیاب ہوئے۔امورمملکت چلانے کے لئے وزارتوں کی تقسیم ہوئی تو آل انڈیامسلم لیگ کے رہنما خان لیاقت علی خان ہندوستان کے وزیرخزانہ بنائے گئے۔ وہ1947ء تک اس منصب پر فائز رہے۔قابل غوربات یہ ہے کہ اگر قائداعظم محمدعلی جناح برصغیرکے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کے حامی ہوتے تو مسلم لیگ 1946ء کے انتخابات میں حصہ کیوں لیتی؟ 
بعد میں دوقومی نظریہ کے تحت برصغیرکے تمام مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن پاکستان کامطالبہ سامنے آیا۔ 1947ء میں پاکستان معرض وجود میں آگیا۔دو قومی نظریہ کے تحت پاکستان میں برصغیرکے تمام مسلمانوں کوآباد کیا جاناچاہیے تھااورہندوستان کے تمام مسلمانوں کو پاکستان میں رہنے کی اجازت ہوتی لیکن ایسا نہیں ہوا اور 1952ء میں پاکستان کی سرحدیں ہندوستان کے مسلمانوں کیلئے بند کردی گئیں اوراس طرح دوقومی نظریئے کی نفی کردی گئی۔
 بانیان پاکستان کے ساتھ ناانصافیاں کی گئی اورتعصب ونفرت میں پاکستان دولخت کردیا گیا۔ کرپٹ اور طاقتور اقتدارمافیا آج باقیماندہ پاکستان کو توڑنے میں لگی ہوئی ہے۔ جو سیاسی رہنماء تاریخی حقائق بیان کرتا ہے اسے الطاف حسین کی طرح یاتو جلاوطنی اختیارکرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے یا قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ پاکستان کے عوام کو عقل وشعوردے،ان میں شعوری بیداری پیدا ہو اور وہ پاکستان سے  اس جبرکے نظام کے خاتمے کیلئے اتحاد ویکجہتی کامظاہرہ کریں۔
برصغیرکی تاریخ کے حوالے سے میری فکری نشستوں کاسلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ 

 الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 401  ویں فکری نشست سے خطاب
10، مئی 2026ء


5/15/2026 8:05:31 AM