Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

انگریزوں کی سازش اورتحریک پاکستان کی تاریخ ……کیا پاکستان حقیقی طور پرآزاد ہے؟ الطاف حسین


 انگریزوں کی سازش اورتحریک پاکستان کی تاریخ  ……کیا پاکستان حقیقی طور پرآزاد ہے؟  الطاف حسین
 Posted on: 8/17/2026

انگریزوں کی سازش اورتحریک پاکستان کی تاریخ  ……کیا پاکستان حقیقی طور پرآزاد ہے؟  الطاف حسین #یہ_کیسی_آزادی_ہے پاکستان کو قائم ہوئے 79سال ہوچکے ہیں لیکن سوال یہ ہےکہ کیا 79سال بعد بھی پاکستانی آزادہیں؟کیا وہ اپنے خیالات کا اظہارکرنے اوراپنے حقوق اورانصاف کے حصول کے لئے آوازاٹھانے میں آزاد ہیں؟ قیام پاکستان کی اصل تاریخ کومسخ کرکے پیش کیاجاتاہے، ہمیں پاکستان کی اصل تاریخ کو سمجھنا ہوگا۔ سچ کڑوا ہوتا ہے اورہمیں حقائق سے آگاہی کے لئے سچ کوسننااوراسے تسلیم کرناچاہیے خواہ وہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو۔ تاریخ یہ ہے کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان صدیوں سے اپنے مذہب، کلچر، ثقافت، رہن سہن، زبان، فنون لطیفہ کے ساتھ ایک ساتھ رہتے چلے آئے تھے، وہ ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں، تقریبات اور رسومات میں بھی شریک ہوتے، ہندو مسلم کی کوئی تفریق نہیں تھی۔ پھر اچانک یہ کیسے خیال آگیا کہ مسلمانوں کوہندوؤں سے آزادی اورعلیحدہ وطن چاہیے؟   مسلمانوں نے ہندوستان میں کئی سو سال حکومت کی تھی اورانگریزوں نے مسلمانوں سے حکومت چھین کر ہندوستان پر قبضہ کیاتھا، اس قبضہ کے خلاف ہندوستان کے عوام نے 1857ء کی جنگ آزادی لڑی تھی۔ اس میں صرف مسلمان ہی شامل نہیں تھے بلکہ ہندو، سکھ اوردیگرمذاہب کے ماننے والے بھی شامل تھے۔ جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے ہندوستان پرمکمل قبضہ توکرلیا تھا لیکن اس قبضہ کو مستحکم کرنےکے لئے انہوں نے Divide and Rule یعنی” لڑاؤ اورحکومت کرو“ کی پالیسی اپنائی۔انگریزوں کو معلوم تھاکہ ہندوستان میں آبادی کے لحاظ سے ہندوؤں کی اکثریت ہے اور مسلمان اقلیت میں ہیں لہٰذا انگریزوں نے ہندوؤں کوآگے رکھنے کےلئے بہت سے اقدامات کئے۔انہیں جدیدعلوم کے میدان میں آگے لایا گیا جبکہ مسلمانوں کو جدید علوم سے دور رکھنے کے لئے مذہبی تعلیمات کی طرف راغب کیاگیا، اس سلسلے میں بڑے بڑے دینی مدرسے قائم کرائے گئے، دارالعلوم دیوبند اور بریلوی دینی مدرسے قائم کرائے گئے۔کیونکہ یہ ایک کلیہ ہےکہ اگر کسی قوم کو کمزور کرناہو اورانہیں پستی میں رکھنا ہو توان کے اندرمذہبی جنونیت اور انتہاپسندی بھردی جائے تووہ قوم پیچھے رہ جاتی ہے۔  چونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی اور انہیں یہ ڈر تھا کہ کہیں مسلمانوں کاکوئی ایساگروہ تیارنہ ہوجائے جو ان کے قبضے کے خلاف انگریزوں کے لئے مشکل کاسبب بنے لہٰذا انگریزوں نےمسلمانوں کو بریلوی اور دیوبندی کی بنیاد پر تقسیم کیا۔   انگریزوں نے ایک پالیسی تحت باقاعدہ منصوبہ بند ی اوربڑی باریک بینی کے ساتھ ہندوستان میں تقسیم کی، ایک طرف مسلمانوں کی طاقت کومسلکی بنیاد پر دوحصوں میں تقسیم کیا اور دوسری طرف ہندوستان کے عوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے لئے 1909ء میں مردم شماری کرائی اوراس کے فارم میں مذہب کاخانہ رکھااور پھر ہندواورمسلمان کی بنیادپر جداگانہ طریقہ انتخاب متعارف کرایا۔ ظاہر ہے کہ جب مذہب کی بنیاد پر الیکشن کرائے جائیں گے توہندو ہندو کوووٹ دے گااور مسلمان مسلمان کے پیچھے جائے گا۔ جداگانہ طریقہ انتخاب کی بنیاد پر 1946ء کے انتخابات کرائے گئے۔ ستمبر 1939ء میں جنگ عظیم دوم شروع ہوئی جو1945ء تک جاری رہی۔چھ سا ل تک جاری رہنے والی جنگ عظیم دوم کے نتیجے میں سلطنت برطانیہ تباہ حال ہوچکی تھی اورانگریزوں کومعلوم ہوگیاتھاکہ وہ برصغیرپراپناقبضہ برقرار نہیں رکھ سکیں گے اورانہیں ہندوستان چھوڑکرجانا ہوگا۔ انگریزنہیں چاہتے تھے کہ آزادی کے بعد ہندوستان ایک بہت بڑے اورطاقتور ملک کی حیثیت سے سامنے آئے لہٰذا انگریزوں نے منصوبہ بنایا کہ اس خطے میں ایک ایساملک بھی ہونا چاہیے جوانگریزوں کے زیراثرہو، جہاں ان کاکنٹرول ہواورجہاں سے وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے اپنے معاملات چلاتے رہیں اوروہ ملک برطانوی مفادات کے لئے کام کرے۔ لہٰذا انگریزوں نے تقسیم ہندوستان کے منصوبے پر کام شروع کیا۔ تقسیم کے لئے انہو ں نے دوقومی نظریہ متعارف کرایا کہ ہندواورمسلمان الگ الگ قومیں ہیں اوروہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اسلئے ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن کی ضرورت ہے۔اسی سلسلے میں ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی پالیسی کے تحت ہندو مسلم خونریزفسادات کرائے گئے۔ انگریزوں نے علیحدہ وطن کے لئے وہ ان علاقوں کوچناجہاں کے لوگ سب سے زیادہ انگریز وں کی فوج میں تھے، جو سلطنت برطانیہ کے سب سے زیادہ وفادار اوراطاعت گزارتھے، جنہیں Martial Race قراردیا جاتا تھا۔ ایک تاریخی سچائی یہ بھی ہے کہ قیام پاکستان کی تحریک ہندوستان کے مشرقی بنگال اور مسلم اقلیتی صوبوں میں چلی جہاں تحریک پاکستان کے سلسلے میں آل انڈیامسلم لیگ کے جلسے جلوس، مظاہرے ہوئے، جہاں لوگوں نے لازوال قربانیاں دیں، پھانسیوں اورکالاپانی کی سزائیں بھگتیں، قیدوبند کی صعوبتیں جھیلیں، سوال یہ ہے کہ ہندوستان کے جن علاقوں میں تحریک پاکستان چلی، کیاپاکستان ان علاقوں میں بنایا گیا؟کیا یہ مذاق نہیں کہ جن علاقوں میں پاکستان کی تحریک چلی وہ علاقے توپاکستان میں شامل نہیں ہوئے جبکہ وہ علاقے جہاں تحریک پاکستان نہیں چلی، جہاں کے لوگوں نے قیام پاکستان کے لئے کوئی قربانی نہیں دی وہاں پاکستان بنایا گیا۔
تحریک پاکستان کے دوران برصغیرکے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کیلئے نعرہ لگایا گیا کہ پاکستان برصغیرکے 10 کروڑ مسلمانوں کا وطن ہوگا، جب پاکستان بن گیا تو کیا پاکستان برصغیرکے 10 کروڑ مسلمانوں کی پناہ گاہ، ان کاوطن اوران کی زمین بن سکا؟ جومسلمان آج بھی ہندوستان میں رہ رہے ہیں،مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان کیلئے پاکستان کی سرحدیں کھولنی چاہیے تھیں لیکن 1953ء میں پاکستان کی سرحدیں بھارت کے مسلمانوں کیلئے بند کردی گئیں اور اسی دن ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ سامنے آگیا تھا اوران کے پاس اس کے سوا کیاچارہ باقی رہ گیا تھا کہ وہ ہندوستان میں ہندوؤں کے رحم وکرم پر رہیں۔مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے پاکستان کی تحریک چلائی، جانی ومالی قربانیاں دیں لیکن جن علاقوں میں پاکستان کی تحریک نہیں چلی ان علاقوں کے لوگوں کو پاکستان بنا کر دیدیا گیا۔  پاکستان بظاہر ایک آزاد اورخودمختار ملک ہے لیکن حقیقت میں وہ آزادملک نہیں ہے، یہ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے دن سے لیکر آج کے دن تک پاکستان کے فیصلے پہلے برطانیہ میں ہوتے تھے اوراب امریکہ میں ہوتے ہیں، پاکستان کا چیف آف آرمی اسٹاف کون بنے گا، آئی ایس آئی کاسربراہ کون ہوگا اور فوج کے افسران کی ترقی کیسے ہوگی یہ سارے فیصلے امریکہ اوربرطانیہ میں ہوتے ہیں۔جب تک پاکستان بیرونی طاقتوں کی غلامی سے آزادنہیں ہوگا، پاکستان کو حقیقی آزادی حاصل نہیں ہوگی۔  الطاف حسین ٹک ٹاک پر 450 ویں فکری نشست سے خطاب 16، اگست 2026ء  (مکمل فکری نشست سنئیے 👇)
 


8/20/2026 10:22:18 AM