ایم کیوایم کے کارکنوں محمدناصراورتسلیم شیخ کو عدالت کے حکم پر رہاہوتے ہی کراچی سینٹرل جیل کے باہر سے پولیس نے دوبارہ حراست میں لے لیا
محمدناصراورتسلیم شیخ ان گرفتارشدگان میں شامل تھے جنہیں 11جون کواے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس منانے کی تقریب میں شرکت کرنے پر پولیس نے گرفتارکیا گیا تھا
7 جولائی 2026ئ
ایم کیوایم کے کارکنوں محمد ناصراورتسلیم شیخ کومنگل کی شب عدالت کے حکم پر رہا ہوتے ہی کراچی سینٹرل جیل کے باہر سے پولیس نے دوبارہ حراست میں لے لیا۔ تفصیلات کے مطابق محمدناصراورتسلیم شیخ ان گرفتار شدگان میں شامل تھے جنہیں 11جون 2026ء کو آئی آئی چندریگر روڈ کے علاقے میں یوٹیوبر اوروی لاگرتحسین عباسی کے دفترمیںاے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس منانے کی تقریب میں شرکت کرنے پر پولیس نے گرفتارکیا تھا جن میں لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئر رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ ، سلمان ایڈوکیٹ ، یوٹیوبر تحسین عباسی اوردیگربزرگ ارکان شامل تھے جن پر نقص امن اوردہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کردیے گئے تھے۔ عدالت نے ان گرفتارشدگان کی ضمانتیں منظورکرلی تھیں ۔ منگل کی شب ایک بجے جب کراچی سینٹرل جیل سے محمدناصراورتسلیم شیخ کورہا کیا گیا توان کی فیملیزانہیں لینے کے لئے موجود تھیں۔ جیسے ہی محمد ناصر اورتسلیم شیخ جیل سے باہر نکلے تووہاں موجود پولیس نے انہیں دوبارہ حراست میں لے کرلاپتہ کردیا۔
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے محمدناصر اورتسلیم شیخ کی دوبارہ گرفتاری کی شدیدمذمت کی ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہاکہ عدالت کے حکم پر رہائی کے باوجود محمدناصراورتسلیم شیخ کودوبارہ حراست میں لیکراور جبراً لاپتہ کرکے عدالتی حکم کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ محمد ناصراورتسلیم شیخ کوفی الفوررہا کیا جائے۔رابطہ کمیٹی نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ انسانی حقوق کی اس کھلی خلاف ورزی کانوٹس لیں اوراس پر آواز احتجاج بلند کریں۔